تھانوں کا ماحول عوام دوست بناکر سفارشی کلچر ختم کرنا اولین ترجیح ہے

تھانوں کا ماحول عوام دوست بناکر سفارشی کلچر ختم کرنا اولین ترجیح ہے

  

 ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہانزیب نذیر خان ایک محنتی اور محکمانہ معاملات سے متعلق عمدہ سوچ کے متحمل اورجدید مہارتوں کے حامل پولیس آفیسر ہیں پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بہتر او رموثر طریقے سے چلانے کیلئے جدت پسند خیال کیے جاتے ہیں ‘اپنی بہترین قائدانہ صلاحیتوں او ربہترین حکمت عملی کے ذریعے خانیوال میں جرائم کو کنٹرول کرنا او رشہریوں کے لیے امن و امان کی صورتحال پید اکرنا یقیناًیہ سہرا انہی کے سر ہے ۔ان کا خیال ہے کہ تمام افسران کو محکمہ کی عزت وقار کو ہر وقت ملحوظ خاطر رکھنا چائیے جبکہ افسران او رماتحتوں کے درمیان اعتماد کی فضاء ہونی چائیے ماتحتوں کو چائیے کہ اپنے مسائل اپنے افسران کو بیان کریں بجائے ادھر ادھر کی سفارشات ڈھونڈنے کیلئے اپنے مسائل براہ راست اپنے آفیسر کو بتائیں اور افسران کو بھی چائیے کے اپنے ماتحتوں کے مسائل ہر ممکن حد تک ہرحل کریں ۔ان کے مطابق ایک ایسی فضاء ہونی چائیے کہ پولیس ملازمین کوئی بھی غلط کام کرتے وقت یہ سوچیں کہ میرے اس عمل سے محکمہ اور میرے افسران کی عزت پر حر ف آئے گا اور ایسے کاموں سے باز رہے یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب دونوں کا انسانی سطح پر ایکدوسرے سے رابطہ ہو اور افسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ وقت گزاریں ۔روز نا مہ پاکستان کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویومیں انہو ں نے بتایا کہ وہ 28فروری 1974میں روشنیوں کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کی اور ایل ایل بی میں ٹاپ کرنے کے بعدفروری 2002میں سول سروس اکیڈمی لاہور اور ستمبر2002میں نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں تربیت حاصل کی ۔ان کی پہلی پوسٹنگ 2003میں بطور اے ایس پی بلوچستان ہوئی ‘2004میں اے ایس پی سٹی لاہوراور 2005میں اولڈ انار کلی میں بطور اے ایس پی رہے اسی سال اے ایس پی گلبرگ لاہور رہے ‘2007میں اے ایس پی قلہ گجر سنگھ لاہور رہے ۔2007میں اے ایس پی کے عہدے سے ترقی پانے کے بعد ان کی پہلی پوسٹنگ ایس پی صدر لاہور ہوئی پھر 2008 ایس پی آرگنائزڈ کرائم / CROلاہوررہے ۔2009میں ایس ایس پی لاہور رہے اور 2011میں ایس پی ایڈمن لاہور میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے ۔2011میں ڈی پی او پاکپتن تعینات رہے او رپھر 2012میں ڈی آئی جی سکردو اپنے فرائض منصبی ادا کیے ‘2013میںSSP/RIBشیخوپورہ رینج اور 2014میں SSP, EPF/HQsرہے اور یکم جنوری 2015کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال کا چارچ سنبھالا ۔یوں تو خانیوال کی تاریخ میں ایسے پولیس آفیسرز بطور کپتان خانیوال پولیس جن میں امیر اے شیخ ‘کیپٹن احمد لطیف ‘ڈاکٹر جمیل احمد ‘ڈاکٹر وقار عباسی ‘رانا محمدایاز سلیم شامل ہیں تعینات ہوئے کہ جنہوں نے اپنے اپنے طور پر بہترین انداز میں ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے کہ خانیوال کے باسی انہیں بھول نہ پائے اورعوام کے دلوں پرراج کیا ۔میں یہاں رانا محمد ایاز سلیم کا ذکر بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جنہوں نے بہترین طرز حکمرانی کی مثال قائم کی اور شہریوں کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب فکر کے دلوں میں گھر کرلیا ان کو بھلانا آسان نہیں جب رانا محمد ایاز سلیم کا خانیوال سے ٹرانسفر ہوا تو ہر آنکھ اشک بار تھی ۔جہانزیب نذیر خان نے جب یکم جنوری 2015کو ایاز سلیم کے بعد بطور ڈی پی او ضلع کا چارج سنبھالا تو کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ خوبصورت ہنستا چہرہ اپنے پیش رو ایاز سلیم کی طرح لوگوں کے دلوں میں اتنی جلدی گھر کرلے گا‘ وہی ہواکہ جہانزیب نذیر خان نے اپنے اعلیٰ اخلاق او راپنی پروفیشنل صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنالیا ۔انہوں نے چارج سنبھالتے ہی پولیس افسران او راہلکاران پر واضح کردیا تھا

کہ مجھے حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرنیوالے پولیس ملازم کی ضرورت ہے بدیانتی او رکرپشن میں ملوث پولیس اہلکار کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں میرٹ اور انصاف کی فراہمی میری اولین ترجیحات ہیں اور خانیوال کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنا اور یہاں امن کا قیام ہر صو رت یقینی بنانا ہے ۔انہوں نے سب سے پہلے تھانو ں کے ماحول کو عوام دوست بنا کر شہریوں کو عزت و احترام دینے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے ‘ہر شہری کی اپنے دفتر میں رسائی کو یقینی بنانا او رپرچی سسٹم کا خاتمہ کیا ‘شہریوں کے مسائل خود سننے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اپنے دفتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا ۔تھانوں سے فرسودہ روایتی کلچر کے خاتمہ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے سائلین کی عزت نفس کو بحال کیا ۔تھانوں کی نئی بلڈنگز اور تھانوں پر نئے فرنیچر ز کی فراہمی بھی ڈی پی او خانیوال کے مثالی اقدامات ہیں ۔ڈی پی او جہا نز یب نز یر خا ن نے بتایاکہ جونہی انھو ں نے چارج سنبھالاتو تھانہ صدر خانیوال کے علاقہ سے 20کڑور روپے تاوان کی غرض سے اغواء کیے گئے مغوی عقیل کو کچھ نامعلوم ملزمان نے اغواء کرلیا اور جس طرح انھوں نے اپنی پروفیشنل صلاحیتوں اور اعلیٰ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین حکمت عملی ترتیب دے کر مغوی عقیل کو بغیر ادائیگی تاوان بخیروعافیت بازیاب کروایا یہ کیس ان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس تھا لیکن جس طرح انھوں نے جس خوبصورتی سے سارے معاملہ کو حل کیا وہ یقیناًقابل تعریف بھی تھا اسی طرح ڈی پی او جہانزیب نذیر خان بتا تے ہیں کہ جس طرح بنک المیزان خانیوال میں ہونیوالی ڈکیتی کو ٹریس کرنے میں مہارت سے کا م لیا گیاہے ا سکی مثال پورے پنجاب میں نہیں ملتی یہ انکی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پہلی دفعہ پنجاب کی تاریخ میں ہونیوالی بنک ڈکیتی ٹریس ہوئی اور اس میں ملوث بین الصوبائی ڈکیت گینگ کا پتہ چلایا جس پر حکومتی او رعوامی حلقوں میں ان کی پروفیشنل صلاحیتوں کو سراہا گیا ۔وہ بتاتے ہیں کہ پورے پنجاب میں کرائم کنٹرول کے حوالہ سے وہ پہلے نمبر پر آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پولیس اور عوام کے درمیان پائے جانیوالے فاصلوں کو کم کرنے کیلئے حقیقی معنوں میں پولیس کو عوام کا خادم بنایا ہے ۔جہانزیب نذیر خان بتاتے ہیں کہ انھو ں نے جرائم کے خاتمہ کیلئے پولیس فورس کو ایک نئی جہت دی پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور ضلع خانیوال کے امن کیلئے ناصرف خود دن رات کام کیا بلکہ خانیوال پولیس میں ایک نئی روح پھونکی ہے ۔انہوں نے شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے بہترین حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کیا اور باور کروایا کہ خانیوال شہر میں جرائم پیشہ عناصر کیلئے کوئی جگہ نہیں یاتو شہر چھوڑ دیں یا پھر کرائم ۔ان کی دور تعیناتی خوف کی علامت ہے۔ بڑے بڑے ڈکیت جنہوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی 36ڈکیتوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جس پر عوام نے ناصر ف سکھ کا سانس لیا بلکہ ان کی ٹیم کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فخر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے خانیوال کو امن کا گہوارہ بنانے اور معاشرے کے ناسوروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر کرکے دکھایا ۔نوجوان نسل کو معاشرے کے ناسوروں سے بچانے کیلئے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے اور ناجائز اسلحہ میں ملوث 2353ملزمان کو گرفتارکرکے ان کے قبضہ سے 156کلاشنکوف ‘252رائفل‘ 436بندوقیں ‘1537پسٹل ‘136ریوالور اور 29527گولیاں برآمد کیں جبکہ نوجوان نسل اور شہریوں کو نشے کی لت میں لگانے والے 2585منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان قبضہ سے فروخت کی غرض سے رکھی 83کلو933گرام ہیروئن ‘8من415کلوگرام چرس ‘328کلو افیون ‘83979لٹرز شراب اور 367چالو بھٹی شراب برآمد کیں جبکہ قتل ‘اقدام قتل ‘ڈکیتی ‘سرقہ باالجبر میں ملوث مطلوب 14526مجرمان اشتہاری گرفتارکیے گئے جن میں اے کیٹگری کے 1727او ربی کیٹگری کے 12826مجرمان اشتہاری شامل ہیں اسی طرح 4385عدالتی مفرور بھی اب تک گرفتار کیے گئے ہیں ۔ انھوں نے کریمنل سرگرمیوں میں ملوث گینگز کا بھی سخت نوٹس لیا اور ان کیخلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 248کریمنل گینگز کے 936ملزمان کو گرفتار کرکے عوام کا لوٹا گیا مال مسروقہ 7کڑور81لاکھ 26ہزار 590روپے برآمد کرکے اصلی مالکان کو واپس کیا جبکہ قمار بازی میں ملوث 900مجرمان کو بھی قانونی شکنجے میں جکڑا او ران کیخلاف چالان متعلقہ مجاز عدالتوں کو بھجوائے قماری بازی او رعادی جرائم پیشہ کا قلع قمع کرنے کیلئے پولیس کو ٹارگٹ دئیے جن پر پولیس ایسے جرائم میں ملوث عناصر کیخلاف سخت کریک ڈاؤن کیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھجوایا جبکہ دیگر مقدمات میں لوٹا گیا مال مسروقہ مالیت 45کڑور‘27لاکھ‘47ہزار666روپے برآمد کیا گیا ۔فرنٹ ڈیسک کا قیام بلاشبہ حکومت پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کی جانب سے عوام کے مسائل کے حل اورفرسوہ پولیس کلچر کی تبدیلی کیلئے ایک انقلابی اقدام تھا ۔انھوں نے دن رات تھانہ جات پر فرنٹ ڈیسک آفس کے قیام کیلئے خودنگرانی کی اور پولیس افسران کو بھی تنبہہ ،کہ فرنٹ ڈیسک فوری آپریشنل کرنے ہیں فرنٹ ڈیسک کے قیام سے ناصر ف عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوا بلکہ ان کو تھانوں کے چکر لگانے سے بھی نجات ملی ۔فرنٹ ڈیسک عملہ کو بھی خصوصی طور پر انھوں نے بریف کیا کہ سائلین درخواستوں کو وصول کرکے فوری اس کا اندراج فرنٹ ڈیسک پر عمل میں لائیں اور ایف آئی آر کے فوری اندراج کو یقینی بنانے کیلئے سائلین کی بھرپور معاونت کریں یہی وجہ ہے کہ اندراج مقدمہ کیلئے شہریوں کا مسئلہ حل ہوا انہیں ایف آئی آر کا فوری نمبر دیا جاتا ہے اور متعلقہ تفتیشی کا نام اور نمبر بھی جس سے اب سائلین کو کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ضلع بھر فرنٹ ڈیسک پر تمام تھانوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے فرنٹ ڈیسک کے قیام سے تمام مکاتب فکر کے لوگ سہولتوں کی فراہمی پرخوش ہیں اور اس اقدام کو سراہتے ہیں کہ یہ تھانہ کلچر کی طرف ایک ہنگامی قدم ہے اسی طرح خدمت سنٹر کا قیام بھی یقیناًشہریوں کیلئے ایک دوسرا مثبت اقدام ہے جس سے شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کے حوالہ سے کسی بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا اور عوام کی خدمت اور مزید سہولیات کی فراہمی کےئے ہر کاؤنٹر پر کریکٹر سر ٹیفکیٹ ‘لرنرز ودیگر سہولیات کی فراہمی کیساتھ ساتھ عوامی شکایا ت کا بھی فوری ازالہ کیا جائیگا ۔پولیس ملازمین کو موجودہ دور کے مطابق جسمانی طور پر صحت مند اور فٹ رکھنے کیلئے جم سنٹر کا قیام اور ان کے موذی امراض شوگر ‘ھیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کے بھی مفت ٹیسٹ کروانے کیساتھ ساتھ بیماریوں سے محفوظ بنانے کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تاکہ وہ صحت مند ہو کر اپنے فرائض کی ادائیگی اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف نئے جذبہ سے برسرپیکار ہوکر ڈیوٹی سرانجام دے سکیں جبکہ پولیس ملازمین کی چھوٹی موٹی تکالیف کے فوری ازالہ کیلئے پولیس لائن میں فری ڈسپنسری اور ادویات کی فراہمی کو ممکن بنایا اور ساتھ ساتھ پولیس لائن میں میس ہال پر نئے فرنیچر کی فراہمی کو یقینی بنا یا تاکہ ملازمین عزت سے بیٹھ کر کھانا کھا سکیں اسی طرح پولیس لائن میں درخت لگائے گئے اور کھیلوں کا سامان بھی مہیا کیا گیاہے تاکہ ملازمین تھکا دینے والی ڈیوٹی کے بعد کھیلوں اور تفریح کے سامان سے اپنے آپ کو ریلیکس کرسکیں ۔ہال ہی میں نھوں نے الطاف فری ڈسپنسری اور عبدالقادر کلینیکل لیب کا افتتاح کیاہے۔ جہاں پولیس ملازمین کے ہمہ قسم کے ٹیسٹ مفت کیے جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ شہداء پولیس ملازمین کے بچے جو آج ضلع خانیوال کی بہترین درسگاہوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ان کی بہترین صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔آخر میں انھوں نے کہاکہ روز نا مہ پاکستان نے غیر جانبدارانہ،پیشہ وارانہ اور عصرِحاضر کے تقاضوں کے مطابقجدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 2 -