آزادی مارچ سے مذاکرات ، دوسرے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

آزادی مارچ سے مذاکرات ، دوسرے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
آزادی مارچ سے مذاکرات ، دوسرے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کے تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس دوران جمہوریت پر کوئی آنچ نہ آنے دینے اور جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق کیاگیاہے مگر وزیراعظم کے استعفے کے معاملے پر کوئی ”بریک تھرو“نہیں ہوسکا۔

ذرائع نے بتایاکہ حکومتی کمیٹی نے تحریک انصاف کو دھاندلی کی تحقیقات کامطالبہ سرفہرست رکھنے اورجوڈیشل کمیشن کے قیام ،تحقیقات کیلئے تین ماہ کا وقت دینے کا مشورہ دیا جس پر تحریک انصاف نے مطالبات کی ترتیب بدلنے کا عندیہ دیدیا جبکہ جوڈیشل کمیشن پر متفق ہوگئی۔

حکومتی کمیٹی کا کہناتھاکہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات تک یعنی تین ماہ کیلئے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ موخر کردیں ، اگرکمیشن کی رپورٹ میں وزیراعظم گنہگارثابت ہوئے تووہ خود ہی مستعفی ہوجائیں گے جس پر تحریک انصاف نے موقف اپنایاکہ وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کی توقع نہیں ،اِن ہاﺅس تبدیلی کرکے نوازشریف کے علاوہ کوئی بھی دوسراشخص لے آئیں جس پر دونوں کمیٹیوں میں دوسرے مرحلے کے اختتام تک اختلافات برقراررہے اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں ۔

دونوں کمیٹیوں کا تیسرادور(آج) ہفتے کو ہوگا۔ دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے ذرائع نے بتایاکہ وزیراعظم نوازشریف ہدایات دے چکے ہیں کہ مسائل کا سیاسی حل نکالنے کی کوشش کریں اور معاملے کو سنجیدگی سے لیں جبکہ دونوں کمیٹیوں نے اتفاق کیاہے کہ جمہوریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -