فاضل جج اور وکلاء میں معمولی بحث بڑھ کر سنگین مسئلہ بن گئی

فاضل جج اور وکلاء میں معمولی بحث بڑھ کر سنگین مسئلہ بن گئی

کوئی بھی جھگڑا یا وقوعہ ایک دم نہیں ہوتا،بلکہ اس کے لئے وقت کے ساتھ ساتھ ماحول بنتا ہے ۔ بار اور بنچ کا موجودہ جھگڑا بھی ایک دم نہیں ہوا جو ملتان سے نکل کر جنوبی پنجاب اور اب لاہور اسلام آباد اور شاید سندھ بھی پہنچ چکا ہے گزشتہ روز الیکٹرانک میڈیا اور پھر دوسرے روز تمام اخبارات کی شہ سرخیوں میں بنچ اور بار کے تنازعہ کی خبریں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ یہ ایک ایسی انہونی ہوئی ہے جو نہیں ہونی چاہئے تھی، کیونکہ جب تک بار اور بنچ ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے قانون کی پاسداری نہیں ہوگی اس وقت تک عام شہری کو انصاف کے حصول میں پریشانی اور مشکلات کا سامنا رہے گا، لیکن معلوم نہیں کہ ان دونوں سٹیک ہولڈرز کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی ہے حالانکہ یہ کوئی اتنا بڑا ایشو بھی نہ تھا قصہ یوں شروع ہوا کہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے سینئر جج مسٹر جسٹس قاسم خان کی عدالت میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران بہت سارے وکلاء اکٹھے پیش ہوئے ایک مسجد سے متعلقہ تھا مسجد میٹرو بس کے روٹ کی تعمیر کے دوران زد میں آئی اور اس شرط پر اسے شہید کرنے کی اہلِ علاقہ نے اجازت دی کہ حکومت نہ صرف اس مسجد کے لئے متبادل جگہ فراہم کرے گی، بلکہ اس کی تعمیر کے اخراجات بھی ادا کئے جائیں گے، لیکن مقامی انتظامیہ اور میٹروبس روٹ تعمیر کرنے والے ذمہ داران نے مسجد کو مسمار کرنے کے بعد توجہ نہ دی۔

اہل علاقہ کی طرف سے متعدد مرتبہ یاد دہانی کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی تو اہل علاقہ اور مسجد کے منتظمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا جس کے لئے متعدد وکلاء نے اپنے وکالت نامے جمع کرائے اور اظہارِ یکجہتی کے طو رپر عدالت میں پیش بھی ہوئے جن میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ بار ایسوسی ایشن کے صدر شیر زمان قریشی بھی شامل تھے، جنہوں نے بیس پچیس وکلاء کے ہمراہ سینئر جج کی عدالت میں روسٹرم پر ہو گئے جن میں سے ایک وکیل نے دلائل شروع کئے تو معزز جج نے توجہ دلائی کہ چونکہ ایک وکیل دلائل دے رہے ہیں تو باقی اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں جس پر صدر بار نے معزز جج سے کہا کہ ہم تمام اس کیس میں بطور وکیل پیش ہیں اور اپنا وکالت نامہ بھی جمع کروا چکے ہیں جس پر معزز جج نے پھر دہرایا کہ آپ باری باری دلائل ضرور دیں مگر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں، جس پر یکدم تلخی کا ماحول پیدا ہوا اور بار کے صدر نے اپنے وکیل ساتھیوں سمیت بیٹھنے سے انکار کر دیا جس پر معزز جج نے مقدمہ کی سماعت بند کر دی اور اپنے چیمبر میں چلے گئے جس پر وکلاء بھی صدر بار کے ہمراہ چیمبر میں آئے اور ایک نمائندہ اجلاس طلب کر لیا جس میں معزز جج کے خلاف نہ صرف قرار دادا پیش کر کے منظور کروا لی گئی بلکہ عدالت کے باہر جا کر معزز جج کے نام کی تختی بھی اکھاڑ پھینکی نعرے بازی شروع کر دی اور موقف اختیار کیا کہ اب ان جج صاحب کو یہاں کام نہیں کرنے دیا جائے گا اختلافی الفاظ کے ساتھ معزز جج کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ بھی کر دی جس پر سینئر جج نے اس وقوعہ کی اطلاع چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منصور علی شاہ کو دی جنہوں نے نہ صرف ججوں کو کام کرنے سے منع کر دیا بلکہ ملتان بنچ کو بھی کام سے روک دیا اور حکم جاری کیا کہ ملتان بنچ سے متعلقہ تمام مقدمات کی سماعت اور رجسٹری لاہور میں ہو گی جبکہ ملتان بنچ بار ایسوسی ایشن کے صدر شیر زمان اور سیکرٹری قیصرکاظمی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع کر دی جس پر گزشتہ دو ہفتوں سے زیادہ گزرنے کے باوجود اس کا کوئی حل نہ نکلا حالانکہ اس دوران ملتان بنچ کا ایک نمائندہ وفد مسٹر جسٹس شیخ عظمت سید سے ملاقات کرنے لیکن انہوں نے بھی وکلاء کو مشورہ دیا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے قانون کی بالا دستی کے لئے کام کرتے ہوئے خود کو عدالت میں پیش کریں تا کہ قانون کے مطابق کام کیا جائے لیکن وکلاء برادری نے نہ صرف یہ مشورہ ماننے سے انکار کر دیا بلکہ مزاحمت کا اعلان کر دیا جس میں لاہور اور اسلام آباد کی وکلاء تنظیموں نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔ گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے وقوعہ کی وجہ سے بنا جس میں پوری دُنیا میں قانون کی پاسداری اور بالادستی کے سسٹم کی سبکی ہوئی اس میں افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے وقوعہ کے باوجود کوئی ادارہ آگے بڑھ کر ان دو کو ایک میز پر بٹھا کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے جس سے عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں تعطل جاری ہے اِس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلے کا فوری حل تلاش کیا جائے کیونکہ ملتان بنچ کا یہ احتجاج کوئی نیا نہیں ہے قبل ازیں بھی ججوں کی تقرریوں پر ان کے تحفظات ابھی تک دور نہیں کئے جا سکے۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف گزشتہ دنوں دورے پر ملتان اور پھر مظفر گڑھ آئے ملتان میں انہوں نے نو تعمیر شدہ کڈنی ہسپتال کا دورہ کیا اور ناقص تعمیرات، پانی کی عدم فراہمی اور گندگی کی موجودگی سے نالاں ہو کر ملتان کے کمشنر محمد بلال بٹ اور ڈپٹی کمشنر نادر چھٹہ کو فوری طور پر او ایس ڈی بنانے کا حکم جاری کر دیا لیکن آدھ گھنٹہ بعد ان دونوں ’’بڑوں‘‘ کو چھوڑ کر ایکسیئن اور ایس ڈی او کو معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا معلوم نہیں صرف آدھ گھنٹے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کس کی بات سے مجبور یا قائل ہو کر اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔یہ بات ان کے علم میں ہونی چاہئے تھی اس کڈنی ہسپتال کے متعلق مختلف احبارات میں یہ تفصیلی خبریں چھپتی رہی ہیں کہ یہاں تعمیرات اور مشینری کی خریداری میں ریکارڈ کرپشن کی گئی، لیکن صرف بلڈنگ کی ناقص تعمیر عذر بنا کر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ریلیف دیا گیا وجوہات تو وہ خود ہی جانتے ہوں گے۔

مزید : ایڈیشن 1