ڈینگی مچھروں کا حملہ ایک ہزار سے زائدافراد متاثر،عمران خان اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی

ڈینگی مچھروں کا حملہ ایک ہزار سے زائدافراد متاثر،عمران خان اور حکومت کے ...

  

صوبائی دارالحکومت پشاور پرڈینگی مچھروں نے خوفناک حملہ کرکے ایک ہزار کے لگ بھگ لوگوں کو ہسپتال پہنچا دیا جن میں سے 8 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ دوسری طرف سب سے حساس علاقے ضلع اسماعیل خان کو ٹارگٹ کلرزنے اپنے نرغے میں لے رکھا ہے جہاں چند دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں جے یو آئی کے سرکردہ رہنما اور معروف عالم دین شیخ الحدیث سید عطا اللہ شاہ کو شہید کر دیا گیا صوبائی حکومت بظاہرواقعات کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ واقعات سانحات میں تبدیل نہ ہو جائیں ڈینگی وائرس کا انکشاف محض چند روز قبل اس وقت ہوا جب متاثرہ مریضوں کی تعداد800سے زائد ہو چکی تھی یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ وائرس گذشتہ تین مہینوں سے لوگوں پر حملہ آور تھا مگر صوبائی حکومت سمیت محکمہ صحت کے حکام اس عفریت سے لا علم رہے اس معاملے نے محکمہ صحت سے متعلق حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی اس وائرس کی تصدیق اور 8 افراد کی موت کے بعد بھی محکمہ صحت کے پاس علاج معالجے اور روک تھام کا کوئی انتظام ہے نہ کوئی منصوبہ بندی ہو سکی ۔ڈینگی سے متاثرہونے والا علاقہ تہکال یونیورسٹی روڈ پر واقع ہے جسکا شمار پشاور کے پوش اورمہنگے علاقوں میں ہوتا ہے تہکال کے مغرب میں دو کلو میٹر کے فاصلے پر شیر پاؤ ہسپتال جبکہ مشرق کی جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال واقع ہے جو پشاور کے سب سے بڑے ہسپتال ہیں یہ ہسپتال تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود ڈینگی کی موجودگی کی بر وقت تشخص نہ کر سکے اور جب معاملہ بڑھتے ہوئے لوگوں کی اموات تک پہنچا تو محکمہ صحت نے اپنے دونوں ہاتھ کھڑے کرکے اپنی بے بسی کا اظہار کیا تب تہکال کے سینکڑوں باشندے مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور عمران خان سمیت صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی متاثرہ لوگوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے مدد کرنے کی اپیل کی تو پنجاب چکومت کی طرف سے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم کے ساتھ ایک موبائیل ہاسپٹل پشاور بھیجا گیا اس ٹیم کی سربراہی پنجاب کے وزیر صحت عمران نذیر کر رہے ہیں یہ ٹیم ضروری ادویات بھی ساتھ لائی لیکن بد قسمتی سے صوبائی حکومت نے اس ٹیم کے ساتھ تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اسے سرکاری ہسپتالوں میں جانے سے روک دیا پنجاب کے ڈاکٹروں کی ٹیم موبائل ہاسپٹل کے ہمراہ جب تہکال کے علاقہ میں پہنچی تو وہاں لوگوں نے ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا اور شہباز شریف کے حق میں نعرے لگائے ،اور یوں ڈینگی سے متاثرہ لوگوں کا معائنہ اور علاج شروع کر دیا گیا ۔

پنجاب کے وزیر صحت عمران نذیر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور یہ بھی بتایا کہ گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے وزاعلیٰ پرویز خٹک کو فون کیا اور مگر وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے گورنر کے فون کا جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا ۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی وائرس ایک سنجیدہ اور سنگین مسئلہ ہے عمران نذیر کا کہنا ہے کہ وہ سیاست کرنے نہیں آئے بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عوام کی جان بچانے آئے ہیں پنجاب کی ٹیم نے مزید ادویات منگوا کر متاثرہ مریضوں میں تقسیم کر نا شروع کر دیں ،ڈینگی وائرس کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد صوبائی حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے مانسہرہ اور کاغان میں جلسوں میں خطاب کیا دونوں جلسوں میں انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کواپنا ہدف بنائے رکھا بلاول نے کہا کہ تبدیلی کی دعویدار تحریک انصاف کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے خیبر پختون خوا میں تمام اداروں خصوصامحکمہ صحت تعلیم اور فنی تعلیم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا گیا تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی فیس بک تک محدود ہے تحریک انصاف کی ترقی اور اصلاحات کے دعوئے فیس بک پر ہی کئے جا رہے ہیں جبکہ عملی طور پر لوگوں سے روز گار چھینا جا رہا ہے اور اب پارٹی کے اندر اعلیٰ عہدیدار وزرائاور ایم پی ایز ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزامات لگا رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اداروں کو تباہ کر رہیں ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور حکومتی اراکین پر کرپشن کی آوازیں تیزی سے بلند ہونے لگی ہیں بلکہ سرکاری ادروں کے ملازمین نے بھی کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دئیے ہیں۔ ضلع ناظم کے خلاف ڈسٹرکٹ ممبران نے کرپشن کی آواز اٹھائی اور نیب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جبکہ محکمہ صحت ،سی اینڈ ڈبیلو اور محکمہ تعلیم سے بھی کرپشن کے بڑے سیکنڈل سامنے آنا شروع ہو گئے دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ محکموں کے ملازمین خود یہ سکینڈل سامنے لا رہے ہیں گذشتہ روز ٹیوٹا کے ملازمین نے اپنے محکمے میں کرپشن کے خلاف پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا اس موقع پر اے این پی کے رہنما اور سابق صوبائی وز یر اطلاعات میاں افتخار حسین بھی مظاہرے میں شریک ہوئے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ٹیوٹا کے 20 ارب روپے ہڑپ کرنے کے لئے ووکیشنل اداروں کو تباہ کر رہی ہے میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں محکمہ تعلیم سی اینڈ ڈبلیو محکمہ صحت اور لوکل گورنمنٹ سمیت مختلف اداروں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت کی تمام پالیساں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں اور اس کے منفی اثرات سے عوام اور ملازمین متاثر ہو رہے ہیں انہوں نے کرپشن کے خلاف ملازمین کا ساتھ دینے کا بھی اعلان کیا۔

کرپشن کے اس شور شرابے میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلرز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے ممتاز عالم دین عطا اللہ شاہ کو شہید کر دیا ۔معروف عالم دین کے قتل سے سکیورٹی کے حوالے سے حکومت دعوؤں کو شدید دھچکا لگا اس سے چند دن پہلے بھی ڈیرہ میں ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو ٹارگٹ کرکے قتل کر دیا گیا تھا صوبائی حکومت کی طرف سے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے مختلف حلقے حکومت کے رویے پر شدید تنقید کر رہے ہیں ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -