قبلہ اول کا دفاع کیلئے ہرقربانی دینے کیلئے تیار ہیں، فلسطینی علماء کونسل

قبلہ اول کا دفاع کیلئے ہرقربانی دینے کیلئے تیار ہیں، فلسطینی علماء کونسل

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)فلسطین کے علماء، مبلغین اور دعاۃ نے قبلہ اول کا دفاع کیلئے جان ومال سمیت ہرطرح کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق مسجد اقصیٰ میں 21 اگست 1969ء کو آتشزدگی کے واقعے کی مناسبت سے فلسطینی علماء کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قبلہ اول میں آتشزدگی نصف صدی سے جاری ہے۔ قبلہ اول میں آگ لگائے جانے کا واقعہ صرف اکیس اگست 1979ء تک محدود نہیں۔ اس کے بعد بھی قبلہ اول کو دانستہ طورپر نقصان پہنچانے کی سازشیں جاری رہی ہیں۔ صہیونی دشمن آج بھی قبلہ اول کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔علماء کونسل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں نصف صدی قبل لگائی گئی آگ نے صہیونیوں کے مکروہ اور سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا تھا۔ اس مجرمانہ واقعے سے صہیونیوں کے مخفی عزائم دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہوگئے اور یہ ثابت ہوگیا تھا کہ دشمن مسلمانوں، فلسطینی قوم اور مقدسات کے بارے میں کس طرح کے مذموم عزائم رکھتا ہے۔

علماء کا کہنا ہے کہ قبلہ اول کے دفاع کیلئے پوری فلسطینی قوم ہمیشہ ہمیشہ فرنٹ لائن پر کھڑی رہی ہے۔ قبلہ اول کو جب بھی اپنے دفاع کیلئے فلسطینیوں کی ضرورت پڑی تو وہ اپنا جان ومال ہرچیز اس پر فدا کرینگے۔ فلسطینی قوم اپنی جانوں پر کھیل کراور خون کے آخری قطرے تک قبلہ اول کا دفاع کریگی۔ علماء بھی دفاع قبلہ اول میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ اسرائیلی ریاست کی ناروا پابندیوں کے علی الرغم قبلہ اول کے دفاع اور اسے آباد رکھنے کی تحریک جاری رکھی جائے گی۔

مزید : عالمی منظر