عدلیہ: اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا

عدلیہ: اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا
 عدلیہ: اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا

  

کہتے ہیں کہ ہر چیز یا فیصلے کی کوئی قیمت ہوتی ہے۔عام طور پر اس قیمت کا حساب یا احساس نہیں کیا جاتا۔ ہماری قومی زندگی میں حکومتوں نے بے شمار ایسے فیصلے کئے جو اُس وقت کی صورت حال میں موزوں لگتے تھے اُن میں خیر ہی خیر نظر آتی تھی، لیکن وقت نے ہمیں دوسرے پہلو سے بھی روشناس کرایا اور پتہ چلا کہ ہمیں اُن فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے معاشرے کے نچلے طبقے کو عزت دی اِسی طرح جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور میں دینی طبقے کو معاشرے میں عزت دی۔ مولوی کو پہلے صرف جنازہ پڑھنے اور نکاح پڑھنے کے لئے بلایا جاتا تھا، کبھی کسی کانفرنس میں کسی قاری صاحب کو تلاوت کے لئے بُلایا جاتا تھا تو تلاوت ختم ہوتے ہی کچھ پیسے اُن کے ہاتھ میں پکڑا کر انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا تھا اب بھی تقریباً اِسی طرح ہو رہا ہے، لیکن ضیاء الحق کے زمانے میں علماء سرکاری تقریبات میں فرنٹ لائن میں آ گئے اور معاشرے میں انہیں ایک باعزت مقام ملا، لیکن اس کا ایک منفی نتیجہ بھی نکلا۔ مُلک میں مذہبی مدرسوں کو فروغ حاصل ہوا،جس سے کسی حد تک انتہاء پسندی کا رحجان پیدا ہوا اور علماء سیاست میں ایک اہم فیکٹر بن کر سامنے آئے، لیکن افسوس کی بات یہ کہ سیاست میں اُن کی شمولیت سے میرٹ اور ایمانداری کا کلچر پیدا نہ ہو سکا،بلکہ انہوں نے بھی باقی سیاست دانوں والے طور طریقے اپنا لئے۔

1971ء کے انتخابات کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ انہوں نے غریب طبقے کو جگایا ہمارے مذہب میں بھی یہی تلقین کی گئی ہے کہ غریب اور کمزور کی ہر معاملے میں حمایت کی جائے۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ بھٹو غریب طبقے کی حمایت سے اقتدار میں آئے۔ حقیقت میں یہ بات صحیح نہیں کہ وہ صرف غریب طبقے کے ووٹوں سے برسراقتدار آئے تھے،بلکہ اُن کی کامیابی میں تین چار طبقوں کی مدد شامل تھی۔ مثلاً اقلیتیں،بائیں بازو کے دانشور جنہیں ایک لیڈر کی ضرورت تھی۔ مسلم لیگ سے مایوس طبقہ اور سنٹرل پنجاب میں بھارت سے نفرت کا عنصر بھی شامل تھا۔ بہرحال اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو نے تو اس طبقے کی حمایت سے فائدہ اُٹھا لیا،لیکن مزدور طبقے نے غنڈہ گردی کو شعار بنا لیا۔ ورک کلچر کا خاتمہ ہو گیا کئی صنعت کاروں کو قتل کر دیا گیا اور یوں صنعتی پیداوار بڑھنے کی بجائے بہت نیچے چلی گئی۔

80ء کی دہائی میں روس نے افغانستان پر حملہ کر دیا جو موجودہ تاریخ میں ایک غیرمعمولی واقعہ تھا۔افغانستان پاکستان کا صرف روایتی معنوں میں پڑوسی نہیں ہے،بلکہ ہمارے درمیان گہرے مذہبی ، تاریخی اور نسلی رشتے ہیں پھر دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 1100 کلومیٹر بارڈر مشترکہ ہے، جہاں ہر وقت آمدورفت جاری رہتی ہے ایسی صورتِ حال میں پاکستان بالکل غیرمتعلق نہیں رہ سکتا تھا۔ ہمارے بہت سے دانشور کہتے ہیں کہ ضیاء الحق نے افغانستان کے معاملے میں غیرضروری مداخلت کر کے پاکستان کے لئے گھمبیر مسائل پیدا کئے۔ دانشوروں سے یاد آیا کہ فیض احمد فیض جیسے بڑے آدمی نے افغانستان پر روس کے حملے پر سرے سے کوئی ردعمل نہ دیا۔ ضیاء الحق کی پالیسیوں سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا یہ تاریخ کا حصہ ہے، لیکن کیا یہ ممکن تھا کہ ہم افغانستان کی صورتِ حال کو بالکل نظر انداز کر دیتے؟غالباً ایسا ممکن نہیں تھا۔ افغانستان پر روسی حملے کا جواز تو ضیاء الحق نے بہرحال پیدا نہیں کیا تھا، حالات نے اس وقت کی حکومت کو کچھ فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔ اُس کے یقیناًکافی خراب نتائج پاکستان کو بھگتنا پڑے اور شاید اب تک اُن فیصلوں کے اثرات باقی ہیں۔ تقریباً 30لاکھ افغان پاکستان آ گئے۔ ضیاء الحق غیرجانبدار رہتے تو پھر بھی افغانوں نے پاکستان کا رُخ بہرحال کرنا تھا۔ اسلحہ عام ہوا، دہشت گردی کی بنیاد پڑی اور افغان آج بھی واپس جانے کے لئے تیار نہیں۔ویسے اتنے سال کوئی آدمی کسی دوسرے مُلک میں رہ جائے تو اُسے کوئی واپس نہیں بھیجتا،بلکہ شہریت دے دی جاتی ہے، لیکن مسلمان مُلک پاکستان سمیت کسی مسلمان کو بھی شہریت دینے کے لئے تیار نہیں،جو بچے پاکستان میں پیدا ہوئے اور جوان ہو چکے ہیں کیا وہ اب بھی افغانی ہیں؟ خیر اِن اثرات پر ضیاء الحق کو آج بھی بے پناہ گالیاں پڑ رہی ہیں اور ہمارے کچھ طبقے تو گالیوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں وہ اِس سے آگے پیچھے تاریخی، جغرافیائی اور دوسرے عوامل پر غور کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔

1999ء میں جنرل پرویز مشرف برسراقتدار آ گئے انہوں نے مُلک کے ساتھ کیا کیا۔ یہ ماضئ قریب کی تاریخ ہے۔ میں صرف ایک پہلو پر بات کروں گا۔ جنرل پرویز مشرف نے عدلیہ پر کاٹھی ڈالنے کے لئے کیا اقدامات کئے یہ بھی سب کے علم میں ہے اس صورتِ حال میں وکلاء اور سول سوسائٹی نے ایک تحریک چلائی ، سیاست دانوں نے بھی اس میں حصہ ڈالا،جس کے نتیجے میں ڈکٹیٹر کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور عدلیہ بحال ہوئی۔ عدلیہ کی اِس طرح بحالی سے ایک بہت مثبت کام ہوا ۔ عدلیہ کا کھویا ہوا مقام بھی بحال ہوا۔ ہم سب نے اِس پر بجاطور پر خوشیاں منائیں کہ عدلیہ آزاد ہو گئی ہے اور قومی زندگی میں اُس کا کردار مضبوط ہو گیا ہے، لیکن اِس بے مثال تحریک کا ایک انتہائی منفی نتیجہ یہ نکلا وہ یہ کہ وکلاء نے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیا۔ آئے دن ججوں کے ساتھ وکلاء کے جھگڑوں کی خبریں آنے لگیں۔ عدلیہ کا وقار بلند کرتے کرتے وکلاء نے ہی ججوں کی توہین شروع کر دی حتیٰ کہ اب تو پولیس بھی وکلاء سے خوفزدہ رہتی ہے۔ وکلاء کے غیرقانونی رویے کی ایک مثال حال ہی میں ملتان میں سامنے آئی جہاں سینئر وکلاء نے کسی ناراضگی پر ہائی کورٹ کے جج کے نام کی تختی اُتار کر پیروں تلے روندی۔ اِس پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ تشکیل دیا۔ اُس پنج کے بلانے کے باوجود ملتان بار کے صدر عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور پیشی کے روز لاہور ہائی کورٹ کے اندر اور باہر ہنگامہ کر دیا اب دو وکلاء کے لائسنس منسوخ ہو چکے ہیں۔اِس معاملے کو کون سلجھائے گا اور مستقل بنیادوں پر اِس خطرناک رحجان کی حوصلہ شکنی کے لئے کوئی اقدامات اُٹھائے جائیں گے یا نہیں۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں،بلکہ نہ صرف جوڈیشری، بلکہ سوسائٹی کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اِس سے پہلے عدلیہ کو حکومتوں اور سیاست دانوں کی طرف سے چیلنج پیش آتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ عدلیہ کو اپنے اندر سے چیلنج درپیش ہے، کیونکہ بنچ اور بار کو لازم و ملزم سمجھا جاتا ہے۔ اس چیلنج کے عدلیہ اور سوسائٹی کے لئے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔

ابھی کچھ دن پہلے عدالت عالیہ نے کرپشن کے الزام میں ایک وزیراعظم کو فارغ کر دیا ہے۔ اِس سارے واقعے کا ایک نتیجہ تو نکل آیا کہ پہلے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور اب کرپشن کے نام پر اب تک تقریباً ڈیڑھ سال تو ضائع ہو چکا ہے اور اب الیکشن تک یہی صورتِ حال رہے گی یا شاید پہلے سے بدتر ہو جائے۔ اِس سے پہلے پیپلزپارٹی نے پانچ سال ضائع کر دیئے اور کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا۔ اگر یہی حال رہا تو اِس پاور پالیٹکس کا جو بھی نتیجہ نکلے عوام اور مُلک کا تو نقصان بہرحال ہو گا۔ (کالم نگار پی ٹی وی میں ڈائریکٹر نیوز کے عہدے سے ریٹائر ہوئے)

مزید :

کالم -