صوبائی محتسب کو سرکاری ملازمین کیخلاف محکمانہ انکوائری میں مداخلت کا اختیار نہیں ،ہائیکورٹ

صوبائی محتسب کو سرکاری ملازمین کیخلاف محکمانہ انکوائری میں مداخلت کا ...

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قراردیا ہے کہ صوبائی خاتون محتسب کو سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ انکوائری میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ مسٹر جسٹس محمد امیر بھٹی نے یہ آبزرویشن پنجاب یونیورسٹی کے ملازم الیاس معین بھٹی کے خلاف انکوائری کے کیس میں صوبائی خاتون محتسب کے فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے دی ۔پنجاب یونیورسٹی کے ملازم الیاس معین بھٹی کے خلاف اپنی خاتون رفیق کار کوجنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں انکوائری چل رہی تھی جس کے خلاف اس نے خاتون محتسب کے پاس اپیل دائر کر رکھی تھی ۔ خاتون محتسب نے پنجاب یونیورسٹی سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے انکوائری روکنے کا حکم جاری کیا تھا جس کے خلاف پنجاب یونیورسٹی نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔گزشتہ روز جسٹس محمدامیر بھٹی کے روبرو یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر ملک محمد اویس خالد نے موقف اختیار کیا کہ خاتون محتسب کو اس معاملے میں اختیارِ سماعت نہیں ۔فاضل جج نے خاتون محتسب کے دفتر سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ان کے ڈائریکٹر/ رجسٹرار کو عدالت میں طلب کیا اور اختیار سماعت کی بابت سوال کئے تاہم وہ عدالت کو مطمین نہ کرسکی جس پر فاضل جج نے خاتون محتسب کی طرف سے ریکارڈ طلب کرنے اور انکوائری روکنے کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا تاہم یونیورسٹی کو ہدایت کی ہے کہ انکوائری 15 یوم کے اند ر مکمل کی جائے جبکہ الیاس معین بھٹی کو ہدایت کی کہ وہ انکوائری جوائن کرے اور انکوائری کمیٹی کے طلب کرنے پر کمیٹی کے سامنے پیش ہو۔

مزید :

صفحہ آخر -