حکومت کی جانب سے برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری

حکومت کی جانب سے برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری

  

 اسلام آباد (اے پی پی)حکومت کی جانب سے برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق چین اوراو ای سی ڈی ممالک کی جانب سے درآمدی آرڈرز میں کمی کی وجہ اگرچہ پاکستان کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں تاہم حکومت اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کررہی ہے۔ حکومت نے رواں سال جنوری میں برآمدات میں اضافے کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا، ان اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے اوریہ عمل 18 ماہ میں مکمل ہوگا۔ان اقدامات سے تیسری اورچوتھی سہ ماہی میں برآمدات پر اچھے اثرات ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ایکسپورٹ ری فنانسنگ پر مارک اپ کی شرح کم کردی ہے، 2010میں یہ شرٖح 9فیصد تھی اوراس میں بتدریج کمی لائی گئی ہے ، جولائی 2016 میں اس کی شرح تین فیصد تک لائی گئی ۔برآمدی شعبے کی صنعتوں کے فروغ اوران میں سرمایہ کاری کیلئے طویل المدتی فنانسنگ فسیلیٹی(تین تا 10سال) پر مارک کی شرح 11.4فیصد سے کم کرکے جولائی 2015تک 6فیصد کی سطح پر لائی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فروری اور مارچ 2017میں پاکستان کی برآمدات کی شرح میں بالترتیب پیوستہ سال کے مقابلے میں 9.95اور3.6فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی برآمدات کی شرح میں کمی کو چین اوراو ای سی ڈی ممالک کی جانب سے درآمدی آرڈرز میں کمی کے تناظر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

تاہم اس کے باوجود فروری اورمارچ میں برآمدات کی شرح میں اضافے سے واضح ہورہاہے کہ ملک کا برآمدی شعبہ منفی اثرات سے باہر آرہاہے اورآنیوالے دنوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

مزید :

کامرس -