سیاستدانوں کی نااہلی کی وجہ سے غیر سیاسی قوتیں اقتدار میں آسکتی ہیں

سیاستدانوں کی نااہلی کی وجہ سے غیر سیاسی قوتیں اقتدار میں آسکتی ہیں

  

لاہور(محمد نواز سنگرا)دھرنوں پر افہام و تفہیم کا فقدان محض 37اراکین اسمبلی 305پربظاہر حاوی نظر آنے لگے جبکہ دوسری طرف عمران خان کی شعلہ دار تقاریر بھی کسی سیاسی جماعت کا رخ موڑنے میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔دور حاضر کے 20 لیجنڈ سیاستدانوں میں 13 حکومت کے حامی جبکہ دھرنوں میں شریک کی تعداد محض سات ہے۔نواز شریف،آصف علی زرداری ،اعتزاز احسن،مولانا فضل الرحمٰن حکومت بچانے جبکہ عمران خان،چوہدری شجاعت حسین اور شیخ رشید حکومت گرانے کی کاوشوں پر گامزن قوم نے ڈراپ سین پر نظریں جمالی ہیں ۔عسکری و سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی نورا کشتی جاری ہے جس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔پاکستان کی سیاست میں لچک کا عنصر کمزور پڑتا جا رہا ہے اور سیاستدانوں کی نااہلی کی وجہ سے غیر سیاسی قوتیں اقتدار میں آسکتی ہیں جس سے نہ تو حکومت رہے گی اور نہ ہی دھرنے دینے والوں کے ہاتھ کچھ آئے گا۔ملک میں 18پارلیمانی جماعتوں میں سے محض تین دھرنوں میں شریک ہیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی،عوامی مسلم لیگ اور مسلم لیگ (ق)ہیں جبکہ حکومت کی حامی مسلم لیگ نواز،پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم ،عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علماءاسلام ،نیشنل پیپلز پارٹی،خیبر پختونخواہ ملی پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی،آئی جے آئی،جماعت اسلامی ،مسلم لیگ (ف)،مسلم لیگ ضیائ،بلوچستان نیشنل پارٹی اور آزاد ارکان ہیں ۔پاکستان میں دور حاضر کے 20لیجنڈسیاستدانوں میں 13حکومتی سائیڈ جن میں نواز شریف،آصف علی زرداری،الطاف حسین،اعتزاز احسن،یوسف رضا گیلانی،شہباز شریف،محمود اچکزئی،سراج الحق،عبدالمالک بلوچ،آفتاب شیر پاو¿،اسفند یار ولی اور چوہدری نثار شامل ہیں جبکہ دھرنوں میں شریک عمران خان،چوہدری شجاعت حسین،چوہدری پرویز الٰہی،شیخ رشید،شا ہ محمود قریشی ، اور جاوید ہاشمی شامل ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی موجودہ حکومت کے مخالفین میں شامل ہیں ۔دھرنوں میں شریک جماعتوں کے ارکان کی تعداد محض 37ہے جس میں تحریک انصاف کے34مسلم لیگ(ق)کے 2اور عوامی مسلم لیگ کا ایک رکن شامل ہے۔حکومت کے حامی 305میں مسلم لیگ(ن)کے 190،پیپلز پارٹی کے 47،ایم کیو ایم کے 24،جمعیت علماءاسلام کے 13،جماعت اسلامی اور خیبرپختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چار چار سمیت دیگر جماعتوں کا ایک ایک رکن شامل ہے۔

نااہلی

مزید :

صفحہ آخر -