پشاور،دم توڑتی دہشت گردی کے ساتھ ہی’’ آئس ‘‘کا عفریت سر اٹھانے لگا

پشاور،دم توڑتی دہشت گردی کے ساتھ ہی’’ آئس ‘‘کا عفریت سر اٹھانے لگا

  

زمانہ بدلنے کے ساتھ معاشرے میں ہر سطح پر تبدیل آرہی ہے، وقت آگے بڑھنے کے ساتھ کئی شعبے کمپیوٹر ائز اور ڈیجیٹل ا ئز ہوچکے ہیں اسی طرح تعمیری، تربیتی شعبوں اور جرائم پیشہ گرہوں کی تیکنیکس ،طریقہ کار اورجرائم کی نوعیت بھی بدلتی جارہی ہے، یہاں ذکر کریں گے معاشرے پر عفریت بن کر چھانے والی نئی بلا ’’آئس‘‘ کے بارے میں ۔

خیبر پختونخوا پولیس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ مثالی رہی جبکہ جرائم پیشہ افراد اور گروہوں سے ساز باز کے بارے میں باز پرس اور قانون کے مطابق کاروائی کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کے جرائم روکنے میں منظم انداز میں ملوث ہونے کی شرح میں بھی بتدریج کمی آئی ہے ،جرائم کی نوعیت بدلنے خصو صاً منشیات کی تجارت اور ان کے استعمال کے حوالے سے رحجانات بدلنے کی وجہ سے پولیس کے انداز کار اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی کے لئے تقاضے بھی بدل گئے ہیں،جادوئی طاقت کا حامل آئس نامی نشے کا استعمال ابتداء میں افغانستان میں نیٹو فورسز میں جنگی صلاحتیں بڑھانے کیلئے شروع کیا گیا جس کے بعد یہ بلاسرحد پا خیبر پختون خوا میں داخل ہوئی اس کی بڑی مقدار افغانستان سے پاکستان سمگل ہورہی ہے جبکہ اس کے علاوہ ایران اور چین سے بھی یہ نشہ مختلف طریقوں سے یہاں پہنچ رہا ہے ۔موجودہ دور میں نشہ آور جنس کے طور پر استعمال ہونے والے کیمیکل آئس کے استعمال اور تجارت میں بہت وسعت اختیار کرگئی ہے اور معاشرے کی ہر سطع پر انسانیت کو کھوکھلا کردینے والی عفریت کی شکل اختیار کرگئی ہے آئس کا استعمال جہاں ایک طرف فیشن کا حصہ بن گیا ہے وہیں پر معاشرے کے ہر طبقے میں اس کے استعمال کا رحجان بڑھ رہا ہے اس پر مزید یہ کہ مختلف اقسام کی آئس شہر بھر میں باآسانی مل جاتی ہے جبکہ چوبیس گھنٹے کے دوران آئس کی خریدو فروخت کے دام بھی بدلتے رہتے ہیں پشاور شہر اور گردو نواح کے مختلف مقامات پر فی گرام ’’آئس ‘‘ کا نرخ 8سو روپے سے 23سو روپے تک پہنچ جاتا ہے اس میں انتہائی ناقص کیمیکل اور مہنگے وقت کی انتہائی قیمت شامل ہے ،یہ بھی المیہ کہ انتہائی غریب مزدور پیشہ ،بچوں ،طلبہ ،خواتین ،خواجہ سراء اور بعض معزز طبقات میں آئس کے استعمال کے رحجان تیزی سے پھیل رہا ہے ۔

آئس کا بے قابو پھیلاؤ معاشرے کو مختلف طرز پر متاثر کر رہا ہے ایک طرف انسانی صحت اور اور صلاحیتوں کو تباہی کی طرف لے جایا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف منشیات کے عادی افراد کی جانب سے اپنے من پسند نشے کے حصول کے لئے جرائم کی طرف جانے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں کیونکہ خصوصاًطالبعلم اور کم آمدنی والے طبقات کے لئے آئس خریدنا ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں۔

معاشرے میں مظبوطی سے جڑیں گاڑے چرس، ہیروئن اور دیگر مختلف قسم کی منشیات کے بعد آئس معاشرے پر ایک نئی عفریت بن کر پھوٹ رہا ہے،اس صورتحال کا جہاں حکومتی سطح پر،معاشرے کے باشعو ر طبقات اور قانون نافذ کرنیو الے ادارو ں کے لئے ادراک ضروری ہے وہیں اس تدارک کے لئے فوری ،منظم اور موثر اقدامات بھی ضروری ہیں۔کیونکہ آئس معاشرے کے لئے دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ناسور بنتا جارہا ہے ،اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو شاید اس معاملے میں پچھتانے کے لئے بھی کچھ باقی نہ بچے۔

پنجاب سے پشاور آنے والا دودھ نما سفید زہرانسانی زندگیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ،اس دودھ کا استعمال عام ہوچکا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق پشاور میں اسوقت ہر روز تقریباً نوے لاکھ روپے کا کیمیکل ملا دودھ پیئے جانے کے علاوہ دکانوں ہوٹلوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے تیار کرنے میں استعمال ہورہا ہے اس دودھ میں خطرناک کیمیکل فارمین جو کہ لاشوں کو محفوظ رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کیمیکل گردوں کے امراض اور کالے یرکان کا سبب بنتا ہے یہ کیمیکل دودھ کی زندگی تو بڑھا دیتا ہے لیکن انسانی زندگیوں کیا خاتمہ کر رہا ہے پشاور کے ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینکس میں آنے والے زیادہ ترمریض کالے یر کان اور گردوں کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔گزشتہ روز ضلع ناظم پشاور محمد عاصم خان نے ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر معصوم شاہ اور اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ اندرون شہر کے مشہور و معروف صابر دودھ فروش کی دکان پر چھاپہ مارتے ہوئے دکان میں موجود دودھ کا تجزیہ کیا اور اس میں خطرناک کیمیکل فارمین کی موجودگی کی تصدیق کے بعد لاکھوں روپے مالیت کیا دس ہزار لیٹر سے زیادہ دودھ تلف کیااوردکان کو سیل کرکے مالک سمیت چار افراد کو جیل منتقل کردیا ،ضلع ناظم نے کہاکہ کے عوام جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں انکے خلاف سخت سے کاروائی کی جائیگی ۔شہریوں نے ضلعی حکومت کی کارکردگی کوسراہا اورموبائل لیبارٹری کے قیام پر خوشی کااظہار کیا ۔ضلعی ناظم کی کاروائی لائق تحسین ہے لیکن۔۔۔!اب بھی پشاور کے بیشتر علاقوں میں پنجاب سے آنیوالا کیمیکل ملے دودھ کی خریدو فروخت ہورہی ہے اورمتعددمقامات پر کنٹینرز کے زریعے یہ سفید زہر سپلائی کیا جارہا ہے جو کہ شہر کی گلی کوچوں اور بازاروں میں دکا نداروں پہنچارہے ہیں

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس دکان سے دودھ برآمد ہوا یہ دکاندار عرصہ دراز سے اسی مکروہ دھندے میں ملوث ہے اور بہت سے اخبارات میں اس حوالے سے خبریں بھی چھپ چکی ہیں بہر کیف ’’دیر آئے درست آئے ‘‘دوسری جانب اگر ایک دکان سے دس ہزارلیٹر سے زائد کیمکل ملے دودھ کی برآمد ہوتا ہے تو پورے پشاور میں اگر ٹارگٹڈ آپریشن کیا گیا تو یہ خیال غلط نہ ہوگا کہ شہر کی نالیوں سے بہنے والا کالے رنگ کا گندا پانی کئی روز تک سفید رہے گا،کیمیکل ملے دودھ کی فروخت سے معاشرے میں اعتماد کی کمی بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے کھلے دودھ کے بجائے زیادہ تر خشک دودھ اور ڈبے والے دودھ کا استعمال ہورہا ہے۔ شاید اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس جرم کے خلاف انتہائی اقدام اٹھائیں جائیں اور نا صرف دکانوں پر چھاپے مارے جائیں بلکہ پنجاب سے پشاور منتقل ہونے والے دودھ سے کنٹینرز کو مکمل چھان بین کے بعد چھوڑا جائے جبکہ دودھ میں اس خطرناک کیمیکل کی موجو دگی کی تصدیق ہونے پر اس میں ملوث گروہوں کو قابل واقعی سزائیں دیں جائیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -