ملکی مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے، اگر بات تھرڈ ایمپائر تک گئی تو دور تک جائے گی: آصف علی زرداری

ملکی مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے، اگر بات تھرڈ ایمپائر تک گئی تو دور تک ...
 ملکی مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے، اگر بات تھرڈ ایمپائر تک گئی تو دور تک جائے گی: آصف علی زرداری

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی معاملات کا حل صرف اور صرف مذاکرات سے نکالا جا سکتا ہے، جمہوری اداروں کے فروغ اور قومی اتحاد کی ضرورت ہے، ان حالات میں عوام کو سڑکوں پر لا کر حکومت کو چیلنج نہیں کیا جانا چاہئے۔وزیر اعظم کو صبروتحمل اور لچک کا مشورہ دیتا ہوں۔

آصف علی زرداری نے وزیر اعظم نواز شریف ، سراج الحق اور چوہدری برادران سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران میں ملک کے تمام رہنماوں سے مسلسل رابطے میں تھا اور ملک کے حالات پر ہمیشہ کی طرح گہری نظر ہے۔ اس لئے جب ضرورت محسوس کی کہ ملکی حالات کے مطابق مجھے اپنا مشورہ دینا چاہیئے میں حاضر ہو گیا اور سب سیاسی لوگوں سے بات کر رہا ہوں ، ان سب پر معاملات کا حل جلد سے جلد نکالنے پر زور دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری روایات بہت قربانیوں کے بعد قائم ہوئی ہیں ، ان کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے خود ہی اپنے دور صدارت میں آئینی ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ کو اس کو اختیارات واپس کئے اور وزیر اعظم کو اس کے حقوق دلوائے لہذاٰ موجودہ پارلیمنٹ کا حق ہے کہ اپنی آئینی مدت پوری کرے۔ اپنی حکومت میں پانچ سال سیاسی معاملات اور الزامات کا مقابلہ سیاسی اقدامات کے ذریعے ہی کیا اور موجودہ حالات میں وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اسی طرح صبروتحمل اور لچک کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ ملک میں شخصیات کی اہمیت نہیں ہے صرف آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت کوہر صورت باقی رہنا چاہیئے۔

سابق صدر نے کہا کہ ملک میں انتخابی اصلاحات کے ضرورت بھی ہے اور اس کی حمایت بھی کی جانی چاہئے مگر سب کچھ پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہئے، اس طرح عوام کو سڑکوں پر لا کر حکومت کو چیلنج نہیں کیا جانا چاہئے۔انہوں نے عمران خان کی جانب سے تھرڈ ایمپائرکے ذکر پر کہا کہ جمہوریت میں صرف ہم لوگ ہی آپس میں ایمپائر ہیں کوئی تھرڈ ایمپائر نہیں تاہم اب اگر تھرڈ ایمائر نے مداخلت کی تو بات بہت دور تک جائے گی۔ انہوں نے ان کی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تمام سیاسی رہنماو¿ں سے معامالات مذاکرات سے حل کرنے پر بات کیونکہ معاملات کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہی ہیں۔

سابق صدر مملکت سے جب شہباز شریف کی جانب سے ان کے خلاف استعمال کی جانے والی زبان پر سوال پو چھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاست میں کبھی غلط زبان استعمال نہیں کی اور نہ ہی غلط زبان استعمال کرنے والے کو کبھی جواب دیاہے۔ تاہم اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے اور پوری قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ہم اپوزیشن میں ہیں اور اپوزیشن میں ہی رہیں گے، مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مزید :

قومی -Headlines -