انسانی سمگلنگ کا مکروہ دھندا کون روکے گا؟

انسانی سمگلنگ کا مکروہ دھندا کون روکے گا؟

  

گجرات کا شمار ملک کے ان اضلاع میں سرفہرست ہے جس کے رہائشی نوجوان اکثریت میں دنیا بھر کے ممالک میں مقیم ہیں حتی کہ پاکستان سے بھی پسماندہ ممالک میں کہیں نہ کہیں پاکستانی یا گجراتی مل جاتا ہے ہر دوسرے گھرانے کا کوئی چشم و چراغ یا تو عرب ممالک میں مقیم یا پھر یورپ ‘ امریکہ ‘ اور براعظم آسٹریلیامیں ہے انسانی اسمگلروں کی سب سے بڑی تعداد گجرات میں ہے اور وہ کسی نہ کسی طریقے سے نوجوانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرکوں ‘ کنٹینروں ‘ کار کی ڈگی میں لاد کر ایران سے ترکی اور ترکی سے یونان پہنچانے میں مصروف ہیں ترکی تک پہنچانے کے لیے انسانی اسمگلرز چار سے پانچ لاکھ روپیہ وصول کرتے ہیں والدین کسی نہ کسی طریقے سے یہ رقم اکٹھی کر کے ان اسمگلروں کو محض اس لیے دیتے ہیں کہ ان کا بچہ خیر خیریت سے منزل مقصود تک پہنچ جائے گھر سے روانہ ہوتے وقت نوجوان جوں جوں آگے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اسی رفتار سے وہ اپنے گھر والوں سے بھی غیر معینہ مدت کے لیے دور ہوتے چلے جاتے ہیں ایک مختاط اندازے کے مطابق سو میں سے تیس نوجوان ترکی یا یونان پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں باقی راستے میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں ترکی میں کرد باشندے انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیے جانیوالے راستوں میں گھات لگا کر قافلوں کی صورت میں جانیوالے نوجوان کو گرفتار کر لیتے ہیں اور انہیں نجی عقوبت خانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے ان سے جمع پونجی چھیننے کے بعد گھر والوں کو فون کرایا جاتا ہے کہ ویسٹرن یونین کے ذریعے مطلوبہ رقم بجھوا دی جائے وگرنہ اسے ہلاک کر دیا جائے گا اس مقصد کے لیے وہ ان کو اس قدر اذیتیں دیتے ہیں اور اہل خانہ کو ان کی چیخ و پکار سنائی جاتی ہے کہ وہ رقم بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ایف آئی اے گجرات کے انچارج چوہدری محمد سرور اور ان کی ٹیم اپنی استطاعت سے بڑھ کر ان انسانی اسمگلروں کو گرفتار کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘ انسانی اسمگلر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے گزشتہ 14 سال کے دوران ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں بیرون ملک ملازمت، تعلیم سمیت دیگر مقاصد کیلئے غیر قانونی طور پر تقریبا10 لاکھ افراد انسانی اسمگلنگ کی نذر ہوچکے ہیں انسانی اسمگلنگ کی نذر ہونے والے 6 لاکھ سے زائد افراد منظر عام پر ہیں جب کہ 3 لاکھ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے خفیہ طور پر یا دھوکا دہی کے ذریعے کسی شخص کو دوسرے ملک کی سرحد عبور کرتے ہوئے اس ملک میں داخل کرانا ہے بین الاقوامی سطح پر اسمگلنگ ایک منظم اور بھیانک جرم ہے، اس جرم سے کسی قسم کا فائدہ حاصل کرنا یا کسی قسم کی معاونت کرنا بھی جرم ہے یہ ایک منظم جرم اور بڑا منافع بخش کاروبار اور پیسہ کمانے کا آسان طریقہ ہے، جس میں ایجنٹس کے پورے پورے نیٹ ورکس ملوث ہوتے ہیں بہتر معاشی مستقبل، غربت کی وجہ سے اکثر لوگ بیرون ملک جانے کی کوششیں کرتے ہیں ایجنٹس نیٹ ورکس ان کو قانونی طریقے سے باہر لے جانے کی بجائے غیر قانونی طریقوں سے سرحد عبور کرانے کا انتظام کرتے ہیں اور اس انتظام کرنے پر بھاری رقوم بھی حاصل کرتے ہیں سادہ لوح لوگوں کو لو ٹنا انسانی اسمگلروں کا انتہائی آسان روزگار اور مفید مشغلہ بن چکا ہے کوئی شخص بیرون ملک کیا چلا جاتا ہے، وہ واپس آتے ہی سب کو بیرون ملک بھجوانے کا دھندہ شروع کر دیتاہے ورک پرمٹ پر بیرون ملک جانے والے افراد کی اکثریت دیہات اور قصبوں سے ہوتی ہے اور دیہاتی لوگ اپنی محدود سوچ اور سادگی کی وجہ سے شہر میں کسی رجسٹرڈ ادارے کی بجائے علاقے کے افراد کے ذریعے جانے کو ترجیح دیتے ہیں،مگر یہ پہلو انکولٹنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اپنے ہی حصول زر کی ہوس میں پرائے ہوچکے ہوتے ہیں ہر سال 30 ہزار سے زائد افراد اسی طرح لٹتے ہیں ملک میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال، بے روزگاری اور سنہری مستقبل کے خواب دیکھنے والے اکثر نوجوان ملک سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے قانونی و غیر قانونی راستے اپناتے ہیں، جہاں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ مافیا کے کارندے انہیں اپنے جال میں جکڑ لیتے ہیں غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک میں داخل ہونا انتہائی مشکل اور ایک بہت اذیت ناک سفر ہوتا ہے بہت سے لوگ دوسرے ممالک کی سرحد عبور کرتے ہوئے مختلف طرح سے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں غیر قانونی سرحد عبور کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد راستے میں ہی یا تو گرفتار ہوجاتی ہے یا پھر سرحدی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتی ہے کچھ لوگ مختلف ممالک میں صحرائی علاقوں سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن طویل صحرا میں پانی اور کھانے کی اشیاکے ختم ہوجانے اور مسلسل چلنے کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں بہت سے افراد بحری جہازوں کے تہہ خانوں میں دم گھٹنے سے یا پھر پکڑے جانے کے خوف سے ایجنٹس کے ہی ہاتھوں سمندر برد کردیے جانے سے مرجاتے ہیں گزشتہ عشرے میں غیر قانونی طور پر بیرون ممالک جانے والے معصوم خواہشمندوں کے لٹنے اور جان سے گزر جانے کے حادثات متواتر میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئے جس میں کشتی الٹنے، کنٹینروں میں دم گھنٹے، آگ لگنے کے باعث ہزاروں ہلاکتیں ریکارڈ پر موجود ہیں ایجنٹ حضرات بیرون ملک جانے کے خواہشمندوں کو اپنے جال میں پھنسا کر رقم بٹور لیتے ہیں لیکن ناگہانی صورت میں انہیں تنہا چھوڑ جاتے ہیں جس کا نتیجہ بیرون ملک گرفتاریوں اور اس سے پہلے حادثات کی شکل میں سامنے آتا ہے ان ایجنٹوں کے خلاف مختلف فورم پر شکایتیں بھی درج کرائی گئیں، لیکن کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اورعدم تحفظ کے باعث انسانی اسمگلنگ کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے دیگرجرائم کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ کاگھناؤنا کاروباربھی خوب پھل پھول رہاہے غریب عوام کنبے کی کفالت اوربہتر مستقبل کے لیے آئے دن انسانی اسمگلرز کا شکار بن کرنہ صرف اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ دیار غیر میں صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں انسانی اسمگلنگ کی دیگر اقسام کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ تر ایسے افراد کی اسمگلنگ کے واقعات پیش آتے ہیں جو بہتر روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طریقوں سے یورپ اور مشرق وسطی کے ملکوں کا سفر کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں ملک میں انسانی اسمگلنگ میں اضافے کی ایک وجہ پاکستان کا جغرافیہ اور کئی ممالک سے منسلک اس کی طویل سرحدیں بھی ہیں ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 900 کلومیٹر طویل ہے جہاں سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں کیونکہ صرف تافتان کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان امیگریشن مرکز ہے اور وہ بھی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہے پاکستان میں بلوچستان سے ایران پھر ترکی اور پھر وہاں سے یونان یہ ایک روایتی راستہ رہا ہے اور جب اسمگل کیے جانے والے افراد مطلوبہ ملک میں پہنچ جاتے ہیں، بشمول یورپی ملکوں میں تو وہاں موجود ایجنٹس انہیں ان کی مرضی کی منزلوں پر بھیج دیتے ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کی سرحد پر ایران میں مند بیلو کا علاقہ انسانی اسمگلروں کے زیر استعمال ہے انسانی اسمگلروں نے ہزاروں افراد کو ملیشیا بھی پہنچا دیا ہے جہاں پہلے اس برادر اسلامی ملک میں پاکستانیوں کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھا جاتا تھا مگر اب ائیر پورٹ پر اترتے ہی ان کی علیحدہ لائن بنا دی جاتی ہے اور انہیں ائیر پورٹ کی حوالات میں ڈال دیا جاتا ہے ملیشین امیگریشن حکام کی اکثریت ملیشیا پہنچنے والے پاکستانیوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کردیتی ہے اور واپس پاکستان بجھوا دیا جاتا ہے ایسے پاکستانی جو غیر قانونی طریقے سے ملیشیا پہنچتے ہیں نے اب امیگریشن حکام کو بھی رشوت پر لگا دیا ہے یا تو وہ بھاری رشوت لیکر باہر نکال دیتے ہیں یا پھر گرفتار کر کے واپس بجھوا دیا جاتا ہے انسانی اسمگلنگ میں صرف مرد ہی نہیں خواتین بھی شامل ہیں جو اس مذموم کاروبار میں ملوث ہیں پنجاب پولیس ان کے خلاف کاروائی سے گریز کرتی ہے اور متاثرین کو ایف آئی اے کا راستہ بتا دیا جاتا ہے جہاں ایک طویل اور تھکا دینے والے مراحل سے گزرنے کے بعد مقدمہ درج ہوتا ہے اگر ملزم گرفتار ہو جائے تو اسے جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے وگرنہ وہ پہلے سے موجود ہزاروں انسانی اسمگلروں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے او پی ایف کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے گزشتہ دنوں یونان کا سرکاری دورہ کیا جہاں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے علاوہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے محکمہ کے سربراہ نے ان سے سفارتخانے میں ملاقات کی وہ یہ سن کر ششدر رہ گئے ہیں کہ صرف یونان کی جیلوں میں پانچ ہزار سے زائد پاکستانی نوجوان جن کی عمریں کم سے کم بارہ سال تک ہیں پابند سلاسل ہیں انہیں پاکستان بجھوانا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہے ان کی پہلے سفری دستاویزات تیار کرنا اشد ضروری ہوتا ہے تاکہ کوئی غیر ملکی پاکستان میں داخل نہ ہو جائے اسی طرح ہزاروں پاکستانی ترکی میں بھی بے یارو مددگار پڑے ہیں اور وہ با امر مجبوری سڑکوں ‘ پارکوں ‘ پر سونے پر مجبور ہیں ان کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں بلکہ اگر کوئی واپس پاکستان جانے کے لیے اپنے اہل خانہ کے توسط سے رابطہ کرتا ہے تو سفارتخانے کا عملہ انہیں دھتکار دیتا ہے سفری دستاویزات اس لیے ضائع کر دی جاتی ہیں تاکہ ان کے پکڑے جانے پر انہیں واپس نہ بجھوایا جا سکے اس دوران متاثرہ شخص کا عزیز و اقارب یا والدین کسی مسئلے کا شکار ہو جائیں یا کوئی افسوسناک خبر ہو تو وہ پاکستان آنے سے قاصر رہتے ہیں او پی ایف کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک جنہوں نے مختلف عرب ممالک کے علاوہ یورپین ممالک کا بھی دورہ کیا نے اس حوالے سے ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ صرف برطانیہ میں لاکھوں افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں وہ جہاں بھی جاتے ہیں حتی کہ متحدہ عرب امارات کی جیلیں بھی پاکستانیوں سے بھری پڑی ہیں حال ہی میں قطر نے عرب ممالک کی طرف سے بائیکاٹ کے مضمرات سے نمٹنے کے لیے 80ممالک کے لیے ویزا فری ملک قرار دیا ہے جن میں بھارت بھی شامل ہے مگر بدقسمتی سے ان 80ممالک میں پاکستان کا نام شامل نہیں دنیا کے چند انگلیوں پر گنے جانے والے ممالک کے لیے جہاں فاقہ مستی اور بیروزگاری عروج پر ہے پاکستانی پاسپورٹ پر بغیر ویزے کے داخل ہونے کی اجازت ہے مگر ا ن ممالک کو بھی انسانی اسمگلروں نے دیگر ممالک میں داخل ہونے کا راستہ بنا رکھا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ گجرات جیسے اہم ضلع سے انسانی اسمگلروں کیخلاف بھر پور کاروائی کر کے نوجوان نسل کو تباہی اور بربادی سے بچایا جائے وگرنہ اچھے دنوں کی امید میں انسانی اسمگلروں کا شکار ہونیوالے نوجوانوں کے والدین روتے روتے نہ صرف اپنی بینائی کھو دیں گے بلکہ بعض تو اپنے چشم و چراغ کو دیکھنے کی حسرت لیے شہر خاموشاں کو چلے جاتے ہیں حکومت پاکستان کو دنیا بھر کی جیلوں میں قید لاکھوں پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے بھر پور جدوجہد کرنی چاہیے اور اس سلسلہ میں او پی ایف ایک نمایاں رول ادا کر سکتی ہے اور سفارتخانوں کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ اگر کوئی دستاویزات نہ رکھنے والا پاکستانی ان سے رجوع کرتا ہے تو اسکی تصدیق فاسٹ ٹریک پر کرنے کی بجائے اسکو پاکستان بجھوانے کا بندوبست کیا جائے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -