خلیج میں مودی کی چھلانگ

خلیج میں مودی کی چھلانگ
خلیج میں مودی کی چھلانگ

  

گردش زمانہ کے رنگ دیکھئے کہ تقریباً نصف صدی بعد بھارت کے وزیراعظم چھلانگ لگا کر خلیج کے گرم پانی میں اشنان کرنے کے لئے پہنچ گئے ہیں، ایک زمانہ تھا کہ کویت سمیت تمام خلیج کے چھوٹے بڑے شہروں میں برطانوی ہند کا روپیہ یوں چلتا تھا جیسے آج کل انکل سام کا ڈالر سب کا لاڈلا بنا ہوا ہے، چنانچہ عدن کی بندر گاہ پر جب کوئی ہندوستانی سمندر میں روپیہ پھینکتا تھا تو ہمارے عرب بھائی اس روپے کے سکے کی خاطر سمندر میں کود جاتے تھے اور اسے نکالنے کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور ہاتھا پائی تک بھی نوبت آ جاتی تھی! خلیج کے عربوں کو بھارت میں بڑی مدت تک وہی پرانے عدنی بدو سمجھا جاتا رہا مگر ایک دن اچانک تیل نکل آیا اور گدھی پر پانی ڈھونے والے بدو شیورلٹ کار میں سوار ہو گئے تو بھارتی بنیا بھی وہاں پہنچ گیا اور کاروبار شروع ہو گیا، لیکن حکومتی سطح پر خلیج سے بدکتا ہے اس لئے مسلمان ہونے کی وجہ سے خلیجی عرب بھی ملیچھ (ناپاک) سمجھے جاتے ہیں اور بھارتی ہندو کے مقابلے میں بھارتی مسلمان کو زیادہ پسند کیا جاتا رہا، البتہ خلیج کے شیخ ہندو کو اپنے گھریلو ملازم کے طور پر ترجیح دیتے تھے کیونکہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے شراب کا پرمٹ ملتا تھا اور بنیا کی استری بھی گھر میں کام آتی تھی! مگر سب کام چپ چاپ اور آرام سے چلتا رہا لیکن اچانک خبر آئی کہ مودی چھلانگ لگا کر خلیج میں جا پہنچے ہیں اور بھارتی میڈیا اس چھلانگ پر اترانے اور بغلیں بجانے لگا ہے! مگر کیوں؟!

امارات کا ایک وزیر خارجہ ڈاکٹر نور محمد کہیں سے ڈاکٹریٹ لے کر آ گیا ہے، اسی وزیر نے پاکستان کو حکم دیا کہ یمن کی سول وار میں کود پڑے اور حوثی گوریلوں کو ختم کرنے میں مدد دے ورنہ! ظاہر ہے اس ورنہ سے پاک، امارات تعلقات میں خلیج پیدا ہو گئی تھی، مودی نے اس خلیج کو پر کرنے کے لئے یہ چھلانگ لگائی ہے کیونکہ موصوف پاکستان کو ہر جگہ اور ہر طرح نیچا کر کے اکھنڈ بھارت اور رام راج کا پرانا ہندو خواب پورا کرنے کی فکر میں ہیں تاکہ ہیرو بن کر امر ہو جائیں اور جئے مودی جئے کی گونج سنائی دینے لگے!

مودی اپنی اس لمبی چھلانگ سے کمائی کیا کرنا چاہتا ہے؟ کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی زور پکڑ گئی ہے کیونکہ کشمیریوں کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ مودی مسلم اکثریت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ملک کے اندر مسلمانوں کو ہر صورت میں ہندو بنانے، بھگانے یا قبرستان بھیجنے کے پرانے مہا سبھائی پروگرام کو عملی جامہ پہنانا تو اس کا منشور ہے اس لئے اب وہ کشمیریوں سمیت تمام بھارتی مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر پاکستان کے کھاتے میں ڈالے گا، ادھر داعش اور القاعدہ والے عالمی صیہونیت کے سودی سرمایہ سے پورے مشرق وسطی میں تباہی پر تلے ہوئے ہیں یہ طوفان بدتمیزی بھی پاکستان کے نام کروا کر برہمن۔ یہودی عالمی غلبہ سے عالم اسلام کو مغربی امریکی طاقت سے کچل کر قبضہ کرنے کے سازشی منصوبہ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے!

ہماری کرپشن مآب وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی کے گھونسلے دبئی میں ہیں مگر اب پاکستان کا خون چوسنے والوں کے لئے وہاں بھی جگہ نہیں رہے گی کیونکہ ان کی سب لوٹ مار بھارتی بنیا اور اسرائیلی صیہونیت کے علم میں ہے اس لئے اب ان کے لئے تو نہ جائے ماندن ہو گی نہ پائے رفتن!

ایک وقت تھا جب نہرو گاندھی کا دھوتی سامراج پہلے محمد علی جناحؒ کو نہرو کا مد مقابل یا مستقبل کا وزیر اعظم بننے کے راستہ سے ہٹا چکا تھا اور اب مولانا آزاد کو سائیڈ لائن لگانے کے منصوبہ پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن مولانا کو کانگرس کی صدارت اس لئے سونپ رکھی تھی تاکہ ہندو کانگریس کو سیکولر اور جمہوری ظاہر کر کے فریب دیا جا سکے اور ساتھ ہی ہندوستانی مسلمانوں کے کے علاوہ تمام اسلامی دنیا کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونکی جا سکے چنانچہ مولانا آزاد اور ان کے چیلوں کے ذریعے بھولے بھالے عرب لیڈروں کو یہ باور کرایا گیا کہ انگریز جس طرح عرب دنیا کے ٹکڑے کر کے یہودی اسرائیل کو سہولت پہنچانا چاہتا ہے اسی طرح وہ ہندوستان کے ٹکڑے کر کے اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتا ہے اور فرقہ پرست مسلم لیگ اور اس کا لیڈر محمد علی جناح انگریز کا آلۂکار بنا ہوا ہے! اس جھوٹے پراپیگنڈے سے عرب دنیا میں پاکستان کے خلاف نفرت و حقارت کا زہر پھیلایا گیا جسے آج تک ہماری وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی زائل کرنے میں بری طرح ناکام ہے، انگریز عرب دنیا کو تو واقعی اسرائیل کی خاطر تقسیم کر رہا تھا مگر ادھر انگریز کا مفاد اور مسلم دشمنی کا تقاضا یہ تھا کہ ہندوستان ہندو کانگریس کے تحت متحد رہ کر سوویت روس کا راستہ روک سکے اور ہندی مسلمان بھی بے بس اور بے آواز ہو کر ہندو کی مستقل غلامی میں چلا جائے!

اس لئے انگریز نے آخری وقت تک انڈیا کی تقسیم کو روکے رکھا، قائد اعظمؒ اکیلے تھے اور ان کے مسلمان ووٹر پسماندہ اور نا سمجھ تھے یہ صرف خدا کی قدرت تھی جس نے پاکستان بنا دیا ورنہ آج برصغیر کے تمام مسلمان ہندو کے غلام ہوتے اور مودی کے جنون کی زد میں ہوتے جس طرح آج پاک بنگلہ دیش اور بھارت کے مسلمان ہندو کی ظالمانہ سان پر چڑھے ہوئے ہیں! آپس میں بیزار ہمارے لیڈر اور کرپشن مآب وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی شاید اسی پرانی ڈگر پر چلے جس پر70 سال سے چل رہی ہے مگر اس نازک مرحلے میں گھرے ہوئے ہمارے وطن عزیز کا سہارا پاک فوج کے علاوہ صرف خدا ہے، اس لئے غریب عوام کے مخلص نمائندوں کو آگے آنا ہوگا، تاکہ سازشی نسل پرست برہمن کے نمائندہ مسٹر مودی کی چالوں کو ناکام بنانے کی کوشش ہو سکے! اس وقت عالمی صہیونیت اور ہندو کا سودی سرمایہ ہر جگہ دہشت گردوں پر پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے، افریقہ میں بوکو حرام ہو، مشرق وسطیٰ کی داعش ہو یا پرانی بیماری القاعدہ کی شاخیں ہوں، یہ سب اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے ہیں، ہم کم سے کم اپنے ذرائع سے یہ تو دنیا پر واصح کر سکتے ہیں اور کرنا چاہئے! ہماری فارن سروس اور سفارت کاری صرف ہمارے سرمایہ پر بوجھ کے سوا اور کسی فائدہ میں نہیں، الاماشاء اللہ، ان میں کچھ لوگ ان سروس یا ریٹائرڈ ایسے بھی ہیں جن کا خلوص اور جفاکشی قابل قدر ہے! ہمارے مقابلے میں بھارت کی نوکر شاہی تو صحیح معنی میں سول سروس یا عوام کی خادم کا کردار ادا کر رہی ہے مگر ہمارے لوگ تو انگریز کے فرعونی مزاج سے بھی آگے نکل گئے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مودی کی جنونی کوششوں کا جواب دینے کے لئے تیار ہو جائیں! یہ نازک گھڑی خطرناک اور فیصلہ کن ہے اس کے لئے فیصلہ کن اقدامات درکار ہوں گے!

مزید :

کالم -