’’شہر ت کے گھو نٹ ‘‘

’’شہر ت کے گھو نٹ ‘‘
 ’’شہر ت کے گھو نٹ ‘‘

  

ا پنے آ پ کو ما ر کر نیا جنم لینا بہت مشکل ہوتا ہے، مگر اس کے بغیر رو شنی نہیں ملتی اور جن کے مَن اس رو شنی سے خا لی ہو تے ہیں وہ لو گ صر ف مٹی کے ا یک جسم کے سا تھ زند گی گز ار ر ہے ہو تے ہیں ۔ ا و لیا ء کرام اور بز ر گا نِ دین نے ا پنی ذا ت کی نفی کا پیغام د یا ہے۔ ملا ئمت، نر می، صبر و تحمل، کسر نفسی اور سب سے بڑ ھ کر عاجزی کا سبق د یا ہے، جبکہ اُن کا ہر ایک سبق فکر اور عمل کے تیشے سے ترا شا ہوا ہے۔ حضر ت بابا فر ید گنج شکر کہتے ہیں کہ صرف نما زیں پڑ ھنے اور و ضو کے لئے ہاتھ دھونے سے ’’پلیدی‘‘نہیں جاتی کہ جب تک دل ہر قسم کے میل سے پاک نہ ہو اور قلب اس وقت تک روشن اور صاف نہیں ہوتا جب تک دل ہر قسم کے میل سے پاک نہ ہو، جب تک وہ سفلی جذبات اور خواہشات سے پاک نہ ہو۔ سفلی جذبات کیا ہیں، حسد، بغض، غرور، کینہ، ہوس اور حقارت یعنی لوگوں کو حقیر سمجھنا، انہیں ایسے القاب سے پکارنا جس سے اِن کی کمتری اور اپنی برتری کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔سجدہ ریزی میں جہاں بہت سی تربیت کا سامان پنہاں ہے، وہاں اس کا اہم نتیجہ عاجزی بھی پیدا کرناہے۔ بشر طیکہ سجد ہ خلو ص اور خشو ع و خضو ع سے کیا جا ئے، صرف جسما نی ڈ رل کا حِصہ نہ ہو۔ سچا سجد ہ ا نسا ن کے اندر ایسی رو شنی پیدا کرتا ہے کہ جو غرور، کینے اور تکبر کو کھا جاتی ہے اور ا گر سجدے کے باوجود انسان غرور، کینے، حقارت اور نفرت کا شکار رہے تو سمجھ لیجئے کہ کو ئی کسر باقی رہ گئی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ’’سچا سجدہ‘‘ نہایت مشکل ہے اور یہ مقامِ ریاضت یا کسی کی نگاہ سے ہی ملتا ہے، اقبال ؒ کہتے ہیں:

وہ سجدہ روح زمین جس سے کا نپ جا تی تھی

اس کو ترستے ہیں منبر و محراب

دولت مندہوں یا بڑے کاروباری حضرات ہوں، بڑے حکمران ہوں یا سیاستدان ہوں، بڑے صنعت کار یا بنکر ہوں، ان سب کو عام طور پر بلڈ پریشر اورشوگر کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ چنانچہ بات بات پر غصہ میں آنا اور چہرے کا سرُخ ہو جانا اِن کی عادت بن جاتی ہے۔ عام طور پر اِن طبقوں کو غرور اور تکبر کا مرض بھی لگ جاتا ہے۔ ٹیکس چوری، بجلی چوری اور گیس چوری اِن کے معمول کے مشاغل ہوتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں صاحب بہادر دولت کی فراوانی کی وجہ سے غصے میں رہتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان بیچاروں کو بلڈپریشر کا مرض لگا ہوتا ہے، جو وقتاًفوقتاً دماغ کو چڑھ جاتا ہے، گردن اکڑا دیتا ہے اور ذراسی بات پرزبان سے شعلے بلند کرنے لگتا ہے۔کچھ حضرات اقتدار، اختیار اور شہرت کا ایک گھونٹ پی کر بہک جاتے ہیں اور کچھ پوری بوتل پی کر بھی بہکنے کا تاثر نہیں دیتے اور پی پی کر جسم کو اتنا مضبوط بنالیتے ہیں، جبکہ روح کو اتنا ہی کمزور کہ عاجزی اور انکساری کا وہ پرندہ جو روزانہ روح کا طواف کرتا ہے کہیں دور چلا جاتا ہے اور دِن بدن اندر کا وہ انسان مرتا چلا جاتا ہے، جس کی روح سے دوستی ہوتی ہے اور اس کے بر عکس وہ حیوان بڑا ہوتا جاتا ہے جو اختیار اور شہرت کے گھونٹ پی پی کر نہ صرف بہکتا ہے بلکہ پروان چڑھتا رہتا ہے۔

میر ے دوستو اگر آپ صحت مند ہیں تو خُدا کا شکر ادا کیجئے، کیونکہ اس دنیائے فانی میں صحت اللہ پاک کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے اور یہ دولت کِسی بھی قسم کے اقتدار مکمل اختیار شہرت وغیرہ وغیرہ سے کہیں بڑی نعمت ہے۔ بیماری کی حالت میں شکر کرنے کا حکم ہے، مقصد یہ کہ ہر حال میں شکر ادا کرتے رہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو شُکر گزار بندے پسند ہیں، ا پنے رب کی نعمتوں پر جتنا شکر ادا کروگے، وہ اس قدر آ پ سے راضی ہو گااور ہاں شکر بھی زبانی،کلامی نہیں، بلکہ اس کے عملی تقاضوں کے ساتھ ادا کیجئے تو آ پ کو قلبی مسرت حاصل ہوگی۔ بس اتنی سی بات یاد رکھیں کہ محض زبانی،کلامی شکر زبان کا سامان ہوتا ہے، جبکہ عملی شکر، یعنی دوسروں کو ا للہ کی دی گئی دولت، اختیار اور اقتدار و غیرہ جیسی نعمتوں میں شریک کرنا قلبی اور روحانی مسرت کا سامان بنتا ہے اور یہ ایک ایسی نعمت ہے جو رب اپنے قریب تر اور پسندیدہ حضرات کو نوازتا ہے۔

مزید :

کالم -