کینسر کے خلاف جنگ ،سائنسدانوں نے پریشان کن دعویٰ کر دیا

کینسر کے خلاف جنگ ،سائنسدانوں نے پریشان کن دعویٰ کر دیا
کینسر کے خلاف جنگ ،سائنسدانوں نے پریشان کن دعویٰ کر دیا
کیپشن: cancer

  

برلن (نیوز ڈیسک) کینسر کا شمار انسانی تاریخ کی خوفناک ترین بیماریوں میں ہوتا ہے اور دور جدید میں اربوں ڈالر خرچ کرکے اس کا علاج ڈھونڈنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اب ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کردیا ہے کہ بیماری تمام تر کوششوں کے باوجود اس مہلک بیماری کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ مرض زمین پر زندگی کی ابتداءسے ہی جانداروں میں پایا جاتا ہے اور لاکھوں سال کے ارتقاءکے دوران یہ اتنا پیچیدہ ہوچکا ہے کہ اب ہم اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتے۔

جرمنی کی کیل یونیورسٹی اور کروشیا کی کیتھولک یونیورسٹی کی سائنسدانوں کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ انسانی خلیوں میں قدرتی طور پر ہی یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ زندگی کے کسی موڑ پر کینسر کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ مسئلہ بچپن، جوانی یا بڑھاپے میں کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے یہ انکشاف سادہ ترین آبی جانوروں ”ہائیڈرا“ میں کینسر کی دریافت کے بعد کیا گیا ہے۔تاہم سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جدید طبی سائنس اس قابل ہوچکی ہے کہ بروقت پتا چلنے پر کینسر کا خاتمہ کرسکے لیکن اس کی بگڑی ہوئی اقسام اور کچھ شدید اقسام کا مکمل خاتمہ شاید کبھی بھی ممکن نہ ہوسکے۔

مزید :

تعلیم و صحت -