پاکستان کو امریکہ کی نئی افغان پالیسی کا مؤثر جواب دینا چاہیے ، سیاسی ، مذہبی و عسکری رہنماؤں کا ردعمل

پاکستان کو امریکہ کی نئی افغان پالیسی کا مؤثر جواب دینا چاہیے ، سیاسی ، ...

 لاہور(جاوید اقبال،عدیل شجاع)مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور عسکری اور خارجہ امور کے ماہرین نے امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے جاری کردہ پالیسی پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی بھارت نواز پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔امریکہ یہ جان لے کہ پاکستان افغانستان نہیں ہے امریکی صدر کے بیانات سے صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ بھارتی زبان بول رہے ہیں۔بھارت ایسا ملک ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لیے افغانستان کی سر زمین استعمال کر رہا ہے اس لحاظ سے امریکی صدر نے پاکستان کو دھمکی اور بھارت کو تھپکی دی ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ بھارت کے خلاف پاکستان میں دہشت گردی کرانے پر کاروائی کی جاتی مگر انہوں نے اس کے برعکس اپنی پالیسی جاری کرے پاکستان میں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ کر مالی اور جانے قربانیاں دی ہیں ان کا اعتراف نہیں کیا جو کہ سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔اس امر کا اظہار انہوں نے پاکستان کے سلسلے ایشو آف دی ڈے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر)ضیاء الدین بٹ اور جنرل (ر)اسلم بیگ نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کی نئی افغان پالیسی کا موثر جواب دینا چاہیے اور اس کے لیے سفارتی رد عمل دینا چاہیے ۔امریکی صدر کی اعلان کردہ افغان پالیسی حقیقت میں تمام کی تمام پکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں ہے۔ امریکہ بھول رہا ہے کہ وہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے مگر پاکستان اور افواج پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب جنگ لڑی ہے اور آج بھی جاری و ساری ہے۔امریکہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان افغانستان نہیں ہے پاکستان آج بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے جس میں پاکستان نے اپنے ہزاروں سپوتوں کی قربانی دی۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزرائے خارجہ گوہر ایوب،خورشید محمود قصوری نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی پالیسی پاکستان کے لیے ڈو مور اور بھارت کے لیے شاباش ہے جو کہ نا قابل قبول ہے جو بھارت پاکستان کے خلاف افغانستان میں بیٹھ کر دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اس کے ثبوت اقوام متحدہ اور امریکہ کو بھی دیے جا چکے ہیں مگر امریکہ نے اس کے خلاف تو کاروائی نہیں کی جو ملک دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اس کو ڈو مور کا کہا جاتا ہے جو کہ نا انصافی ہے اس حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما اور سابق چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی پاکستان حکومت کی کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔حکومت اپنی خارجہ پالیسی واضح کرے اور پارلیمنٹ کو بتائے کہ ہماری پالیسی کیا ہے اور امریکی دھمکیوں پر پارلیمنٹ کو آگاہ کرے۔امریکی صدر کو بتایا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی افواج کی قربانیاں نا قابل فراموش ہیں۔ان کو نظر انداز نہ کیا جائے۔وفاقی وزیر دانیال عزیز اور صوبائی مشیر رانا محمد ارشد نے کہا کہ امریکی دھمکیاں کو مسترد کرتے ہیں در حقیقت یہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی امریکن نواز پالیسی کا نتیجہ ہے اگر اس وقت یہ لوگ امریکہ کے سامنے یس سر کی پالیسی نہ بناتے تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔اس پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل غلام مصطفیٰ نے کہا کہ امریکی الزامات ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اسی ہزار پیاروں کو کھویا دہشت گردوں اور طالبان کے خلاف جنگ پاکستان نے لڑی ہے امریکہ نے نہیں۔یہ تاریخ پر ہے کہ جب امریکہ نے طالبان سے پہلی دفعہ مذاکرات کیے تو ایک طالبان لیڈر جرمنی سے آیا اور دوسرا ترکی سے پاکستان سے کوئی نہیں گیا تھا ۔جے یو پی کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ پاکستان کو ڈو مور کی پالیسی ترک کرنا ہو گی اور امریکہ پر واضح کرنا ہو گا کہ اب ڈو مور پاکستان کو نہیں امریکہ کو کرنا ہو گا۔امریکہ کے سامنے اس کی خواہشات کا احترام کیے بغیر اس کی آنکھوں کی آنکھیں ڈال کر بات کرنی ہو گی۔اے این پی کے رہنما غلام محمد بلور نے کہا کہ امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں امریکی جان لے کہ یہ افغانستان نہیں پاکستان ہے۔پاکستان کو امریکی دھمیکیوں کا موثر جواب دینے کے لیے اقوام عالم کو اپنی قربانیوں سے آگاہ کرنا ہو گا اور ان کو بتانا ہو گا کہ امریکہ اس بھارت کی مدد کر رہا ہے جو دہشت گردوں کو دوسرے ممالک میں بھیجتا ہے۔سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا کہ امریکہ کی جنوبی ایشیاء کے حوالے سے تازہ پالیسی پر پاکستان کو سفارتی محاذوں کو فعال کرنا ہو گا اور لگتا یہ ہے کہ امریکہ سی پیک کی جھنجھلاہٹ میں ایسے بیانات دے کر اپنا اور بھارت کا دل خوش کر رہا ہے۔پاکستان کو اس سے خبر دار رہنا ہو گا۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید احمد پراچہ کا کہنا تھا کہ امریکہ یہ نہ بھولے کہ وہ افغانستان میں ناکام ہو چکا ہے اور اب اس کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔مگر پاکستان کی قوم اور افواج کو اپنا دفاع کرنا خوب آتا ہے۔اس پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ اکرم ذکی نے کہا کہ امریکہ کی نئی پالیسی پاکستان کو کھلم کھلا دھمکی ہے اس کا موثر جواب دینا ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ جنگ بھی ہار چکا ہے جس کا وہ پاکستان پر الزام لگا کر اپنی قوم کے سامنے سرخرو ہونا چاہتا ہے مگر دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دیں۔

رد عمل

مزید : صفحہ آخر