سینیٹ اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا پرجوش خیر مقدم

سینیٹ اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا پرجوش خیر مقدم

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سینیٹ کے پہلے اجلاس کے پہلے ہی دن ایوان میں پہنچ گئے جس پر حکومتی و اپوزیشن ارکان نے ان کا پرجوش استقبال کیا،چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے وزیراعظم کوسینیٹ اجلاس میں شرکت پر خوش آمدید کہا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جمہوریت کے استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے،امید کرتے ہیں کہ انتظامیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کو بھی عملی جامہ پہنایا جائیگا،چیئرمین سینیٹ نے وزیراعظم کی اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ سینیٹ اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بناؤں گا اور ایوان بالا کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کروں گا،ریکوڈک سمیت تمام امور پر حکومت کا موقف ایوان میں پیش کرنے کو تیار ہوں۔

سینیٹ کے حالیہ جاری اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر آصف کرمانی اور پیپلزپارٹی کے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بطور سینیٹر حلف اٹھا لیا ، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے دونوں سے حلف لیا ۔سینیٹ کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ہورہا ہے جس میں ترقیاتی فنڈزکی غیر منصفانہ تقسیم کے معاملے پر اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان میں سخت بحث ہوگئی وفاقی وزیر شیخ آفتاب اور پی ٹی آئی کے شفقت محمود میں تلخ کلامی بھی ہوئی قومی اسمبلی کا اجلاس پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے باعث تاخیر کا شکار ہوا،دوران اجلاس اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں اپوزیشن کے ایک حصے کو 30 ارب دیئے گئے ہیں مانتا ہوں ان کا بہت بڑا حق ہے حکومت بتائے کہ یہ کون سے ارکان ہیں جن کو فنڈز دیے گئے ہیں، یہ فنڈز اپوزیشن کو نہیں دیے گئے اگر ارکان کے نام نہ بتائے گئے تو ہم احتجاج کا حق رکھتے ہیں اجلاس میں خورشید شاہ کی دھمکی پر جواب کیلئے اسپیکر نے وزیرپارلیمانی امور شیخ آفتاب کو بلوانے کی ہدایت کی، خورشید شاہ کا کہنا تھاکہ ہم سب ارکان اسمبلی عوام کے منتخب کردہ ہیں ترقی جہاں بھی ہو وہ پاکستان کی ترقی سمجھتے ہیںیہ کوئی مذاق نہیں ہے۔آپ ہمیں نہیں دھمکا نہیں سکتے ہم منتخب نمائندے ہیں کوئی ایم این اے کھڑا ہوکر کہے کہ پی پی پی دور حکومت میں انہیں فنڈز نہیں ملے تو میں جوابدہ ہوں فنڈز ارکان اسمبلی کا حق تھا جو ان کو دیا گیا آج کہا جائے کہ جواب نہیں دیا جائے گا اس طرح ماحول خراب ہوگا ہم نہیں چاہتے ماحول خراب ہوآپ کو چاہیئے کہ آپ ماحول ٹھنڈا کریں آپ گرم کررہے ہیں میں نے نواز شریف کو کہا تھا کہ آپ کے پاس پورس کے ہاتھی ہیں، آپ فنڈز دینا چاہتے ہیں تو یکساں دیں یاپھرکسی بڑے عوامی منصوبے میں اس رقم کو لگائیں موجودہ کابینہ میں 53وزرا ہیں لیکن وہ کہاں ہیںآپ کا رویہ ایوان کے اندر اور باہر کے ماحول کو ٹھنڈا بھی کرسکتا ہے اور پٹرول کا کام بھی دے سکتا ہے آپ اپنا وزیراعظم کھو چکے وزرا کا خمیازہ بیچارہ نواز شریف اور انکا خاندان بھگت رہا ہے ہمارا استحقاق مجروح نہ کیا جائے بطور قائد حزب اختلاف کوشش رہی کہ حکومت مدت پوری کرے ماحول بہتر رہے ۔

اس موقع پر شیخ آفتاب کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز کے اجرا کے جواب پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔،شیخ آفتاب کا کہنا تھا سابق وزیراعظم نوازشریف کے ویژن کے مطابق ملک میں سی پیک جیسے منصوبے شروع کئے گئے ہیں،25 ارب روپے کا ایک ترقیاتی پیکج کراچی کو دیا گیا ہے، حیدرآباد کیلئے5ارب روپے کا پیکج دیا گیا،حکومت چاہتی ہے ترقیاتی پروگراموں کے لئے صوبے بھی حصہ ڈالیں،وفاقی حکومت کو پنجاب اور بلوچستان سے مثبت جواب ملا ہے،انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور سندھ اپنا حصہ ڈالنے کو رضامند نہیں، شیخ آفتاب کے جواب پر شفقت محمود نے احتجاج کیا ہم کوئی عدلیہ نہیں جنہیں آپ دھمکاسکتے ہیں، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی اجلاس میں بھی شرکت کی وہ خورشید شاہ سے ہاتھ ملا کر اپنی نشست پر بیٹھ گئے ، اجلاس میں عائشہ گلالئی نے بھی خطاب کیا انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں الیکشن صاف اور شفاف ہونے چاہئیں۔انتخابی اصلاحات بل 2017پر کمیٹی کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ،انہوں نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کی کہ ایک سیاسی جماعت کے چیئرمین نے مجھ پر اور میرے خاندان پر الزامات کی بوچھاڑ کی،پارلیمانی کمیٹی کو خوش آمدید کہا اور پھر اس سے مکر گئے، خواتین کو عزت اور احترام دلانا چاہتی ہوں،میرے الزامات پر پارلیمانی کمیٹی بننی چاہئے یا نہیں ووٹنگ کرائی جائے ،قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات بل پر بحث کے دوران ایوان اراکین کی حاضری انتہائی کم وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایوان میں موجود لیکن بیشتر حکومتی نشتیں خالی اپوزیشن بنچوں پر بھی اراکین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قرارداد منظور کی گئی سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت اور پالیسیوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ان کی پالیسیوں اور منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے بھرپور انداز میں کوششیں جاری رکھی جائیں گی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آئین کی بالادستی کیلئے کردار ادا کرے گی اور آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی اور عوامی خدامت کی بناء پر ملک کے چاروں صوبوں میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی، قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس کی پالیسیوں نے پاکستان کو اقتصادی و معاشی تباہی، بدترین لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کے ماحول سے نکال کر ترقی و خوشحالی اور امن و استحکام کی شاہراہ پر گامزن کیا ہے،پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر سردار یعقوب ناصر نے بھی میڈیا سے گفتگو کی انکاکہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن)مستحکم جماعت ہے،پارٹی میں تناؤ کی بات کرنے والے غلطی پر ہیں،نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا، مگر ہم پارٹی کارکنان کا دل جلتا ہے،سب کا احتساب ہونا چاہیے،شریف خاندان اگر نیب میں پیش نہیں ہو رہا تو ان کے تحفظات ہوں گے،چوہدری نثار نے پارٹی میں ڈسپلن کی بات کی ہے،ان سے کوئی اختلاف نہیں میاں محمد نواز شریف نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اور میں اس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں،پارٹی کو مزید مستحکم کرنے کیلئے کام کروں گا۔

مزید : ایڈیشن 1