بحران کا خاتمہ ضروری ہے ،مذاکرات اور مشاورات سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے ،سراج الحق

بحران کا خاتمہ ضروری ہے ،مذاکرات اور مشاورات سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے ...

  

                             فیصل آباد(بیورورپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں جاری بحران کا خاتمہ ضروری ہے مذاکرات اور مشاورت سے درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے اختلاف رائے کو دشمنی عداوت اور ضد کی بجائے بات چیت دلائل اور ٹھنڈے شعوری مزاج کے ذریعے فیصلے کی منزل تک لایا جائے 68سال سے ملک اور قوم کو وڈیروں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے یرغمال بنا رکھا ہے قوم کا سرمایہ لوٹ کر بیرون ممالک جمع کر رکھا ہے قیام پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے اور ان کے بچے انصاف تحفظ روزگار تعلیم علاج سے محروم ہیں پاکستان کا کھانے والے پاکستان کے دشمنوں کے غلا م بنے ہوئے ہیں قومی آزادی اور وقار اغیار کے پاس گروی رکھ دیاگیا ہے مخلص دیانت دار جرات مند اور محنت کش قیادت ہی عام آدمی کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے اور انہیں حل کر سکتی ہے فیصل آباد کے تاریخی میدان اقبال پارک دھوبی گھاٹ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ یہ درست ہے کہ انتخابات کے شفاف ہونے پر تحفظات ہیں انتخابی عمل میں دھاندلی کی تحقیقات ہونی چاہیے عمران خاں اور علامہ طاہرالقادری کو احتجاج پرامن مارچ اور احتجاجی دھرنے کا حق حاصل ہے مگر مذاکرات کے دروازے بند کر کے ملک اور قوم کو مزید امتحان اور بحران میں نہ ڈالا جائے مخالف سیاسی گروہ مخالف افواج نہیں ہیں اختلاف اور سیاسی گروہ بندی کو دشمنی نہ بنایا جائے ہم فیصل آباد کے عوام کی تائید و محبت لیکر اسلام آباد جائینگے اور حکومت کو عمران خان اور طاہرالقادری کو محبت اور مذاکرات کی فضا کیلئے قائل کرینگے سراج الحق نے کہا کہ حالات بدل رہے ہیں آج پولیس بدل رہی ہے ہفتے بھر کی سیاسی سرگرمیوں کے دوران اس نے لاٹھی اور گولی کا استعمال نہیں کیا عدلیہ غیر جانبداری اور انصاف کا اظہارکر رہی ہے فوج سیاسی معاملات کو سیاسی اندا ز اور مذاکرات سے حل کرنے کی خواہاں نظر آئی ہے وہ سیاسی امور میں مداخلت نہیں چاہتی اگر نہیں بدلا تو امریکہ کا اسلام اور پاکستان دشمنی رویہ نہیں بدلہ وہ ہمارے معاملات میں خواہ مخواہ ٹانگ اڑارہا ہے مصر میں اسلامی مزاج کی کامیابی اسے ہضم نہیں ہوتی منتخب صدر مرسی کی بجائے آمر اور ظالم جنرل سیسی کی پشت پناہی امت مسلمہ سے ان کی آزادی اور جینے کا حق چھینا گیا اب امریکہ افغانستان میں شکست کھا کر نکل رہا ہے مگر سازشوں کے جال بننے سے باز نہیں آ رہا ہمیں ہوش مندی سے کام لینا ہو گاامیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان بنے 68سال گزر گئے ہمیں یہاں پنجابی سندھی بلوچی پختون مہاجر تو نظر آتے ہیں پاکستانی نظر نہیں آتے ہمیں پاکستان کی ضرورت‘ پاکستانی سوچ کی ضرورت ہے ماﺅں ‘بہنوں‘ بیٹیوں‘بچوں ‘بزرگوں‘نوجوانوں کی قربانیوں سے حاصل کئے گئے ملک پاکستان میں 68سال سے مفاد پرست لیٹرے اور خودغرض حکمران مسلط چلے آ رہے ہیں عوام کی طاقت سے ان سے جان چھڑانا ہو گا ہم نے جمہوریت بھی دیکھی آمریت بھی پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام بھی آزمائے مگر ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہی ہوا خدا نے پاکستان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے یہاں تیل کے ذخائر ہیں گیس کے ذخائر ہیں‘ کوئلے کے ذخائر ہیں‘ سونے کے ذخائر ہیں باصلاحیت لوگ موجود ہیں ہمارے محنت کش کسان مزدور خون پسینہ ایک کرنے والے جفاکش اور بہادر ہیں مگر ہم پھر بھی مقروض ہیں غریب کے بچے دو وقت کی روٹی ‘انصاف‘ تعلیم‘ علاج‘ روزگار‘ تحفظ سے محروم ہیں سراج الحق نے کہا کہ اسلام آبادمحض حکمرانوں‘ وڈیروں‘ جاگیرداروں کا نہیں ہے یہ عوام کے سرمائے سے بنایا گیا عوام کا پاکستان کا اسلام آباد ہے یہاں آگ اور خون کا کھیل نہیں ہوناچاہیے امن وسکون احساس محبت اتحاد و بھائی چارے کا ماحول ہونا چاہیے ہم نے پہلے بھی کوششیں کی ہے اب پھر کوشش کریں گے ہم نے عمران خان سے ان کے گھر بنی گالا میں ملاقات کی وزیر اعظم سے آصف زرداری سے اور شہباز سے بھی ملے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی گورنر پنجاب سے بھی ملاقات کی محمود اچکزئی سے ملے اور ہاتھ جوڑ کر بحران اورتلخیوں کو سمیٹنے کی اپیل کی ہے اگر ہمیں اور ہم جیسے دیگر افراد کو ثالثی کا اختیار دیا جائے تو ہم خدا کو گواہ بنا کر بنا کر عدل و انصاف پر مبنی معاملہ فہمی کروا سکتے ہیں اختیارات اور اقتدار ہمیشہ رہنے والے نہیں کردار ہمیشہ رہتے ہیں اس لئے لڑانے کی بجائے ملانے کا کردار ادا کرنا وقت کی ضرورت ہے سراج الحق نے کہا کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں انہیں سکول سے اس لئے نکال دیا گیا کہ وہ کتابیں اور بستہ نہیں لے سکتے تھے ان کے والد کو مشورہ دیا گیا کہ انہیں کسی ڈرائیور کے ساتھ لگا دیا جائے تاکہ ڈرائیونگ سیکھ کر روٹی کما سکے کسی نے کہا کہ مستری کے ساتھ لگا کر ٹریننگ دلائی جائے میں ان کے منہ دیکھتا رہا انہوں نے مزدوری کر کے تعلیم حاصل کی دو مرتبہ سینئر وزیر رہا دو بار 406بلین کا بجٹ بنا کر پیش کیا اور آج بھی پشاور میں کرائے کے گھر میں رہتے ہیں سفر کے دوران ایک مرتبہ 300 فٹ گہری کھائی میں گاڑی جا گری اللہ نے نئی زندگی دی تو اللہ سے وعدہ کیا کہ اسلام اور انسانیت کی سربلندی کیلئے پورے اخلاص کے ساتھ کام کرونگاسراج الحق نے کہا کہ فیصل آباد کے ہزاروں لوگوں نے بڑی تعداد میں ماﺅں‘ بہنوں‘ بیٹیوں نے ان کا شاندار اور پرجوش استقبال کر کے ان کے حوصلے اور جذبے کو اور تقویت بخشی ہے نظریہ پاکستان کے عملی نفاذ کے لئے ہمیں متحد اور منظم جدوجہد کرنا ہو گی اسلام کا نظا م حیات ہی انصاف اور تحفظ اور خوشحالی امن وسکون فراہم کر سکتا ہے وہ لوگوں کا پیار اور محبت اعتماد ساتھ لیکر ایک بار پھر اسلام آباد محبتوں کا تحفہ لیکر جائیں گے انشاءاللہ نفرتوں اور تلخیوں کے بادل چھٹ جائیں گے فکر مند اور پریشان محب وطن عوام کی امیدیں رنگ لائیں گی جلسہ سے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی پنجاب اسمبلی اور امیر جماعت اسلامی ضلع فیصل آباد انجینئر عظیم رندھاوا نے بھی خطاب کیا

مزید :

صفحہ اول -