سابق صدر زرداری کا دورہ ،قوم کی نظریں اسلام آباد کے بعد لاہور پر مرکوز

سابق صدر زرداری کا دورہ ،قوم کی نظریں اسلام آباد کے بعد لاہور پر مرکوز ...

  

تجزیہ: سہیل چوہدری

                    اگرچہ شاہراہ دستور پر پاکستان عوامی تحریک کا انقلاب اور پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ دھرنوں کی شکل میں موجود ہے یہ دھرنے شاہراہ دستور پر دن بھر بکھرے ہوئے اور تتر بتر گروہوں کی شکل میں بکھرے رہتے ہیں لیکن جب ان دھرنوں کے قائدین کپتان یا ڈاکٹر قادری کی رونمائی ہوتی ہے تو شرکاءدھرنا مجتمع ہوجاتے ہیںاگرچہ ان دھرنوں کے قائدین جب مظاہرین سے خطاب کےلئے جلوہ گر ہوتے ہیں تو ان کے لب ولہجہ میں حکمرانوں کے خلاف گھن گرج موجود ہوتی ہے لیکن اتنے دن گزرنے کے بعد بالخصوص ایمپائر کی جانب سے اب تک انگلی تو نہ اٹھنے لیکن فریقین کے لئے ریڈ لائنوں کے تعین کے بعد صورتحال میں نمایاں تبدیلی ہے اب دھرنوں کے قائدین کی تقریریں ہوائی فائرنگ کی مانند لگتی ہےں ،اب یہ گھن گرج وہ نہیں جو میدان جنگ کی توپوں سے آتی ہے بلکہ وہ ہے جو سلامی کے لئے چلنے والی توپوں سے آتی ہے ۔اگرچہ کپتان مصر ہیں کہ اتوار کو ”ایمپائر“اپنی انگلی کھڑی کر دیگا جس کے نتیجہ میں وکٹ گر جائے گی لیکن ایسا لگتا ہے کہ کپتان اپنے حامیوں اور شرکاءدھرنا کو مجتمع اوران کا حوصلہ جو ان رکھنے کے لئے ایسے بیانات داغ رہے ہیں در حقیقت ”ایمپائر“شاید انگلی کھڑی تو نہ کرے لیکن اس نے اپنی انگلی سے فریقین کے دائرہ کار کے حوالے سے سرخ لائنیں ضرور کھینچ دی تھیں،جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں تصادم اور تشدد کی راہ ہموار نہیں ہوئی ،حدود و قیود کے اس تعین کے بعد کپتان اور قادری کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ شائد اپنے اہم ترین اہداف جو حاصل نہ کر پائیں لیکن ان کے لئے فوری طورپر ”یوٹرن “لے کر دھرنوں کو ختم کرنے کا اعلان بھی ممکن نہیں تھا ،جس کی وجہ سے دھرنوں کو طوالت دی جارہی ہے ،اگرچہ شاہراہ دستور پر دھرنوں کی اس غیر ضروری طوالت سے حکومت کے لئے انتظامی مسائل پیدا ہورہے ہیں دوسری جانب مناسب انسانی ضروریات کی عدم سہولتوں کی وجہ سے کوئی انسانی المیہ بھی جنم لے سکتا ہے ،لیکن حکومت نے تاحال صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا حتیٰ کہ صبح دفتری اوقات میں شاہراہ دستور پرسرکاری گاڑیوں کی چیکنگ کا نظام بھی پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے منتظمین نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا جس کی وجہ سے اہم سرکاری حکام کو نقل حمل میں دشواری کا سامنا رہا ،پاکستان عوامی تحریک کے منتظمین گاڑیوں اور پیدل حضرات کو خود چیک کرکے گزرنے دے رہے تھے ،اسلام آباد کے باسی شہر کے مفلوج ہونے سے پہلے سے اس صورتحال سے بیزار ہیں۔ عام شہری معمول کے طورپر زندگی گزارنے سے قاصر ہیں حتیٰ کہ اشیائے ضروریہ کا حصول بھی مشکل ہونے لگا ہے ،عوام ٹی وی چینلز دیکھ دیکھ کر بھی تنگ پڑنے لگے ہیں بیورو کریسی سمیت عام شہری اب صورتحال کے خاتمہ کے خواہاں ہیں ،لیکن حکومت شرکاءدھرنا بالخصوص ڈھال کے طورپر استعمال ہونے والی خواتین اور بچوں کی سلامتی کےلئے کسی کریک ڈاﺅن سے گریزاں ہیں،جبکہ ایک روز قبل حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے پانی میں کسی ضرر رساں کیمیائی مادے کی ملاوٹ کی افواہوں کو تصدیق کئے بغیر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سپیکر پر نشر کردیا دوسری طرف کپتان نے آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی کو دھرنوں کے خلاف کسی ممکنہ اپریشن کے معنی پہنا دیئے جس کے بعد سے شرکاءدھرنوں کے چہروں پر آنے والے وقت کے حوالے سے بے چینی کے سائے نظر آرہے ہیں ،اگرچہ ان کی دل جوئی کےلئے علامہ قادری نے قوالی اور کپتان نے پاپ میوزک کا اہتمام کر رکھا ہے ،ایک رات قبل شاہراہ دستور پر کپتان کے کارکن بلند و بانگ میوزک پر خوب تھر تھراتے قادری کے پیرو کار قوالیوں پر سر دھنتے رہے ،کپتان کے دست راست شاہ محمود قریشی نے گزشتہ رات الوداع الوداع وزیراعظم نوازشریف کے نعرے لگو ا کر اپنی دل کی بھڑاس نکالی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹوٹ ٹوٹ کر جڑنے اور جڑ جڑ کر ٹوٹنے والے مذاکرات کا گزشتہ رات دوبا رہ آغاز ہوگیا یہ مذاکرات اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں ،یہ معلوم نہیں کہ یہ مذاکرات کب با معنی ہونگے لیکن جیسے جیسے دھرنوں کی طوالت بڑھتی جارہی ہے ان کی اہمیت بے معنی ہو تی نظرآرہی ہے، کفرٹوٹا خداخداکرکے، مذاکرات کی کامیابی کےلئے فریقین کو ایک ایک قدم پیچھے جانا ہوگاتاہم وزیراعظم یاوزیراعلی کے استعفے کا امکان نہیںہے، لیکن سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ”ویک اینڈ“پر پنڈی اسلام آباد کے نوجوان پارلیمنٹ کے سامنے جاری دھرنوں کا ناٹک دیکھنے پہنچ جاتے ہیں ،ان منچلوں کے آنے سے رونق دوبالا ہوجاتی ہے اس لئے کپتان نے دھرنے کا ایک ویک اینڈ زور دار منانے کےلئے اتوار کو ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے کا عندیہ دیا ہے ،ایک طرف جہاں وفاقی دارالحکومت میں دھرنوں کاویک اینڈ منایا جارہاہے تو دوسری جانب وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آج لاہور میں واقع اپنی رہائش گاہ جاتی امرا ءپر پاکستان پیپلزپارٹی کے کو چیئر مین آصف علی زرداری کو ظہرانے پر مدعو کر رکھا ہے تاکہ مختلف ترکیبوں سے تیار شدہ لاہوری کھانوں کے مزے کے ساتھ ساتھ دھرنوں کی سیاست سے نپٹنے کے لئے کوئی ترکیب تلاش کی جائے تاہم اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف اور شہید بے نظیر بھٹو کے مابین طے پانے والے میثاق جمہوریت سے طاقت لی جائے گی ،جمہوریت کی مضبوطی کا پکوان تیار کیا جائیگا،تاہم یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس وقت موجودہ صورتحال سے متعلق سیاست دان تو سیاست دان ہر میڈیا ہاﺅس اپنے اپنے مرتبان سے بحران کے حل کا فارمولہ پیش کررہاہے ،جبکہ بہت سے لوگ انفرادی سطح پر بھی اپنے اپنے فارمولے پیش کررہے ہیںاگر چہ سابق صدر زرداری پہلے بھی کئی مرتبہ رائے ونڈ جا چکے ہیں لیکن وہ پہلے مدد مانگنے آتے تھے اس بار مدد دینے آرہے ہیں ،لیکن وہ صرف وزیر اعظم نوازشریف کی نہیں بلکہ جمہوریت اور نظام کو بچانے کے لئے مدد کرنے آرہے ہیں،اگرچہ کپتان نے پاکستان بدلنے کے نعرہ پر دھرنوں کا بحران بپا کیا ہے لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جنرل (ر) مشرف کے دور آمریت کے خاتمہ کے بعد یہ بدلہ ہوا پاکستان ہے ،جہاں آزاد عدلیہ ،چوکس اور متحرک میڈیا کی موجودگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ماسوائے دو جماعتوں کے ملک کی حکومتی و اپوزیشن کی تمام جماعتیں اور قوتیں یک زبان او ر یکجان ہوکر ایک پلڑے میں کھڑی ہیں بلکہ سول سوسائٹی اور وکلاءبرادری بھی جمہوریت آئین و قانون کے تحفظ کےلئے ان کے شانہ بشانہ ہے ،پاکستان کی تاریخ جمہوریت و آئین کی بالادستی کےلئے یک جہتی کے یہ مناظر پہلی دفعہ دیکھ رہی ہے ، دوسری طرف امریکہ ،برطانیہ ،یورپی یونین اور چین سمیت دنیا بھر کے ممالک پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریت کے حق میں بیانات دے رہے ہیں ،مذاکرات کے دوسرے مرحلہ کا آغاز ہونا خو ش آئند ہے اور لگتا ہے کہ ان مذاکرات میں جتنے بھی اتار چڑھاﺅ اور نشیب و فراز آئیں بالآخر یہ بارآور ہونگے کپتان بلا شبہ دھرنا ویک اینڈ شاہراہ پر منالیں لیکن یہاں موسم کی خرابی اور امن و امان کی صورتحال اس بحران کے خاتمہ کی فوری متقاضی ہے ۔

مزید :

تجزیہ -