شام میں مارے جانے والے امریکی کے قاتلوں کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات

شام میں مارے جانے والے امریکی کے قاتلوں کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات
شام میں مارے جانے والے امریکی کے قاتلوں کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات
کیپشن: sham

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین لسانیات نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں عسکریت پسند گروپ دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے امریکی صحافی جیمر فولے کے والدین کو جو ای میل بھجی گئی وہ آئی ایس آئی ایس کے کسی برطانوی جنگجو نے لکھی تھی، جس کے بعد یہ تاثر مزید گہرا ہوگیا ہے کہ عراق اور شام میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے شدت پسند ہی ان ممالک کے لوگوں کے خون کے پیاسے ہوچکے ہیں۔

مقتول صحافی کے 66 سالہ باپ جان فولے نے بتایا کہ انہیں پچھلے سال دسمبر سے اپنے بیٹے کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ملی تھی اور وہ شدت سے منتظر تھے کہ کوئی ان سے رابطہ کرے۔پچھلے ہفتے انہیں آئی ایس آئی ایس کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں ان کے بیٹے کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ لینکسٹر یونیورسٹی کی ماہر لسانیات ڈاکٹر کلیر نے جب اس ای میل کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کو لکھنے والے کا تعلق ممکنہ طور پر برطانیہ کے کسی ملازمت پیشہ خاندان سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ای میل میں استعمال کئے گئے استعارے، سپیننگ کی غلطیاں اور ذخیرہ الفاظ یہ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ لکھنے والا برطانیہ کے ملازمت پیشہ طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جان نامی نوجوان ہے جو دو اور مغربی جنگجوﺅں کے ساتھ ”بیٹلز“ کے نام سے مشہور ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی قید میں 20 کے قریب مغربی باشندے اس وقت بھی موجود ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -