عادی مقدمہ بازوں کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کا قابل تحسین اقدام

عادی مقدمہ بازوں کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کا قابل تحسین اقدام
عادی مقدمہ بازوں کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کا قابل تحسین اقدام
کیپشن: law

  

نیودہلی (نیوز ڈیسک) ترقی پزیر ممالک کی عدلیہ کے پاس پہلے ہی لاکھوں مقدمات جمع ہوتے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ بعض لوگ محض ہراساں کرنے کیلئے یا سستی شہرت کیلئے عدالتوں پر مقدموں کا بوجھ ڈالتے رہتے۔بھارتی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے اس طرح کے عادی مجرموں کو خبر دار کردیا ہے کہ وہ غیر ضروری مقدموں سے باز آجائیں۔

عدالت نے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی توثیق کردی ہے جس میں نتن ٹھاکر نامی خاتون کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ آئندہ جب بھی کوئی مقدمہ لے کر عدالت کا رخ کرے تو اس کے ساتھ 25 ہزار بھارتی روپے کی رقم جمع کروائے۔ اس خصوصی حکم وجہ یہ ہے کہ اس خاتون کو ہر دوسرے دن نیا مقدمہ دائر کرنے کی عادت پڑ چکی ہے اور اخبار میں کوئی بھی خبر پڑھ کر یہ کسی وزیر، کسی افسر یا کسی کے بھی خلاف مقدمہ کرنے چل پڑتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر تو اس کی شکایت واقعی عوامی مفاد کے متعلق ہوئی تو اس کی رقم واپس کردی جائے گی ورنہ ضبط کرلی جائیگی۔

یہ خاتون چونکہ اب تک 86 مقدمات مفاد عامہ کے نام پر درج کرواچکی ہے اس لئے اس کی حوصلہ شکنی ضروری سمجھی گئی۔ چیف جسٹس آر ایم لودھا، جسٹس کریان جوزف اور جسٹس آر ایف نرلمیان نے دیگر عدالتوں پر بھی زور دیا کہ وہ غیر ضروری قانونی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

مزید :

بین الاقوامی -