سارے پنجاب کاحق صرف اورنج ٹرین پرکیوں؟

سارے پنجاب کاحق صرف اورنج ٹرین پرکیوں؟
 سارے پنجاب کاحق صرف اورنج ٹرین پرکیوں؟

  



جس گھر میں بچے بھوک سے بلک رہے ہوں ،دردسے تڑپ رہے ہوں اور والد قیمتی کھلونے لے آئے تو اسے بچوں سے محبت کہیں گے یابھیانک مذاق ؟جس ملک میں لوگ بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہوں ،غذائی قلت اور جان لیوابیماریوں کا شکار ہوں ،جس صوبے کی نصف آبادی خطِ غربت سے نیچے سانس کھینچتی ہو،جس کے ستر فیصد لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہوں،ساٹھ فیصد آبادی بیماریوں میں کراہتی ہو، ایک کروڑسے زائدبچے سکول جانے کی عمر میں ورکشاپوں ،ہوٹلوں ،دکانوں پر تھپڑ مکے کھارہے ہوں،گالیاں سن اور سیکھ رہے ہوں،وہاں اورنج لائن میٹرو ٹرین جیسا مہنگا پراجیکٹ دس کروڑ عوام کا حق چھین کر ٹھینگا دکھانے جیسا ہے۔ ۔۔۔ٹرین علی ٹاؤن سے ڈیرہ گجراں تک 27کلومیٹر کا سفر70کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے کرے گی،اس کے 26 سٹیشنوں میں سے دو زیر زمین ہوں گے اور ہر ٹرین میں ایک ہزار مسافر بیٹھ سکیں گے ،اس کے لئے74میگا واٹ بجلی استعمال ہو گی ۔اس کے راستے میں آنے والے 650بڑے درخت کاٹ دیئے گئے ہیں ۔ٹرین کا کرایہ 20 روپے ہوگا۔صرف اس ٹرین کو دیکھیں تو لاہور کا شماردنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں کیا جاسکے گا ،لیکن دیکھنے والے دوسری طرف بھی دیکھتے ہیں، شہر کی بڑی آبادی اب بھی گندے پانی اور کوڑے کے ڈھیروں کے آس پاس زندگی گزار تی ہے۔

چمچماتی دوڑتی بل کھاتی ،اوپر سے گزرتی کبھی زیر زمین بھاگتی اورنج میٹروٹرین کا منظربہت دل کش ہوگا ، فضا سے منظر دیکھیں تو اور بھی سحر انگیز۔یہ منظر اور یہ سہولت کس کو بری لگے گی ،کس کو اختلاف ہے کہ دو لاکھ لوگوں کو سفر کی اعلیٰ سہولتیں ملیں گی اور بیس روپے میں بندہ پورے شہر کا چکر لگالے گا ،لیکن جس کا بچہ دو اکے لئے تڑپ رہا ہو،جسے آلودہ پانی کی وجہ سے ہپاٹائٹس ہوگیا ہو اور وہ اپنے بچوں اور گھر کو حسرت بھری نظروں سے ٹکر ٹکر تکتا موت کے منہ میں جارہا ہو،جس کے بچے سکول جانے کے بجائے سڑکوں پر رُل رہے ہوں،اس کے دل پر یہ چمکتی ٹرین کیا ستم ڈھائے گی؟وزیر اعلیٰ قوم کے یہ پیسے اپنے شاہانہ شوق کے بجائے صوبے کے بنیادی مسائل پر صرف کرتے تودو تین لاکھ نہیں دس کروڑ لوگوں کی زندگی میں کچھ آسودگی آتی، پنجاب کے ترقیاتی بجٹ 445ارب روپے کا 58فیصد، یعنی 134ارب روپے صرف لاہور کے ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کئے گئے ہیں، ،باقی 42فیصد پورے پنجاب کے لئے ۔ملتان کے لئے تین فیصد ،راولپنڈی تین فیصد،فیصل آباد 2اعشاریہ 7فیصد، باقی شہروں کے فنڈز ان سے بھی کم ہیں۔ستم یہ کہ لاہور کے134ارب روپے میں سے 85ارب روپے اورنج ٹرین کے لئے ہیں،اب شہر کے دو کروڑلوگ اورنج ٹرین کا منظر دیکھیں اور خوشی سے تالیاں بجائیں!

پنجاب کے سارے شہر ایک تو بلدیاتی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے اور دوسرا، ان کے فنڈز اورنج ٹرین کی بھینٹ چڑھنے کی وجہ سے بدحالی کا منظر پیش کررہے ہیں ۔دیہات کی گلیوں، نالیوں کے چھوٹے چھوٹے فنڈز اور زراعت کا بجٹ بھی اسی طرف موڑ دیا گیا ہے ،مگر ان کے نمائندے قوتِ گویائی سے محروم ہیں ،پارٹی کے اندربھی اور اسمبلی کے فلور پر بھی ۔اگر صوبے میں کوئی جانداراپوزیشن ہوتی تو شائد اس پہلو کو ضرور اجاگر کرتی، مگر اپوزیشن جماعتوں میں تحریک انصاف کی ساری توجہ وزیر اعظم کو گرانے پر ہے ،پیپلز پارٹی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اورمسلم لیگ(ق) طاقتوروں کی راہ تک رہی ہے ،عوام کے لئے کون بولے ؟وزیر اعلیٰ ان پنجاب کے 36 اضلاع میں اعلیٰ معیاری ہسپتال بنا سکتے تھے ،جن کی لاگت فی ہسپتال چار ارب روپے ہے۔ اس میں ساری سہولتیں اور مفت ادویات ملتیں ،ہر بیمار کو دوا ملتی اور خادم اعلیٰ کو دعائیں۔۔۔ یا پھران دو سو ارب روپے سے ہر ضلع میں تین سو نئے سکول بنائے جاسکتے تھے ،اورپہلے سے موجود 52ہزار سکولوں کو اعلیٰ معیار کی درسگاہیں بنایا جاسکتا تھا، جہاں بچے شوق سے جاتے اور ہوس ناک ہاتھوں میں جانے سے بچ جاتے۔

آلودہ پانی سے بے شمار بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، پانچ لاکھ افرادکے ٹاؤن میں پانی کے نئے ٹربائین،بڑی ٹینکیوں کی تعمیر اور مکمل سپلائی لائن پائپ بچھانے پرلگ بھگ ایک ارب روپے لاگت آتی ہے ،دو سو ارب روپے سے پنجاب کی مکمل آبادی کو صاف پانی فراہم کیا جاسکتا تھااور بیماریوں کی بڑی وجہ کو دور کیا جاسکتا تھا ۔گو رننس کا بڑا بحران کرپشن، نااہلیت اور سرکاری محکموں کا غیر ضروری فائل ورک ،پیچیدہ قواعد و ضوابط ،طویل اور سست فیصلہ سازی ہے۔گورننس کے نظام میں اصلاحات کرکے عوام کو آسودہ کیا جاسکتا ہے۔ ہر ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی اور عمارتوں کی حالت بہتر بنانے پر یہ پیسے لگائے جاسکتے تھے، جس سے نظام حکومت موثر بن سکتا تھا۔سب سے زیادہ شکایات پولیس کے خلاف ہوتی ہیں ،اس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جاتیں تو ڈیڑھ سو سالہ نوآبادیاتی نظام تبدیل کیا جاسکتا تھا۔اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادبھرتی کرکے انہیں جدیدتربیت اور اسلحہ دیا جاتا،صوبے کے سات سو سے زائد پولیس سٹیشنوں کی عمارتیں تعمیر کی جاسکتی تھیں۔اس سارے ریفارم پروگرام پر مل کر بھی اتنا پیسہ نہ لگتا، جتنا اکیلی نارنجی ریل گاڑی چاٹ گئی ہے ۔

اس شو کیس پراجیکٹ کے لئے ہرسال 14ارب روپے کرائے پر سبسڈی دی جائے گی،چار ارب روپے دیکھ بھال اور آپریشن پر خرچ ہوں گے ۔ان اٹھارہ ارب روپے سے ہر ضلع کے بڑے ہسپتالوں کو پچاس کروڑ روپے دئیے جائیں تو کوئی بیمار دوا سے محروم نہ رہے ۔صوبے کے ساڑھے چوبیس سو بنیادی مراکز صحت کو فعال کیا جائے تو دیہات میں صحت کے مسائل کافی حد تک حل ہوسکتے ہیں۔

کوئی کہے کہ لاہور دارالحکومت ہے ،صوبے کا بڑا شہر ،بڑی آبادی والا ،اس کا حق زیادہ ہے ۔ عرض ہے کہ ساری ترقی اسی شہر کی ہوتی رہی تو لوگ دوسرے شہروں سے ادھر ہجرت کرتے رہیں گے ،اس کی آبادی اور مسائل مزید بڑھتے جائیں گے اور سنبھالے نہیں سنبھلیں گے۔ترقی کا یہ گلابی تصور ڈراؤنا خواب بن جائے گا۔ یہ سارے اعداد و شمار حکومت پنجاب اور اس کے محکموں کی ویب سائٹس پر موجود ہیں ،اس کے علاوہ بہت سارے اداروں کی مختلف شعبوں میں تحقیق بھی موجود ہے ، مگر خادم اعلیٰ تک کون پہنچائے ،انہیں کون سمجھائے کہ ایسے بڑے منصوبے دوسروں میں محرومی کی اذیت بڑھادیتے ہیں۔ ان کے سامنے کون بولے؟372 کی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے 305ارکان ہیں ،سب قائد کے رحم وکرم پر ،سب خاموش !ایم پی ایزکے ترقیاتی فنڈز کم کرکے اورنج ٹرین پر لگادئیے گئے، مگر وہ نہیں بول سکے ۔ان کے علاقوں میں ان پر صاحب بہادر ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کی حکمرانی ہے ،ان کی نہیں سنی جاتی ،نہیں مانی جاتی، مگر وہ خاموش ۔چھوٹی بیوروکریسی ارکان اسمبلی کے درمیان اختلافات بڑھاتی ہے اورمن مرضی چلاتی ہے ۔یہ منتخب نمائندے عوام کے کام کرانے کے لئے چھوٹی بیوروکریسی کی منت کرکے کام چلاتے ہیں،اگر کبھی خادم اعلیٰ سے ملنا ہو تو کئی دن بعد کا وقت ملتا ہے ،گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے کوئی نہیں بولے گا،کوئی نہیں بول سکتا؟

اورنج ٹرین شاہانہ سوچ کا استعارہ ہے ،یہ روٹی کی بجائے چاکلیٹ دینے اور جھونپڑی میں ائیرکنڈیشنر لگانے جیسا ہے ۔یہ مائنڈ سیٹ بڑے بڑے نمائشی منصوبے کھڑے کرتا ہے ،اورپھراچھل اچھل کر تالیاں بجاتا اور نعرے لگاتا ہے کہ ترقی ہوگئی ،خوشحالی آگئی ہے۔بڑے منصوبے دکھائی دیتے ہیں ،ہیبت سلطانی پیدا کرتے ہیں اور سیاست دان کی انتخابی مہم کو چمکا اور جگمگادیتے ہیں۔سیاست دان ترقی کا جھانسہ دیتا ہے، پُر فریب خوشحالی کے منظر دکھاتا ہے، مگرزمین کے حقائق کسی اور طرح کے ہی مناظر دکھا رہے ہوتے ہیں۔۔۔ کوئی ہے جو دس کروڑ عوام کی سسکیاں اور درد کی آہیں سنے!

مزید : کالم