اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (7)

اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (7)

  

جو لوگ برگزیدہ، معصوم اور منزہ عن الخطا اور محبوب کبریا ہستی کو ذہنی یا جسمانی کسی قسم کی اذیت پہنچائیں ان کے بارے میں قرآن حکیم کا صریح حکم اور اعلان ہے کہ : بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول اکرم ؐ کو اذیت دیتے ہیں اْن پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا گیا ہے۔اسی طرح رسول اللہؐ کو اذیت دینے والوں کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے کہ وَالَّذآنآْؤٓذْوٓنَ رَسْوٓلَ اللّآِ لآْآ عَذَاآ اَلآآ O ‘‘ "اور جو لوگ رسول اللہؐ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے" اور رسول خداؐ کو اذیت دینے والوں کو یہ بتلا دیا گیا کہ وہ مَلٓعْونِٓنَ ٓ َٓٓٓنَمَا ثْقِفْوآْخِذْوا وَقْتِّلْوا تَآتآلًاO' ۔" ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کئے جائیں" یعنی دنیا میں انکی سزا قتل اور آخرت میں درد ناک اور رْسوا کن عذاب ہے۔ یہ آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رسولؐ کو ایذا دینا ، رنج پہنچانا اور معمولی تکلیف اور اذیت پہنچانا نہ صرف کفر ہے بلکہ موجب قتل ہے۔ امام خطابی نے 'واھب اللدنیٓ ' میں لکھا ہے کہ آیات میں مذکور لفظ 'اآذی ' کے معنی 'الشرالخفیف ' کے ہیں۔ اور شر خفیف اگر بڑھ جائے تو ضر ر کہلاتا ہے۔ امام تقی الدین السبکیؒ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’لسیف المسلول علیٰ من سبَّ الرسولؐ ‘‘میں لکھا ہے کہ خدا کے رسولؐ کی عظمت کا تقاضا ہے کہ انہیں تھوڑی سی تکلیف پہنچانا بھی کفر ہے۔ اس کے علاوہ دیگر آیات جن سے علماء و محققین نے ناموس رسالت پر حرف گیری کی سزا قتل اور گستاخ رسول کے یقینی کفر کے حکم کا استنباط کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:

اول : سورۃالتوبہ آیات 61 تا 69

اس سلسلے میں سورہ توبہ کی آیات 61 تا 69 اس معاملے میں واضح نصوص ہیں۔ " سورۃ التوبہ کی آیات 61 تا 69 مدینہ کے منافقین کے جوڑ توڑ کے بارے میں اْتریں۔ ان کی حرکات آنحضرتؐ کو اذیت پہنچاتی تھیں۔ ان کی طعنہ زنی اور بیہودہ گفتگو جو وہ لوگ آنحضورؐ کے خلاف کرتے تھے انہیں کفر و الحاد کی گہرائیوں میں گرادیتی تھی جس پر وہ سزا کے مستوجب تھے۔ انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے اعمال و افعال اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بے ثمر قرار دیے گئے کہ وہ آنحضرتؐ کی تضحیک کرتے تھے۔مسلم قانون دان اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ اچھے اعمال و افعال اس دنیا میں او ر آخرت میں بے ثمر بنا دیا جانا بے معنیٰ ہو کر رہ جاتا ہے اگر فعل فوجداری جرم تصور ہوکر سزائے موت کا مستوجب قرارنہ دیا جاتا۔ گو یا ان مسلم قانون دانوں کے نزدیک آنحضورؐ پر طعنہ زنی کرنے کے فعل کی سزا، سزا ئے موت سے کم نہیں ہو نی چاہیے"۔ ( قانون توہین رسالت ایک سماجی ،سیاسی ،تاریخی تناظر ،ص: 25از ڈاکٹر محمود احمدغازی )۔

وَمِنْٓٓمْ الَّذآن آْؤٓذْوٓنَ النَّبآَّ وََٓقْوٓلْوٓنَ ْٓوَ اْذْآآقْآ اْذْنْ خآرٍ لّآْآْؤٓمِنْ بِاللّآِ وَْٓؤٓمِنْ لِلٓمْؤٓمِنِٓٓنَ وَرَحٓمَۃٓ لِّلَّذِٓٓنَ اٰمَنْوٓا مِآْآآوَالَّذآنآْؤٓذْوٓنَ رَسْوٓلَ اللّآِ لآْآ عَذَاآ اَلآآO آ

ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان تمہارے بھلے کے لئے ہیں (1) وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے۔(سورہ التوبہ آیت 61)

اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ " اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایذا رسانی اوررسولؐ کی مخالفت کفر کی موجب ہے ، اس لیے کہ اللہ نے یہ خبر دی کہ اس کے لیے آتش جہنم تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یوں نہیں فرمایا کہ " اس کی سزا یہ ہے۔" ظاہر ہے کہ ان دونوں جملوں میں فرق ہے بلکہ " المحاآ " ( مخالفت ) ہی کو عداوت اور علیحدگی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کا نام کفر اور محاربہ ہے ، بدیں وجہ یہ لفظ تنہاکفر سے بھی سنگین تر ہے۔ بنا بریں رسولؐ کو ایذا دینے والا کافر ، اللہ اور اس کے رسول کا دشمن اور ان کے خلاف جنگ لڑنے والا ہو گا ، اس لیے "المحاآ " کے معنی ہیں جدا ہونا ، بایں طور کہ ایک کی حد جد ا ہو ، جس طرح کہا گیا کہ " المشاق " یہ ہے کہ ہر شخص ایک شِق ، یعنی ایک جانب ہو جائے اور " المعادا " یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔ حدیث نبویؐ میں ہے کہ ایک شخص رسولؐ کو گالیاں دیا کرتا تھا ، یہ سن کر آپؐ نے فرمایا : (من یکفینی عدوی؟)"کون میرے دشمن کے لیے کافی ہو گا ؟ " یہ ایک واضح امر ہے جس کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے۔ بدیں وجہ ایسا شخص کافر اور مباح الدم ہے۔"

َٓحٓذَرْ اآمْنٰفِقْوٓنَ اَآ تْنَزَّلَ عَلآِآ سْوٓرَۃٓ تْنَبِّءْْٓمٓ بِمَا فآ قْلْوٓبِِٓمٓ ٓقْلِ اآتآزِءْ وٓاآ اِنَّ اللّآَ مْآرِآ مَّا تَآذَرْوٓنَO 64 وَلَِٓٓنٓ سَاَآتآْآ لآَقْوٓلْنَّ اِنَّمَ آْنَّا نَخْوٓضْ وَنَلٓعَبْ ٓ قْلٓ اَبِاللّآِ وَاآٰتآ وَرَسْوٓلِٓٓ ْٓنٓتْمٓ تَسٓتَٓٓزِءْ وٓنَ O 65ٓ لَا تَآتَذِرْوٓا قَآَفَآتْآ بَآدَ اآمَانآْآآاِآ نَّآفْ عَآ طَآِفَۃٍ مِّآْآ نْعَذِّآ طَآِفَۃآ بِاَنّآْ آَانْوٓا مْآرِمآنَO آ

منافقوں کو ہر وقت اس بات کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نہ اترے جو ان کے دلوں کی باتیں انہیں بتلا دے۔ کہہ دیجئے کہ مذاق اڑاتے رہو، یقیناًاللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈر دبک رہے ہو۔اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ اس کی آیتیں اور اس کا رسولؐ ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں۔تم بہانے نہ بناؤ یقیناًتم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے۔ اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کرلیں۔ تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے۔(سورۂ التوبہ آیت 64۔ 66)

اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں" یہ آیت اس ضمن میں نص ہے کہ اللہ تعالی، اس کی آیت ،اور اس کے رسولؐ کا مذاق اْڑانا کفر ہے ، پس گالی دینا بطریق اولیٰ مقصو د ہے۔ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے جو شخص رسولؐ کی توہین کرے ، خواہ سنجیدگی سے ہو یا ازراہ مذاق ، وہ کافر ہو جاتا ہے۔ " اسی آیت کے مدعا کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمد غازی نے لکھا ہے کہ "منافقین اپنی نجی محفلوں میں آپؐ کی توہین کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور اس سے مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنا بھی مقصود ہو تا۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیاکہ آنحضرتؐ کی توہین کرنے کے جرم یا آپؐ کے مقدّس نام کی بے حرمتی کرنے کے جرم میں ، یہ بھی ضروری نہیں رہ جاتا کہ مجرم نے اس گناہ کا ارتکاب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے اور انہیں اکسانے کی نیت سے کیا ہو توہین کا جرم ثابت ہونے پر سزا ہو گی قطع نظر اس کے کہ نیت اور مقصد کیا تھا ،ارادہ اور نیت کا تعین صرف مبھم الفاظ کی صور ت میں کیا جائے گا "۔ ( قانون توہین رسالت ایک سماجی ،سیاسی ،تاریخی تناظر ،ص: 27)

دوم : البقرہ آیت 104

ٰٓاآّآَا الَّذآنَ اٰمَنْوٓا لَا تَقْوٓلْوٓا رَاعِنَا وَقْوٓلْوا اآظْآنَا وَاآمَعْوٓآ وَلِلٰٓٓفِرِٓٓنَ عَذَاآ اَلآآ آ

ترجمہ :اے لوگو جو ایمان لائے ہو مت کہو ’’راعنا‘‘ اور کہو ’’انظرنا‘‘ (ہماری طرف متوجہ ہوں) اور (یہ بات توجہ سے) سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مقبول عام تفسیر معارف القرآن میں اس آیت کے پس منظر کی وضاحت میں بیان کرتے ہیں کہ "بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور میں آکر لفظ راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں ایک بددعا کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے تھے مگر عربی زبان میں اسکے معنی ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے کے ہیں اس لئے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکتے تھے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعض مسلمان بھی حضور کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو گنجائش ملی آپس میں بیٹھ کر ہنستے تھے کہ اب تک تو ہم ان کو خفیہ ہی برا کہتے تھے اب اعلانیہ کہنے کی تدبیر ایسی ہاتھ آگئی کہ مسلمان بھی اس میں شریک ہوگئے حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کو مسلمانوں کو حکم دیاکہ) اے ایمان والو تم (لفظ) راعنا مت کہا کرو اور (اس کی جگہ لفظ) انظرنا کہہ دیا کرو (کیونکہ اس لفظ کے معنی اور راعنا کے معنی عربی زبان میں ایک ہی ہیں راعنا کہنے میں یہودیوں کی شرارت چلتی ہے اس لئے اس کو ترک کرکے دوسرا لفظ استعمال کرو) اور (اس حکم کو اچھی طرح) سن لیجؤ (اور یاد رکھیو) اور (ان کافروں کو تو سزائے دردناک ہو (ہی) گی جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں ایسی گستاخی اور وہ بھی چالاکی کے ساتھ کرتے ہیں۔ جو شخص نبی کریمؐ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی اور توہین کا ارتکاب کرے شرعاً وہ مباح الدم اور واجب القتل ہے "۔ (جاری ہے)

مزید :

اداریہ -