تنہا ماں میں ایثار کا جذبہ دوگنا ہوجاتا ہے: تحقیق

تنہا ماں میں ایثار کا جذبہ دوگنا ہوجاتا ہے: تحقیق
تنہا ماں میں ایثار کا جذبہ دوگنا ہوجاتا ہے: تحقیق

  

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک ) کفالت کا بوجھ تنہا اٹھانے والی ماﺅں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور ایسی ماﺅں کی بے غرض محبت باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ والدین کی بے لوث محبت کسی ثبوت کی محتاج نہیں ہے لیکن ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ماں ایثار و قربانی کا پیکر ہے جنہیں قدرت کی طرف سے باپ کے مقابلے میں ممتا کا جذبہ عطا ہوا ہے۔ سائنسی جریدے ”پلوس ون“ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ماں کی بے غرض محبت ہمیشہ سے مثالی رہی ہے لیکن بچوں کی کفالت کا بوجھ تنہا اٹھانےوالی ماﺅں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور ایسی ماﺅں کی بے غرض محبت باپ کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے اپنی تحقیق میں خاندانوں کے فیصلے کا احاطہ کیا اور والدین کے فطری جذبہ ایثار و قربانی سے وابستہ مفروضات کو اپنے تجرباتی ماڈلز میں شامل کیا۔ تعلیم، ملازمت، زچگی اور دیگر عوامل کے انتخاب سے مشروط نظریات کے تحت ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائیں فطری طور پر جذبہ ایثار و قربانی کے معاملے میں والد سے آگے ہوتی ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ ارتقائی حیاتیاتی اصولوں (اے پی اے) سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائیں فطری طور پر باپ کے مقابلے میں زیادہ ایثار کرنا جانتی ہے کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ بچے انکی ذمہ داری ہیں اور صرف انکی ملکیت ہیں جبکہ دوسری جانب والد کی طرف سے ایسا کم ہوتا ہے۔ ایک تجزیہ کارکے مطابق مائیں، باپوں کی نسبت زیادہ ایثار پسند ہوتی ہیں، انکے بقول ہمارے تجربات کے نتائج سے واضح ہوا کہ ایک ماں میں ایثار کا جذبہ اس وقت اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے جب خاندان میں فیصلہ کرنے کی ذمہ داری صرف ماں کی ہو لیکن خاندان کے فیصلوں میں ساتھی یا خاوند کے ملوث ہونے سے مرد اور عورت کے درمیان ایثار و قربانی کا یہ فرق ختم ہوجاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -