تشدد کی فوٹیج روکنے کیلئے عجیب منطق ،تھانوں میں کیمرے پر پابندی

تشدد کی فوٹیج روکنے کیلئے عجیب منطق ،تھانوں میں کیمرے پر پابندی

  

لاہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے) نئے آئی جی پنجاب بھی تھانہ کلچر کو تبدیل نہ کر سکے،آئی جی پنجاب نے تھانوں میں تشدد کی فوٹیج روکنے کیلئے عجیب منطق ڈھونڈ لی میڈیا کی تنقید سے تنگ آکر آئی جی نے تھا نو ں میں کیمرے پر پابند ی لگا دی، آئی جی پنجا ب کی جا نب سے پنجاب بھر کے تھانوں کیلئے نیا ایس او پی جاری کر دیا ۔ نو ٹیفکیشن نمبر 186-RSp کے مطا بق پولیس سٹیشن کی حدود میں کیمرہ، موبائل اور لیپ ٹاپ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، بلا اجازت تصویر، سیلفی اور ویڈیو ریکارڈنگ کی بھی پابندی عا ئد کی گئی ہے ، ایف آئی آر کی رجسٹریشن کے وقت فریقین میں گفتگو کی آڈیو ویڈیو منع کی گئی ہے ، کوئی شخص عینک، ٹوپی، بٹن یا پین کیمرے سے ریکارڈنگ نہ کرے گا، ایس او پی کے مطا بق کوئی سائل ، شہری خفیہ ریکارڈنگ کی کوشش کرے تو موبائل کیمرے سے فوری ڈیلیٹ کروایا جائے، بلا اجازت ویڈیو یا تصویر بنانے کی صورت میں موبائل ضبط اور دیگر قانونی کارروائی ہوگی ، حوالات میں بند ملزمان تک کیمروں یا موبائل کی رسائی نہ ہونے دی جائے، پولیس فورس پر بھی یہ ایس اوپی لاگو ہو گا ایس او پی پر عمل کروانا سی سی پی او، آر پی او، سی پی او اور ڈی پی او کی ذمہ داری ہے۔

تھانے ،کیمرے

مزید :

صفحہ آخر -