لاہور کے ریسٹورنٹ میں کھانے سے مرا ہوا مچھر نکل آیا، گاہکوں نے شکایت لگائی تو منیجر نے آگے سے کیا جواب دیا؟ آپ سوچ بھی نہیں سکتے، ویڈیو نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا

لاہور کے ریسٹورنٹ میں کھانے سے مرا ہوا مچھر نکل آیا، گاہکوں نے شکایت لگائی تو ...
لاہور کے ریسٹورنٹ میں کھانے سے مرا ہوا مچھر نکل آیا، گاہکوں نے شکایت لگائی تو منیجر نے آگے سے کیا جواب دیا؟ آپ سوچ بھی نہیں سکتے، ویڈیو نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ریستورانوں میں صفائی کے ناقص معیار کی خبریں ہر روز سامنے آتی ہیں، اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ حکام ایسے ریستورانوں کے خلاف بہت سخت کاروائیاں کر رہے ہیں، لیکن یوں لگتا ہے کہ کچھ لوگوں نے گویا قسم اٹھا رکھی ہے کہ وہ گاہکوں کو گندا کھانا ہی کھلائیں گے۔ بدقسمتی سے یہ رویہ کچھ ایسے ریستورانوں میں بھی پایا جاتا ہے جو بظاہر بہت ماڈرن ہیں اور گاہکوں سے ہزاروں روپے بھی بٹورتے ہیں۔ لاہور کے ایک ایسے ہی ریستوران میں صفائی کے معاملے میں غفلت، اور اس کی شکایت پر مینجر کی بدمعاشی کا سامنا کرنے والے ایک گاہک نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ویب سائٹ Parhloپر کچھ یوں بیان کیا ہے:

’اگر طلاق سے بچنا ہے تو اپنی بیگم سے اس ایک موضوع پر ضرور کھل کر بات کرلیں‘ شادی شدہ جوڑوں میں طلاقیں کروانے والے معروف ترین وکیل نے اپنے تمام تجربے کا نچوڑ بتادیا

” ہم گلبرگ کے ’ٹری لاﺅنج ریسٹورنٹ‘ میں ایک دوست کی سالگرہ منارہے تھے۔ جب ہم کھانا کھارہے تھے تو اس میں مرا ہوا مچھر نظر آیا جس پر ہم نے منیجر کو بلالیا۔ معذرت کرنے کی بجائے اس نے ہمارے ساتھ بدتمیزی شروع کردی۔ ہم منیجر سے اپنی شکایت کررہے تھے اور اسی دوان ایک دوست نے کہا کہ ہم اس کی تصویر لیں گے۔ اس پر منیجر بولا ’آپ ویڈیو بنائیں کوئی مسئلہ نہیں۔‘ اس نے بدتمیزی جاری رکھی اور مالک کو بلانے سے انکار کردیا، تاہم وہ ہمیں 10 فیصد ڈسکاﺅنٹ کی پیشکش کررہا تھا۔

جب ہم نے وہاں موجود دوسرے کسٹمرز سے اس معاملے کا ذکر کیا تو وہ آپے سے باہر ہوگیا اور ہمیں ریسٹورنٹ سے نکل جانے کو کہا۔ اس نے ہال میں اے سی بھی بند کردیا۔ اس نے میرے ہاتھ سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی تاکہ ویڈیو نہ بنائی جاسکے، جبکہ میرے ہاتھ میں پکڑا گول گپہ بھی پاش پاش کردیا۔

ہماری شکایت تو ایک جانب، وہ تو ہماری باتوں کو ہی نامعقول قرار دے رہا تھا۔ صفائی اور حفظان صحت کے اصول اس کے نزدیک کتنے اہم ہوں گے، اس کا انداز اس کی اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ’بال اور کیڑے تو کھانے والی جگہوں پر عام ہوتے ہیں۔‘

یقینا اس شخص کو اپنی اور اپنے ریسٹورنٹ کی شہرت کی ذرہ برابر فکر نہیں تھی، کسٹمرز کے اطمینان کی کیا بات کی جائے۔ کاش کوئی ایسے لوگوں کے خلاف بھی کاروائی کرے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -