ایم کیو ایم پاکستان کی طلب کردہ اے پی سی سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے منعقد نہ ہوسکی

ایم کیو ایم پاکستان کی طلب کردہ اے پی سی سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ ...

ابھی ہم کچھ عرصہ قبل ہونے والی بارش کے اثرات سے باہر نہیں نکلے تھے کہ پیر کے دن اور پیر کی شب ہونے والی طوفانی بارش نے شہری نظام زندگی کو مفلوج کردیا۔ 300سے زائد فیڈرٹرپ ہوگئے جس سے شہر کا بیشتر علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ نصف درجن سے زائد شہری جان بحق ہوگئے شہر کے بیشتر علاقوں میں ابھی تک بجلی بند ہے بارانِ رحمت کوخلق خدا کے لئے زحمت بنانے کے ذمہ دار وہ سب لوگ اور ادارے ہیں۔ جوکئی عشروں سے اس صوبہ میں ’’خراب حکمرانی‘‘ کو اپنا طرۂ امتیاز بنائے ہوئے ہیں، جس میں صوبائی حکومت اور شہری حکومت دونوں شامل ہیں، بدقسمتی سے صوبہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی ملک کے دوسرے صوبوں میں ایک ملک گیر قومی سیاسی جماعت کا دعویٰ کرتی ہے، مگر صوبے میں اس کے بارے میں ہر آنے والے دن میں یہ ’’تاثر‘‘ مزید گہرا ہوتا جاتا ہے کہ سندھ کے شہری علاقے کے باسیوں کی مشکلات کو دور کرنا اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اگرچہ سندھ کے شہری علاقے کے باسیوں کی محرومیوں کو دور کرنے کے لئے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں اور کراچی میں کسی حد تک ان کے دور میں ترقیاتی کام ہوتے نظر بھی آرہے ہیں، مگر صوبہ کا بنیادی مسئلہ ’’خراب حکمرانی‘‘ کا خاتمہ کرنا ہے۔ جس کے لئے ’’میرٹ‘‘ کا نظام بحال کرکے قواعدو ضوابط کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع پیدا کرنے کے لئے آئین پاکستان میں دیئے گئے طریقہ کار کو اپنانا پڑے گا۔ جس کو یقینی بنائے بغیر قانون کی ’’رٹ‘‘قائم نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اچھی حکمرانی قائم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے گا۔ سندھ میں خراب حکمرانی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ 1970ء کے بعد سے قائم ہونے والی کسی صوبائی حکومت کا کوئی سربراہ آئین اور قانون کے مطابق اپنی صوابدید پر حکمرانی کرنے میں آزاد تھا اور نہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ایک سے زیادہ وزیر اعلیٰ ہوتے ہیں۔ اس کا اعتراف خود محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) نے یہ کہہ کر کیا تھا کہ ’’سندھ میں ایک نہیں پانچ پانچ وزیر اعلیٰ اپنی اپنی چلاتے ہیں‘‘۔ جس کا ذکر محترمہ کی پہلی حکومت میں ان کے قومی سلامتی کے مشیر اقبال اخوند(مرحوم) نے اپنی کتاب ’’بے نظیر بھٹو کا پہلا دور حکومت میں‘‘ تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔1999ء میں منتخب حکومت پر شب خون مارنے والے جنرل (ر) پرویزمشرف نے 2002ء کے عام انتخاب کے بعد اپنی سیاسی ضرورتوں اور ذاتی مفادات کے تقاضوں کے حامل آئین میں دیئے گئے طریقہ کار سے ہٹ کر صوبہ سندھ میں ماورائے آئین نظام وضع کیا تھا، جس نے متوازی طور پر وزیر اعلیٰ کے اختیارات کو وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس میں تقسیم کرکے عملًا سندھ کو شہری سندھ اور دیہی سندھ میں تقسیم کردیا، جس کی ابتدا 1970ء کے عشرے میں پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں دیہی اور شہری کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم نافذ کرکے کی گئی تھی۔ اب آئینی طور پر ملک میں کوٹہ سسٹم کی مدت تو ختم ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود بدقسمتی سے صوبہ میں ’’میرٹ‘‘کا نظام بحال ہوا ہے اور نہ ہی دیہی اور شہری کی تفریق ختم کرنے کی طرف کوئی قابل عمل پیش رفت ہوتی نظر آرہی ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ سندھ میں 2018ء کا انتخاب بھی دیہی شہری کی تقسیم کو برقرار رکھنے کی پالیسی کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنا کر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم یہ دونوں جماعتیں انتخاب لڑنے جارہی ہیں۔

’’متحدہ‘‘ نے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اچھا فیصلہ کیا تھا لیکن ہوا یوں کہ پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، اے این پی، جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ن) نے شرکت سے معذرت کر لی اور کانفرنس کو ملتوی کرنا پڑا۔ جماعت اسلامی اور اے این پی کی طرف سے تو ایک رات قبل ہی پیغام بھجوا دیا گیا تھا کہ شرکت نہیں کی جائے گی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ان جماعتوں کی عدم شرکت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے یقین دلایا تھا کہ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے شرکت کی جائے گی۔ اسی طرح تحریک انصاف کی کراچی میں موجودہ قیادت نے بھی شرکت کرنے کا یقین دلایا تھا۔ زیادہ حیرت تو اس بات پر ہوئی کہ مسلم لیگ(ن) بھی شریک نہ ہوئی، جن کا گورنر اس کانفرنس کے حوالے سے بہت پُرجوش تھا۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہو گیا ہے عدم شرکت کا فیصلہ کہیں اور ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم مایوس نہیں البتہ حیران ضرور ہیں۔بڑی سیاسی جماعتوں کے شرکت کرنے پر میزبانوں کی تسلی کے لئے صرف مہاجر قومی موومنٹ (جس کے سربراہ آفاق احمد ہیں) اور پاک سرزمین پارٹی (مصطفی کمال کی قیادت میں سرگرم) ہی اے پی سی میں شریک ہونے کو تیار تھے۔ فاروق ستار نے خاص طور پر آفاق احمد اور مصطفی کمال کا تعاون اور ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو عجلت میں اے پی سی پلانے کی ضرورت ان کے سابق قائد الطاف حسین کی 14اگست کو یوم آزادی کی جگہ یوم سیاہ کے طور پر منانے کی ہزہ سرائی والے مذموم بیان کی وجہ سے محسوس ہوئی۔ خدا کا شکر ہے کہ الطاف حسین کی اس ہزہ سرائی پر اردو بولنے والی کمیونٹی نے اپنی شدید برہمی اور سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، اس اے پی سی کے مقاصد کے حوالے سے جو بات بھی کہی جائے اس کا بنیادی مقصد ایم کیو ایم پاکستان کا اردو بولنے والی کمیونٹی کو یہ باور کرانا ہے کہ اب ایم کیو ایم پاکستان کی صورت الطاف حسین یا لندن میں قائم ایم کیو ایم سکریٹریٹ سے کوئی تعلق اور رابطہ نہیں رکھے گی اگرچہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اس اے پی سی کے مقاصد بیان کرنے ہونے کہا کہ سندھ کے منتخب بلدیاتی اداروں کو آئین کے طے کردہ اختیارات اور وسائل کی فراہمی اور شہر کراچی کی ترقی و تعمیر میں مل جل کر کام کرنے پر اتفاق پیدا کرنا ہے اس اے پی سی میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اے این پی اور جماعت اسلامی نے عدم شرکت کا فیصلہ کرکے اس کا بائیکاٹ کردیا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس اے پی سی میں ماضی میں الطاف حسین کی قیادت میں کام کرنے والے تینوں دھڑوں کا بڑا مقصد 2018ء کے عام انتخاب میں اُردو بولنے والی کمیونٹی کے ووٹ بنک کو تقسیم ہونے سے روکنا ہے ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے ایک حالیہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ’’ہم پر‘‘ متحدہ قومی موومنٹ‘‘ کے نام سے دست بردار ہونے اور انضمام پر راضی ہونے کے لئے دباؤ ہے۔ بقول ڈاکٹر فاروق ستار وہ اس دباؤ کو قبول نہیں کریں گے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سندھ حکومت کے سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی گئی، تو انہوں نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ وہ بتائیں کہ کون ان پر یہ دباؤ ڈال رہا ہے؟ اس کا جواب تو ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ یا ان کی جماعت کا کوئی ترجمان ہی دے سکتا ہے، البتہ ماضی میں جب 1992ء میں فوجی آپریشن کے بعد 1993ء میں فوج کے ساتھ ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) کے تعلقات بحال ہوئے، تو الطاف حسین کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’’انہوں نے ایم کیو ایم (مہاجر قومی مومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ‘‘ بنانے کا فیصلہ اس وقت کی فوجی قیادت کے کہنے پر کیا تھا‘‘۔ انہی کے حکم پر 1993ء میں ہونے والے انتخاب میں قومی اسمبلی کے انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی خواہش پر کیا تھا۔ واضح رہے کہ اس کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس سے بے نظیر بھٹو (شہید) کو مرکز میں حکومت سازی میں ایم کیو ایم کی بارگینگ پوزیشن کم کرکے پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کے دباؤ سے آزاد رکھنا تھا، جیسے ہی قومی اسمبلی کے انتخابات ختم ہوئے تو تین دن بعد ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں الطاف حسین نے بھرپور حصہ لینے کی ہدایت کردی اور ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے کراچی اور حیدر آباد میں مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کو ایم کیو ایم کے امیدواروں کے حق میں دست بردار ہونے کی ہدایت کی تھی۔ اس وقت کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ آنے والے انتخاب میں’’مہاجر‘‘ کے نام پر سیاست کرنے والے سارے دھڑے ضم ہو جائیں یا الگ الگ انتخاب میں لڑیں اردو بولنے والی کمیونٹی کا ’’ووٹ بنک‘‘ تقسیم ہونے کے بجائے کسی ایک کے بیلٹ بکس میں تو جائے گا، فی الحال زیادہ امکان یہی ہے کہ انتخاب سے پہلے پہلے کوئی اتفاق رائے ہو جائے گا، 2018ء کے انتخاب میں الطاف حسین بائیکاٹ میں پہل کرے یا ’’وفاپرستوں‘‘ کے نام پر آزاد امیدواروں کو ووٹ دلانے کا فیصلہ کریں۔ اردو بولنے والی کمیونٹی کے نزدیک وہ انتخابی سیاست میں سے آؤٹ ہو چکے ہیں، تاہم اس زمینی حقیقت کا ادراک بھی ان سیاسی جماعتوں کو ضرور ہونا چاہئے کہ سندھ کے باشندے عشروں سے جس نسلی اور لسانی سیاست کے اذیت ناک عذاب کے اسیر اور یرغمالی بنے رہے ہیں، اس سے نجات کا اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ تمام ملک گیر سیاست کی دعوے دار جماعتیں جب تک سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں آباد وسائل سے محروم لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے پر توجہ نہیں دیں گی اور اپنی پالیسی میں بنیادی ترجیحات میں دیہی، شہری کی خلیج کم کرنے کے لئے ’’میرٹ‘‘ کا نظام بحال نہیں کریں گی، یہ صوبہ نسلی، لسانی سیاست کے عذاب کی آگ میں جلتا رہے گا۔ جس سے پاکستان کے ازلی دشمن فائدہ اٹھائیں گے کراچی کے صوبائی حلقہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخاب میں الطاف حسین نے بائیکاٹ کرنے کا حکم دے کر ایم کیو ایم کے ووٹروں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی تھی۔ مگر پولنگ کے دن دنیا بھر کے میڈیا نے دیکھا کہ ایم کیو ایم کا ووٹر بھرپور طریقہ سے گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالنے کے لئے آیا تھا۔ جس میں الطاف حسین ناکام رہا تھا۔ ایم کیو ایم کے امیدوار کی ناکامی کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کا ووٹر گھر سے نہیں نکلا تھا بلکہ میاں نوازشریف کا ووٹر ان سے مایوس ہو کر پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی کے ساتھ چلا گیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1