معاشی ترقی کے اہداف اور ان کا حصول

معاشی ترقی کے اہداف اور ان کا حصول
 معاشی ترقی کے اہداف اور ان کا حصول

  

کسی بھی مُلک کی معاشی ترقی کیلئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل بہت ضروری ہے ۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ان ملکوں نے معاشی طور پر زیادہ ترقی کی جہاں مسلسل جمہوری استحکام رہا حکومتیں بدلتی بھی رہیں لیکن پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے وہ تیزی کیساتھ معاشی اہداف کے حصول میں کامیاب ہوئے۔

چین کی مثال ہمارے سامنے ہے پاکستان سے ایک سال بعد آزادی حاصل کی لیکن مضبوط معاشی پالیسیوں اور جذبہ حب الوطنی کے ذریعے آج چین کا شمار دنیا کی بڑی معیشتوں میں ہو رہا ہے ۔ ماضی میں پاکستان میں جمہوری تسلسل برقرار نہ رہ سکا جس کی وجہ سے پالیسیوں کے تسلسل میں بھی رکاوٹ آئی اور ملک کو معاشی طور پر اہداف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ کہنا کہ پاکستان معاشی طور پر ایک نا کام ملک رہا درست نہیں ۔ تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے حصے میں مملکت چلانے کے لیے جو وسائل آئے وہ نہ ہونے کے برابر تھے اور مشترکہ خزانے سے جو حصہ پاکستان کو ملا وہ بھی آج تک بھارت دبا کر بیٹھا ہے ۔ وطن عزیز نے تاریخ کے بہت سے ادوار دیکھے کبھی آمریت جس کی وجہ سے معاشی تسلسل برقرار نہ رہ سکا اور کبھی جمہوریت اس کے باوجود آج پاکستان میں جو کچھ ہے وہ دنیا کے کسی ملک سے کم نہیں ۔بھارت سے پاکستان کا معاشی مواز نہ کریں تو بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو خط غربت سے نتیجے زندگی اور جھونپڑیوں میں گزراوقات کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے عوام بھارت کے عوام کی نسبت خوشحال اور آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں ۔

پاکستان کی معاشی ترقی کے حالیہ اعدادو شمار کا جائزہ لیا جائے تو 2013کے انتخابات کے بعد ملک کی معاشی ترقی کے لیے جو اہداف مقرر کیے گئے اور ان اہداف کے حصول کے لیے جن پالیسیوں کی بنیاد پر کام شروع کیا گیا اس وقت ان پالیسیوں کے کافی حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کی صورت حال یہ تھی کہ معاشی عالمی ادارے پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ ہوتا دیکھ رہے تھے ۔ ملک کی جی ڈی پی گروتھ 3فیصد مالی خسارہ 8فیصد سالانہ زرمبادلہ کے ذخائر 8بلین ڈالر سے کم اور ملک کو اٹھارہ سے بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا۔ معاشی صورت حال خراب ہونے کی وجہ سے کوئی پاکستان میں 100ڈالر سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھا ۔ ایسے حالات میں حکومت نے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے چار شعبوں پر خصوصی توجہ دی ان میں تعلیم اور سماجی شعبہ ، معیشت ، توانائی اور دہشت گردی کا خاتمہ شامل تھا ۔ اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھا جائے تو کوئی بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ حکومت جو کہہ رہی ہے وہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو حکومت کو معاشی طور پر چند بڑی کامیابیا ں مل چکی ہیں جن کا اعتراف غیر ملکی معاشی ادارے بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کیا ہے اور آئندہ اس مہنگے پروگرام سے مدد نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک بڑی معاشی پیش رفت ہے ۔ ان چاروں سالوں میں جی ڈی پی کی شرح کو 4فیصد سے بلند رکھا جو اس سال 5.3فیصد ہے اور پچھلے نو سالوں میں بلند ترین سطح پر ہے جس کی تصدیق ورلڈ بنک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کی ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کا ذکر کریں تو آئی ایم ایف نے پاکستان کی ان چار سالوں کی معاشی کارکردگی کو سراہا ہے اور پیشگوئی کی ہے کہ 2017میں پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ 5.2فیصد رہے گا۔ جو اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق اس سے زیادہ ہے یعنی 5.3فیصد ہے اگر اسی طرح ترقی کا عمل جاری رھتا اور ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار نہ ہوتا تو 2018-19میں پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ 7فیصد تک ہو سکتا تھا جو اب مشکل نظر آرہا ہے ۔ پاکستان کا مالی خسارہ جو 2013میں بلند ترین سطح یعنی آٹھ فیصد پر تھا کم ہو کر 2016میں 4.6فیصد تک آگیا ہے اور اس میں مزید کمی متوقع ہے ۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو 2013میں 8بلین ڈالر تھے 2017میں 22بلین ڈالر کی سطح عبور کر چکے ہیں ۔ٹیکس اصلاحات کے نتیجہ میں ٹیکس وصولیوں میں ان چار سالوں میں 60فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت برسراقتدار آئی تو ملک کو بدترین توانائی بحران کا سامنا تھا ۔ سولہ سے بیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی تھی جس سے صنعتی ترقی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں صنعتی کارکن بیروزگار ہو چکے تھے۔ حکومت نے اس مسئلہ کے حل کے لیے دن رات کام کیا قلیل مدتی ، وسط مدتی اور طویل مدتی منصوبوں کا آغاز کیا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ 2018میں توانائی بحران پر قابو پالیا جائے گااور لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں ہے اب تک سات ہزار میگا واٹ کے قریب بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو چکی ہے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ 1320میگاواٹ پیداوار شروع کر چکا ہے۔ بھکھی بلوکی گیس پاور پلانٹ پیداوار دے رہے ہیں جبکہ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ بھی جلد پیداوار شروع کرنے والا ہے 2016میں سی پیک اور دیگر توانائی منصوبوں سے تقریباً 4500میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی جبکہ 2018کے اوائل میں دیگر بجلی کے منصوبے پیداوار دینا شروع کر دیں گے ان تمام منصوبوں سے 10ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گی جس سے لوڈشیڈنگ کو مکمل ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔ بہت سے ایسے منصوبے بھی لگ رہے ہیں جو 2018کے بعد مکمل ہونگے ان میں دیا مربھاشا ڈیم ، داسوڈیم ، K.2،K.3 اور اسی طرح کے بڑے منصوبے شامل ہیں یہ طویل مدتی منصوبے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ مستقبل میں ان منصوبوں سے 43ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جو ملک کی آنے والے وقت کی ضروریات کو بھی پورا کر ے گی۔ ملک میں معاشی ترقی کی رفتار اس وقت تسلی بخش ہے ضروری ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کو یقینی بنایا جا ئے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا نہ ہو اور آنے والی حکومتیں پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائیں اگر ایسا ہو جائے تو یقینی طور پر آنے والے چند سالوں میں ملک دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گا۔ جو ملک وقوم کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

مزید : کالم