جج صاحبان اور وکلاء آمنے سامنے، افسوسناک صورت حال

جج صاحبان اور وکلاء آمنے سامنے، افسوسناک صورت حال

  

اسے بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ لاہور میں بار اور بنچ کا تنازعہ سنگین صورت اختیار کرگیا۔ ملتان میں ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس قائم خان کے ساتھ ملتان بار کے صدر شیر زمان قریشی اور دیگر وکلاء کی بدتمیزی پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے شیر زمان اور قیصر کاظمی کو توہین عدالت کیس میں طلبی کا نوٹس دیا۔ قیصر کاظمی تو پیش ہوگئے لیکن شیرزمان قریشی نے کسی صورت عدالت عالیہ میں پیش ہونے سے انکار کردیا۔ بعض سینئر وکلاء اور بار کے عہدیداروں نے یقین دہانی کرائی کہ شیر زمان ایڈووکیٹ کو دی گئی تاریخ پر پیش کردیا جائیگا مگر ایسا نہ ہوسکا تو چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے شیر زمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔ اس پر سینکڑوں وکلا، جن کا تعلق لاہور، ملتان، وہاڑی اور دیگر شہروں سے ہے، مشتعل ہو کر ہلڑبازی پراتر آئے، مخالفانہ نعرہ بازی کرتے ہوئے انہوں نے ہائی کورٹ کے مرکزی دروازے کے ساتھ ساتھ ججز گیٹ بھی توڑ ڈالا۔ پولیس نے بار بار آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرکے وکلاء کو منتشر کردیا۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے افسوسناک ہے کہ وکلا نے اپنے معزز ججوں کے مدمقابل کھڑے ہوکر چیف جسٹس کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی وکلا کی اس کارروائی کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ جو کچھ ہوا، وہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے تھا وکلا اور جج صاحبان عدلیہ کے دو بنیادی ستو ن ہیں۔ کچھ عرصے سے ان کا آپس میں تنازعہ سامنے آتا رہتا ہے اور پھرسینئرز کی مداخلت سے معاملہ رفع دفع ہوجاتا ہے اس معاملے میں بھی سینئرز کی بات نہ ماننے کی وجہ سے ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اس واقع سے قانون اور عدلیہ کے احترام کے تقاضوں کے حوالے سے جو سوالیہ نشان پیدا ہوا ہے، وہ افسوسناک ہے کہ تمام حلقے حیران اور پریشان ہیں کہ صورت حال اس قدر سنگین کیوں ہوئی۔ اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ قانون اور عدلیہ کا احترام ہر حالت میں ہوتا تو ایسی نوبت نہ آتی۔ کاش! ہمارے اداروں کی اہمیت کو برقرار رکھنے کی روایت کو مضبوط بنایا جائے۔

سیاسی صورتِ حال گرم ہوتی چلی جا رہی ہے کہ اِسی دوران نیب نے عدالتِ عظمیٰ کی ہدایت کی روشنی میں سابق وزیراعظم، ان کے اہلِ خانہ، ان کے سمدھی اور سمدھی کے اہلِ خانہ کے خلاف یفرنسوں کی تیاری شروع کر دی ہے اور ان سب کو بیانات کے لئے طلب بھی کیا، راولپنڈی سے نیب کی ایک ٹیم لاہور آ کر بیٹھی رہی کہ مسؤل علیہان کے بیانات لئے جا سکیں اور سوالات کئے جائیں،لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کہ شریف خاندان میں سے کوئی بھی پیشی کے لئے نہیں گیا اور نیب کی ٹیم پورا دن گزار کر واپس چلی گئی۔البتہ شریف فیملی کی طرف سے وکیل ضرور گیا جس نے نیب کی تفتیشی ٹیم کو آگاہ کیا کہ مدعا علیہان نے عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بڑے بنچ کے پاناما کیس والے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں دی ہیں اور حکم امتناعی بھی مانگا کہ جب تک نظرثانی درخواستوں کا فیصلہ نہ ہو،تب تک تفتیشی عمل کو روک دیا جائے۔ان درخواستوں اور حکم امتناعی کی درخواست کے فیصلے تک نیب کی تفتیشی کارروائی درست عمل نہیں اِس لئے وہ اُس وقت تک اجتناب کریں گے جب تک حکم امتناعی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا،چنانچہ کوئی فرد بھی نیب کے دفتر نہیں گیا۔نیب کی تفتیشی ٹیم کے مطابق اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو یکطرفہ چالان بنا کر احتساب عدالت کے سپرد کر دیا جائے گا کہ عدالتِ عظمیٰ نے چھ ہفتوں کے اندر تفتیش کر کے چالان پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

اس عرصے میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سامنے آئے اور انہوں نے پھر سازش کا الزام دہرایا اور اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کرنے کے علاوہ چودھری نثار پر بھی بے وفاقی کا الزام لگا دیا، جواب بھی آ گیا جس سے جماعت کے اندر اختلاف کا تاثر ابھرا تاہم مجموعی طور پر جماعت کے اندر ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی اور یہ سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔

لاہور میں انتخابی سرگرمیاں بھی جاری ہیں، سابق وزیراعظم کی خالی کردہ نشست پر اُن کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز امیدوار ہیں،ان کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے۔اگرچہ اعتراضات کئے گئے، ریٹرننگ افسر کے فیصلہ کے خلاف اپیلیں بھی کی گئیں،بیگم کلثوم نواز اِس دوران اچانک لندن گئیں کہ ان کے طبی معائنہ کے لئے تاریخیں آ چکی تھیں، ان کی عدم موجودگی میں کارکن انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد زیادہ متحرک اور گھر گھر جا کر کنوینسنگ کر رہی ہیں اور مقابلہ سخت بنا دیاگیا ہے۔پیپلزپارٹی کے فیصل میر بھی اس انتخابی مہم میں محنت کر رہے ہیں،آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے حوصلہ افزائی اور پیپلزپارٹی والوں سے کہا کہ فیصل میر کی انتخابی مہم چلائیں،دونوں باپ بیٹے لاہور میں اکٹھے تھے اور سابق وزیراعظم کی مخالفت کا اعلان کیا، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری دونوں باپ بیٹے نے مسلم لیگ(ن) اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف پر کڑی تنقید کی، زرداری نے یہ کہتے چلے گئے کہ وہ شریف خاندان کو آئندہ سیاست میں نہیں دیکھ رہے۔بہرحال اختلاف رائے ہے اور سلسلہ آگے بڑھتا محسوس ہوتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -