ائیر پورٹس پر نصب متنازع ترین چیکنگ مشین بھی بے کار نکلی

ائیر پورٹس پر نصب متنازع ترین چیکنگ مشین بھی بے کار نکلی
ائیر پورٹس پر نصب متنازع ترین چیکنگ مشین بھی بے کار نکلی
کیپشن: air post

  

سان ڈیاگو (نیوز ڈیسک) ایئرپورٹ سکیورٹی کیلئے جب Rapiscan نامی سکینر متعارف کروائے گئے تو ساری دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا کیونکہ ان کی مدد سے سکیورٹی اہلکار مسافروں کی تقریباً برہنہ تصاویر دیکھ سکتے ہیں لیکن اب یہ افسوسناک انکشاف ہوا ہے کہ مسافروں کو برہنہ کرنے کے باوجود یہ سکینر چھپائے گئے اسلحہ وغیرہ کو پکڑنے میں مضحکہ خیز حد تک ناکام ہوسکتے ہیں۔

امریکی یونیورسٹیوں کے معتبر محققین کا کہنا ہے کہ جسم کے ساتھ چپکائی گئی اشیاءکے اوپر اگر پلاسٹک کی شیٹ لگالی جائے یا بعض صورتوں میں محض زیر جامعہ کے اندر چھپائی گئی اشیاءکو بھی یہ سکینر نہیں پکڑ سکتا۔ اس ناکامی کے علاوہ ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہے کہ انہیں ہیک کیا جاسکتا ہے اور ہیکر ان کے کوڈ میں ایسی تبدیلیاں کرسکتے ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ مخصوص حصوں کی تصاویر نہیں دکھا سکتے یا اسے زاویہ پر دکھائیں گے کہ چھپائی گئی اشیاءنظر نہ آسکیں۔

یہ سکینر پانچ سال قب سینکڑوں ایئرپورٹوں پر لگائے گئے تھے لیکن شدید اعتراضات کے بعد انہیں زیادہ تر ایئرپورٹوں سے ہٹادیا گیا ہے جبکہ بعض ایئرپورٹوں اور خصوصاً حساس سرکاری اداروں اور ہائی سکیورٹی جیلوں میں یہ اب بھی زیر استعمال ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -