دیہات میں صاف ایندھن سستے داموں فراہم کرنے کا منصوبہ لائق تحسین ہے ، میاں زاہد حسین

دیہات میں صاف ایندھن سستے داموں فراہم کرنے کا منصوبہ لائق تحسین ہے ، میاں ...

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری برادری ملک کے دور افتادہ علاقوں کے رہنے والوں میں سستی قیمت پر صاف ایندھن کی فراہمی کے منصوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

اس منصوبے سے نہ صرف مضر صحت ایندھن استعمال کرنے والی گھریلو خواتین اور بچوں میں مختلف امراض کی شرح کم ہو گی بلکہ جنگلات کی کٹائی کم ہونے سے ماحول بھی بہتر ہو جائے گا۔اس منصوبے میں ملک کے شمالی علاقوں کو ترجیح دی جائے جبکہ ایندھن کی قیمت مقامی آبادی کی قوت خرید کے مطابق رکھی جائے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں صرف بیس فیصد گھروں کو قدرتی گیس کی سہولت حاصل ہے ،پندرہ لاکھ گھرانے ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے ہیں جبکہ بھاری اکثریت کھانا پکانے اور حرارت کیلئے لکڑی پر انحصار کرتی ہے۔ اس لئے حکومت نے مختلف دیہی علاقوں میں ایل پی جی کا پائپ لائنوں کے نیٹ ورک بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے ذریعے عوام کوسستا ایندھن فراہم کیا جائے گا اورسبسڈی کے نقصان کو کراس سبسڈی کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایل پی جی کوپائپ لائن کے بجائے دنیا بھر کی طرح سلنڈروں کے ذریعے فراہم کیا جائے کیونکہ پائپ لائن کا نیٹ ورک بنانے سے اخراجات اور خطرات بڑھ جائیں گے۔ ایل پی جی قدرتی گیس کی طرح ہوا سے ہلکی نہیں بلکہ بھاری ہوتی ہے اسلئے لیک ہونے کی صورت میں زمین کی طرف جاتی ہے جس سے حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کا تناسب ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے جسے ایل پی جی کی فراہمی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ لائق تحسین ہے کیونکہ اس طرح کے منصوبوں پر بھارت میں کافی عرصے سے عمل درآمد ہو رہا ہے جس سے جنگلات کی کٹائی میں کافی کمی آئی ہے مگر مختلف علاقوں میں پائپ لائنیں بنانے کے معاملے پر دوبارہ غور کیا جائے کیونکہ یہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہو رہا ہے۔

مزید :

کامرس -