بے سہارا خواتین کو بے دردی سے قتل کرنے والے کا انجام

بے سہارا خواتین کو بے دردی سے قتل کرنے والے کا انجام

سی آئی اے پولیس کے ہاتھوں پولیس مقابلے میں مولوی یوسف اپنے ساتھی کی فائرنگ سے مضروب ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ بظاہر یہ واقعہ نہایت دلدوز ہے مگر گہرائی میں جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اپنے کئے کی سزا ملی ہے ۔ درندہ صفت شخص نے شکم کی آگ بجھانے کے لئے آسان ر استہ ڈھونڈا ۔سر پر سفید ٹوپی پہنے یہ ظالم سڑکوں، بس سٹینڈ و رکشہ سٹینڈ پر کھڑی معمر عورتوں کو باتوں باتوں میں یقین دلاتا کہ خوفِ خدارکھنے والے مختلف فیکٹریوں کے مالک اس کے جاننے والے ہیں جو غریب اور بے سہارا عورتوں کی مدد کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں ۔غریب عورتیں لالچ میں آ کر اس کے ساتھ چاند گاڑی میں بیٹھ جاتیں۔ انسانیت سے عاری یوسف بوڑھی عورتوں کو ویرانے میں لے جاتا ، نہایت بے دردی سے سر میں اینٹ مار کر ہلاک کر دیتا اور نقدی و زیورات اور دیگر اشیاء چھین کر فرار ہو جاتا ۔گزشتہ تقریباً دس سال میں اس درندے کے ہاتھوں ڈھائی درجن کے قریب بے گناہ معمر خواتین ہلاک ہوئیں۔ ان بہمیانہ قتلوں پر انسانیت بلبلا اٹھی ۔گوجرانوالہ میں بھی پینتالیس یوم میں مختلف اوقات میں اس نوعیت کے چھ قتل ہوئے ۔ظالم کی تلاش شروع ہوئی ۔ خدا کی لاٹھی حرکت میں آئی۔ سٹی پولیس آفیسر اشفاق خان نے وقت کے فرعون کو اس کے انجام تک پہنچایا ۔ شر پسند و جرائم پیشہ عناصر کی تلاش اور انسداد جرائم کے لئے ضلع بھر میں پولیس نے موبائل ناکہ بندی کروا رکھی تھی۔ ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑ کی نگرانی میں بھی اے ایس آئی ارشد بھٹے وڈ، محمد ادریس، غلام مرتضیٰ، ساجد حسین، ولی داد وغیرہ صنعت روڈ پر کھڑے دوران ناکہ بندی اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے تھے ۔ کہ اس دوران ریلوے لائن پار سے ایک موٹر سائیکل پر سوار دو کس مشکوک اشخاص آئے ۔ ناکہ پر موجودسی آئی اے جوانوں نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا ۔موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ناکہ پوائیٹ پر رکنے میں اپنی موت جانی اور رکنے کی بجائے اپنا موٹر سائیکل پھینک کر قریبی جوار کی فصل میں گھس کرپولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس پارٹی نے بھی حفاظت خود اختیاری کے تحت جوابی فائرنگ کی ۔دو چار منٹ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ فائرنگ کی خاموشی کے بعد پولیس کو موقعہ سے اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کی لاش ملی۔ ہلاک ہونے والے شخص کا ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ لاش کے قریب سے پسٹل ، جیب سے شناختی کارڈ اور نقدی اور موٹر سائیکل ملا۔موٹر سائیکل اور کاغذات کی جانچ پڑتال سے ہلاک ہونے والے شخص کی محمد یوسف سکنہ سیالکوٹ حال رانا کالونی کے نام سے شناخت ہوئی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزمان کے زیر استعمال موٹر سائیکل گزشتہ دنوں تھانہ سبزی منڈی کے علاقے سے چھینا گیا تھا۔ہلا ک ہونے والے ملزم کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے۔ہلاک ہونے والا باریش ملزم یوسف لاری اڈوں، رکشہ اڈوں اور رش والے مقامات سے معمر عورتوں کو مالی مدد کرنے کے بہانے اپنے ساتھ لے جاتا اور سنسان جگہ پر لے جا کران سے نقدی و قیمتی اشیاء چھین کر تشدد کر کے انہیں قتل کر دیتا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے سیالکوٹ میں 20،گجرات میں ایک اور گوجرانوالہ میں 6عورتوں کو قتل کیا تھا ۔سیالکوٹ میں درج مقدمات کے حوالے سے ملزم تقریباً آٹھ سال جیل رہا اور ہال ہی میں رہا ہو کر آیا تھا۔غور طلب پہلو ہے کہ بیس کے قریب قتل کے مقدمات میں ملزم کا جیل سے ر ہا ہو کر آ جاناہمارے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ اگرملزم اس دوران اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا تو وہ رہا ہوتے ہی اپنی پرانی جرائم پیشہ زندگی کو ہرگز نہ دہراتا۔ ملزم نے دیکھا کہ بائیس کے قر یب انسانی قتل نے اس کاکچھ نہیں بگاڑا ۔ لہٰذا اسی ذریعہ کمائی کو دہراتے ہوئے سردار فیملی ہسپتال گوجرانوالہ کے قریب معمر عورت مسرت خانم کے گھر داخل ہوا اور اس سے چھ ہزار روپے چھین کر اس کا سرزمین پر پٹخ کر ہلاک کیا اور فرار ہو گیا ۔ نذیراں بی بی کو سرفراز کالونی سے ورغلا کر چندا قلعہ کے قریب لے گیا اور اس سے چار ہزارر وپے چھین کر تشدد کر کے ہلا ک کر دیا ۔مریدکے سے بوڑھی عورت کو ورغلا کر موضع گھنیاں کامونکے کے قریب لوٹ کر قتل کیا۔ مسمات رقیہ بی بی کو کنگنی والا سے چاند گاڑی پر بٹھایا اور فیروز والا کے قریب اس سے پانچ سو روپے چھینے اوربعد ازاں تشدد کانشانہ بنا کر ہلاک کیا۔ رکھ کیکرانوالی کی رہائشی مسمات سلمیٰ بی بی کو ورغلا کر سیالکوٹ بائی پاس کے قریب لایا جہاں اس سے نقدی چار سو روپے چھین کر اسے قتل کیا ۔اعوا ن چوک سے معمر خاتون کو ورغلا کر چندا قلعہ کے قریب اس سے نقدی چھین کر اسے قتل کر دیا ۔ تمام وارداتیں دو ماہ کے دوران ہوئیں جن کے مقدمات مختلف تھانہ جات میں درج ہیں۔سٹی پولیس آفیسر اشفاق خان کی ہدایت پر معمر عورتوں کو ہلاک کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کے لئے اضلاع کی دیگر پولیس ٹیموں کے ساتھ ساتھ سی آئی اے پولیس کی ٹیم بھی متحرک تھی ۔ضلع سیالکوٹ میں بھی اسی قسم کی بائیس وارداتیں ہو چکی تھیں ۔ وہاں سے بھی سی آئی اے پولیس نے ڈیٹا اکٹھا کیا اور ملزم کی گرفتاری کے لئے مختلف زاویوں پر کام شروع کیا ۔حیرت اس وقت ہوئی جب صنعت روڈ پر باریش اور سر پر ٹوپی پہنے ہوئے شخص کی دوران پولیس مقابلہ ہلاکت ہوئی ۔ قبل ازیں تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے اور ہلاک ہونے والے شخص کی جسامت وظاہری حلیہ دیکھتے ہوئے فوری طور پر پولیس ریکارڈ سے مدد لی گئی تو معلوم ہوا کہ سی آئی اے پولیس کے حصہ میں ایک بہت بڑی کامیابی آ چکی ہے ۔ معمر خواتین کے سیریل قتل کے حوالے سے تمام الجھی ہوئی گتھیاں سلجھ چکی ہیں ۔ اس بد بخت کی لاش پولیس کے سامنے پڑی تھی جس نے اڑھائی درجن کے قریب بے گناہ بوڑھی عورتوں کو شکم پروری کے لئے قتل کیا تھا۔مقدمہ درج ہوا ۔ کئی اسرار کھلے اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہلاک ہونے والا ملزم محمد یوسف و ارداتوں کے دوران نہایت سفاکی کا مظاہرہ کرتا ۔سیالکوٹ میں ملزم ’’سیریل کلر ‘‘کے نام سے مشہور تھا ۔غیر شادی شدہ تھا ۔ مجبور اور غریب بوڑھی عورتوں کو لوٹنے کے لئے شائستہ گفتگو کے ذریعے انہیں اپنے دام میں پھنساتا۔خطرناک ملزم اور’’معمر عورتوں کے سیریل کلر ‘‘کی ہلاکت پر علاقے کے لوگوں نے سی آئی اے اورضلعی پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ۔ قارئین کرام !سٹی پولیس آفیسر اشفاق خان نے گوجرانوالہ میں تعیناتی کے ابتدائی ایام میں ہی شرپسند اور ظالموں کے لئے اپنے ایک پیغام میں خبر دار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گوجرانوالہ میں امن تباہ کرنے والوں سمیت شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے والوں کی کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ایسے اشخاص کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی ۔ آہنی ہاتھ استعمال کرتے ہوئے انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔اس پیغام کی گونج کانوں کان سنائی دی اور گوجرانوالہ میں امن کی صدا بلند ہونے لگی ۔ جن لوگوں نے اس پیغام کو بے جان محسوس کیا وہ اپنے انجام کو پہنچے۔

مزید : ایڈیشن 2