عدالت عظمٰی کو یقین دہانی، حکومت کا بیان.... احترام لازم!

عدالت عظمٰی کو یقین دہانی، حکومت کا بیان.... احترام لازم!
عدالت عظمٰی کو یقین دہانی، حکومت کا بیان.... احترام لازم!
کیپشن: 1

  

تجزیہ :۔: چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریکنے عدالت عظمٰے کو یقین دلایا کہ ان کے مارچ اور دھرنے پر امن ہیں اور ابھی تک کسی ایک کارکن نے معمولی نقصان بھی نہیں کیا۔ عدالت عظمٰے نے یہ رٹ درخواست جو عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی استدعا کے ساتھ دائر کی گئی تھی نمٹادی کہ عدالت سیاسی امور میں مداخلت نہیں کرتی اور انتظامی معاملات کی ذمہ دار حکومت ہے، اس درخواست کی سماعت کے دوران فاضل بنچ کے ارکان نے ایسے ریمارکس ضرور دئیے جن کے ذریعے شاہراہ دستور کی صورت حال اور عدالت عظمٰے تک کی راہداری اور آمدورفت میں مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا۔

انتظامی امور کے حوالے سے بھی بہت کنفیوژن پیدا کیا گیا جو ایسی تحاریک کا طریق کار ہوتا ہے کہ حکومت نے کریک ڈاﺅن کا منصوبہ بنایا ہے جسے پہلے آئی جی نے ناپسند کیا اور اب قائمقام آئی جی نے بھی انکار کردیا ہے، اس پر حکومت کو ایک مرتبہ پھر پچھلے قدموں پر دفاعی انداز میں کھیلنا پڑا اور وزیراعظم سے لے کر حکومتی ترجمان کو بار بار کہنا پڑا کہ ایسا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں ہے، سابق آئی جی تو خود چھٹی پر گئے ہیں۔

جہاں تک اس امر کا تعلق ہے تو غیر جانبدارانہ طور پر تجزیہ کریں تو ایسا ممکن بھی نہیں کہ دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے دھرنے میں خواتین اور بچوں کی بہت بڑی تعداد شامل کی ہوئی ہے، جہاں تک پاکستان عوامی تحریک کا تعلق ہے تو ڈاکٹر طاہرالقادری کے کنٹینر کے ارد گرد خواتین کی بھاری تعداد ہے ان میں بچیاں تو رہیں الگ ننھے اور شیر خوار بچے بھی ہیں اور یہ سب حفاظتی دیوار کا کام دیتے ہیں، اسی طرح عمران خان کے ہر اول میں بھی خواتین ہیں اور ان کے ساتھ چھوٹی عمر کی بچیاں بھی ہیں ایسے میں کریک ڈاﺅن سے صورتحال بدتر ہوسکتی ہے اور عالمی مسئلہ بن جائے گا اس لئے کریک ڈاﺅن ممکن نہیں، البتہ اعصاب کی جنگ ضرور ہے کہ حکمرانوں نے اب واضح کردیا ہے کہ وہ استعفےٰ والا مطالبہ اور اسمبلیوںکو تحلیل کرنے والی بات ماننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور اس میں اسے تمام پارلیمانی جماعتوں اور ملک کے دوسرے طبقات کی حمایت حاصل ہے۔ یوں حکومت دھرنے کے طویل ہونے سے خائف نہیں کہ اس سے ان کے اپنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ایک ہی جگہ اتنے دنوں سے رہنا اور ضروریات زندگی سے محروم ہوکر ایک نئی اور بدترقسم کے حالات سے گزرنا بہر حال تکلیف دہ امر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب دونوں جماعتیںکچھ ہونے یا کر گزرنے کی منتظر ہیں، لیکن حکمرانوں کی مصروفیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس طوالت سے مطمئن ہیں، حساس ریاستی اداروں اور عمارتوں کی حفاظت کا دہرا تہرا نظام ترتیب دے دیا گیا ہے اور آخری ذمہ داری فوج کی ہے جو صرف اور صرف خصوصی حفاظتی فرائض کے لئے ہے۔

انہی حالات میں جمعرات کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ہفتہ کی شب تک کی امید دلائی ہے کہ فیصلہ ہوجائے گا جبکہ سابق وزیراعظم، سینیٹر اور سینئر تجزیہ کار سیاست دان چودھری شجاعت حسین کہتے ہیں کہ فوج نے حکمرانوں کو اڑتالیس گھنٹوں کی مہلت دی ہے، جس کے بعد قومی حکومت بنے گی اور ریفرینڈم کے ذریعے یہ ہوگا۔ چودھری شجاعت محترم ہیں ان کی اتحادی جماعت کی طرف سے غیر آئینی کام نہ کرنے کا یقین بھی دلایا گیا ہے وہ اس ڈیڈ لائن کی بات کرتے ہیں تو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ یہ سب آئین کی کن شقوں کے تحت ہوگا یا پھر وہ کھل کر کہیں کہ ماورائے آئین ہوگا اگر ایسا ہے تو پھر صورتحال کیا ہوگی، چونچ اور دم غائب ہوجائے گی۔ سب لڑتے رہ جائیں گے اور کوئی اور سب کچھ لے جائے گا لیکن یہ ذرا مشکل کام ہے۔

یہاں آئینی اور غیر آئینی کی بہت بات چلی ہوئی ہے، اینکر حضرات اور الیکٹرانک میڈیا کی مہربانی سے کسی سنجیدہ فکر شخص کی بات پر دھیان نہیں دیا جاتا، سچ کہا محترم مجیب الرحمان شامی نے کہ وزیراعظم سے استعفیٰ اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کا مطالبہ کرنا غیر آئینی نہیں، اگر ایسا ہوتا تو آج عدالت عظمٰے واضح فیصلہ دے دیتی، شامی صاحب کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ مطالبہ کرنا غیر آئینی نہیں البتہ آئین میں دئیے گئے طریق کار کے خلاف دباﺅ کے تحت استعفیٰ لینا یا اسمبلیاں تحلیل کرانا ضرور غیر آئینی ہے۔

آئین میں وزیراعظم کو فارغ کرنے کے لئے عدم اعتماد کا طریقہ ہے، اسمبلیوں کی تحلیل کے لئے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی ”ایڈوائس“ لازم ہے اس کے بعد ہی مقررہ وقت میں اسمبلیاں تحلیل ہوتی اور پھر الیکشن ہوتے ہیں جو نوے روز کے اندر الیکشن کمشن نے کراناہوتے ہیں اور نگران حکومت بنانا صدر مملکت اور صوبائی گورنروں کی صوابدید ہے جو سب سے مشاورت کے بعد بناتے ہیں۔

اس آئینی پوزیشن کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں تو واضح ہوجائے گا کہ یہ سب دھرنے آئین کے اندر ممکن نہیں، اس لئے ہماری تو عاجزانہ رائے یہی ہے کہ دھرنے کے دباﺅ کے تحت انتخابی اصلاحات، نیا الیکشن کمشن اور نیا احتسابی نظام بنوالیں، قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور دنیا ٹی وی کی تجاویز کے مطابق سمجھوتہ کرلیں، پھر انتخابی عمل کی تحقیقات میں بڑا گھپلا ظاہر ہوگا تو نئے انتخابات کا مطالبہ بھی معقول ہوگا، اس میں ان دونوں جماعتوں کو بہت ساری سیاسی حمایت بھی حاصل ہوجائے گی اس لئے اس بحران کو کسی المیئے سے پہلے ختم کریں اور عوام کو سکھ کا سانس لینے دیں۔

آج فریقین سے یہ درخواست بھی کرنا ہے کہ تحمل کی بات ہے تو اسے اسی انداز میں رکھیں، ملتان میں شاہ محمود قریشی کے گھر پر توڑ پھوڑ کے سلسلے میں مقدمہ کا اندراج بہتر عمل سہی لیکن ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو غور کرنا ہوگا کہ وہ حکمران جماعت ہے۔ جوابی جلسوں اور مظاہروں کا فیصلہ شاید بہتر نہ ہو کہ اس سے تصادم کا اندیشہ ہے، اسی طرح عمران خان اور طاہرالقادری سے اپیل کہ وہ احتجاج کو پھیلانے سے گریز کریں، دھرنوں کے دباﺅ پر ہونے والی بات چیت سے مقاصد حاصل کریں، دونوں کے جائزمطالبات مانے جاسکتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -