پاکستان افغانستان سمیت جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی قبول نہیں کریگا،میاں مقصود

پاکستان افغانستان سمیت جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی قبول نہیں ...

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان پر اپنے شدید ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اور افغانستان سمیت جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا الزام کہ پاکستان دہشتگردوں کو پناہ دیتاہے انتہائی قابل مذمت ہے۔ایک طرف امریکہ خود کو پاکستان کا دوست ملک قرار دیتا ہے تو دوسری طرف وہ دشمنوں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ پاکستان کاہرگزدوست نہیں ہے۔ماضی گواہ ہے کہ امریکہ نے کبھی بھی ہمارے ساتھ اچھابرتاؤنہیں کیا بلکہ اُس نے ہرنازک موقع پر پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ہمیں آئندہ بھی اس سے خیر کی کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کو چاہے کہ وہ نئی امریکن پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے ملک و قوم کی عزت اور وقار کو سر بلند رکھے ۔ پاکستان کسی بھی ملک و قوم کی طفلی ریاست نہیں۔ امریکہ افغانستان میں ناکامی کے بعد جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کے حصول کے لئے بھارت کو علاقے کا’’چودھری‘‘بنانا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتاہے کہ اگر چین اور پاکستان سی پیک کے منصوبے کی تکمیل کرتے ہیں تو خطے میں امریکہ اور بھارت سمیت یورپی ممالک کا کردار محدود ہوجائے گا اس لیے امریکہ اقتصادی راہداری کے منصوبے کوکامیاب ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا۔میاں مقصود احمد نے کہاکہ امریکہ نے ہمیشہ مفاد پرستی کی سیاست کی ہے۔جب اسے جنوبی ایشیا میں ہماری ضرورت پڑتی ہے تووہ ہم سے کام لیتاہے مگر جب اس کامقصد حاصل ہوجاتا ہے تووہ پاکستان سے آنکھیں پھیر لیتاہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کے بھارت سے بڑھتے ہوئے تعلقات اور غیر معمولی نوازشوں سے ثابت ہوگیاہے کہ امریکہ نے پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی مکمل تبدیل کرلی ہے۔ہماری سول اور عسکری قیادت کو بھی اب آئندہ امریکہ کی کسی نئی چال سے بچنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو بھی بدلتے ہوئے منظرنامے میں ازسرنوتشکیل دینا چاہئے۔ہمیں امریکہ کی بجائے اب چین اور اسلامی ملکوں سے اپنے تعلقات کوزیادہ مضبوط اور بہتربناناہوگا۔میاں مقصوداحمدنے مزیدکہاکہ خطے میں امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کوناکام بنانے کے لئے حکومت کو ہمسایہ برداراسلامی ملکوں افغانستان اورایران کے ساتھ اپنے تعلقات کے دائرہ کار کوبڑھانا چاہئے اور غلط فہمیوں کودور کرنا چاہئے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -