موٹروے پولیس نے آئی ایس آئی سے ایک کروڑ 12 لاکھ کا اسلحہ خریدا:پی اے سی میں انکشاف

موٹروے پولیس نے آئی ایس آئی سے ایک کروڑ 12 لاکھ کا اسلحہ خریدا:پی اے سی میں ...
موٹروے پولیس نے آئی ایس آئی سے ایک کروڑ 12 لاکھ کا اسلحہ خریدا:پی اے سی میں انکشاف

  

اسلام آباد( ویب ڈیسک)روزنامہ جنگ کے مطابق  آئی ایس آئی کی جانب سے نیشنل ہائی ویز اینڈموٹروے پولیس کو اسلحے کی فروخت پر پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے ارکان حیران رہ گئے۔ سینیٹر چوہدری تنویر نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا مگر مشاہد حسین سید نے معاملہ نمٹا دیا۔ پی اےسی اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ سال 2013-14 میں نیشنل ہائی ویز اینڈموٹروے پولیس نے قواعد کے برخلاف آئی ایس آئی سے 1 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا اسلحہ خریدا۔ سینیٹر چوہدری تنویر نے سوال اٹھایا کہ آئی ایس آئی نے کس حیثیت میں اسلحہ فروخت کرنا شروع کردیاہے۔

روزنامہ جنگ میں طاہر خلیل نے لکھا کہ خورشید شاہ کی عدم موجودگی میں اجلاس کی صدارت کرنے والے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ ہوسکتا ہے آئی ایس آئی کے پاس افغان جہاد کے وقت کا اسلحہ بچا ہوجو انہوں نے فروخت کردیا۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ پی اے سی کے سامنے موٹروے پولیس کے معاملات ہیں، آئی ایس آئی کے خلاف تحقیقات کرانا ہمارا مینڈیٹ نہیں، آئی ایس آئی حکومت کے ماتحت سرکاری ادارہ ہے اور وزیراعظم اس کے باس ہیں۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ موٹروے پولیس اچھا کام کررہی ہے ، وی آئی پی کلچر کی پرواہ نہیں کرتی، موٹروے پولیس نے میرے بھی کئی چالان کئے ہیں۔وزارت مواصلات اور موٹروے پولیس حکام نے اعتراف کیا کہ اسلحہ کی خریداری خلاف قواعد کی گئی لیکن اس سے قومی خزانے کو بچت ہوئی۔چوہدری تنویر نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاہم مشاہد حسین سید نے کہا کہ آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت کام کرنے والا ادارہ ہے۔ اگر آئی ایس آئی سے اسلحے کی خریداری سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا تو کوئی غلط بات نہیں ہوئی جس پر مشاہد حسین سید نے آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔

چوہدری تنویر کا کہنا تھا کہ ہم لوگ ڈرتے ہیں۔ہونا تو چاہیے تھا کہ موٹروے کے آئی جی کو سزا ہوتی اور اسلحے فروخت کرنےو الے ادارے کو بھی بلاکر پوچھا جاتا۔ اس سے قبل پی اے سی کو بتایا گیا کہ ایک نجی کمپنی نے نیشنل ہائی ویزاینڈ موٹروے پولیس کو یونیفارم کیلئے غیر معیاری کپڑا فراہم کرکے دو کروڑ 19 لاکھ کا چونا لگایا۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں کپڑے کا معیار ٹینڈر کئے گئے کپڑے سے مختلف نکلا۔پی اے سی نےایک ماہ میں انکوائری رپورٹ طلب کر لی۔

مزید :

اسلام آباد -