مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی تو استعفے سپیکر تک نہیں پہنچیں گے

مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی تو استعفے سپیکر تک نہیں پہنچیں گے
مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی تو استعفے سپیکر تک نہیں پہنچیں گے
کیپشن: 1

  

تجزیہ :۔ سعید چودھری

                 پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے اپنے استعفے قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں جمع کروادیئے ہیں۔یہ استعفے سپیکر قومی اسمبلی کی بجائے قومی اسمبلی کے سیکرٹری کے حوالے کئے گئے ۔دوسری طرف تحریک انصاف نے دوبارہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ایسی تجویز کی بھی اطلاعات ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی کی انکوائری تک وزیراعظم میاں محمد نواز شریف رخصت پر چلے جائیں تاکہ انکوائری پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ اس تازہ صورتحال میں تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں اور "مقتدر حلقوں "کی طرف سے حکومت کو 48گھنٹے کی ڈیڈ لائن دینے کی افواہوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

اگر تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں اور ان کے دوران مثبت پیش رفت کے اشارے ملتے ہیں تو پھر تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفے قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں ایک میز سے دوسری میزکے درمیان گھومتے رہیں گے اور سپیکر تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔اگر یہ استعفے سپیکر اسمبلی کی میز پر پہنچ جاتے ہیں اورمتعلقہ ارکان اسمبلی اپنی استعفوں کی تصدیق کردیتے ہیں توپھر ان کی نشستوں کو آئینی طور پر خالی تصور کیا جائے گا۔آئین کے آرٹیکل 64میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا کوئی رکن سپیکر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنی نشست سے استعفا دے سکے گا اور اس کے بعد اس کی نشست خالی ہوجائے گی۔آئینی طور پر رکن اسمبلی کا استعفا دینا کافی ہوتا ہے اسے منظور کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ استعفا از خود منظور شدہ تصور کیا جاتا ہے ۔اگرکوئی رکن اسمبلی خود پیش ہوکر سپیکر کو استعفا دے تو اس کی نشست اسی وقت خالی ہوجائے گی جس پر آئین کے آرٹیکل 224(4)کے تحت 60روز کے اندر ضمنی الیکشن کروانا ضروری ہے ۔تحریک انصاف کی طرف سے پیش کئے جانے والے استعفوں کے حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ ارکان اسمبلی نے خود پیش ہوکر استعفے نہیں دیئے بلکہ یہ استعفے ان کے راہنماﺅں نے قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ تک پہنچائے ہیں ۔ان استعفوں کو سپیکر قومی اسمبلی تک پہنچنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں ،دو روز تک تو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ چھٹی کے باعث ویسے ہی بند ہوگا جس کے بعد ان استعفوں کو سپیکر تک پہنچانے کے لئے کاغذی کارروائی شروع ہوگی اگر سپیکر کو استعفے منظور کرنے کی جلدی نہ ہوئی تو کاغذی کارروائی ادھوری رہے گی ۔اس کے بعد بھی سپیکر قومی اسمبلی متعلقہ ارکان اسمبلی کو ان کے استعفوں کی تصدیق کے لئے اپنے چیمبر میں طلب کرسکتے ہیںاور انہیں اپنے سامنے دوبارہ استعفوں پر دستخط کرنے کے لئے کہہ سکتے ہیں ۔اب اس بات کا انحصار مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر ہے کہ استعفے سپیکر قومی اسمبلی کی میز تک پہنچتے ہیں یا نہیں ؟

جہاں تک وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کا تعلق ہے یہ مطالبہ پورا ہونے والا نہیں اور جہاں تک تحریک انصاف کے اس مطالبے میں ممکنہ لچک کے مظاہرے کی اطلاعات کا تعلق ہے اس حوالے سے آئین میں وزیراعظم کی رخصت سے متعلق کوئی آرٹیکل موجود نہیں تاہم ان کے رخصت پر چلے جانے میںکوئی آئینی قباحت بھی نہیں ہے کیونکہ آئین میں اس حوالے سے کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے ۔وزیراعظم کی رخصت یا ملک سے باہر ہونے کے دوران قائم مقام وزیراعظم کے تقرر کا بھی آئین میں تصور موجود نہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ رخصت کے دوران بھی وزیراعظم اپنے عہدہ پر موجود ہوتا ہے ۔اگر وزیراعظم کے رخصت پر چلے جانے کی تجویز کو قبول کرلیا جائے تو یہ اقدام اس صورت میں غیر آئینی نہیں ہوگا کہ وزیراعظم رضاکارانہ طور پر خود کو الیکشن میں دھاندلی کی انکوائری مکمل ہونے تک امور مملکت سے الگ رکھیں ۔اگر الیکشن میں دھاندلی کی انکوائری کے حوالے سے 30روز کی ڈیڈ لائن مقرر کی جاتی ہے تواس دوران وزیراعظم کے الگ رہنے سے عملی طور پر امور حکومت زیادہ متاثر نہیں ہوں گے ۔آئینی طور پر ان امور کی تعداد بہت کم ہے جن کی انجام دہی کے لئے وزیر اعظم یا کابینہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے ۔سلطنت کے روز مرہ کے امور چلانے کے لئے وزیراعظم یا کابینہ کی منظوری ضروری نہیں ۔اب یہاں تک ان اطلاعات یا افواہوں کاتعلق ہے کہ حکومت کے لئے 48گھنٹے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے ،اگر مقتدر حلقوں نے نوازشریف حکومت کو گھر بھیجنے کا حتمی فیصلہ کررکھا ہے تو پھر مصالحتی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا ۔بصورت دیگر دھرنے دینے والوں کی طرف سے لچک دکھائی جانے کے امکانات موجود ہیں ۔قرائن سے تو لگتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے ابھی تک دوراہے پر کھڑے ہیں اور تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے فارمولے پر عمل پیراہیں ۔

مزید :

تجزیہ -