10خطرناک دہشتگردوں کے سر کی مجموعی قیمت 5کروڑ مقرر کرنے کا فیصلہ

10خطرناک دہشتگردوں کے سر کی مجموعی قیمت 5کروڑ مقرر کرنے کا فیصلہ

کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)10خطرناک دہشت گردوں کے سروں کی قیمت 5 کروڑ روپے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ رینجرز نے دہشت گردوں کی گرفتاری، کرمنل ریکارڈ جمع اور سروں کی قیمت مقرر کرنے کی تحقیقات کی تفصیلات سے متعلق باز پرس کیلئے محکمہ داخلہ کو خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق رینجرز نے محکمہ داخلہ کو خط لکھا ہے جس میں تفصیلات کی استدعا کی گئی ہے۔ملزموں میں کالعدم جنداللہ کے سابق کمانڈر اور کالعدم تحریک طالبان سوات گروپ کے اہم کارندے منصور احمد عرف بلال کے نام بھی شامل ہیں ،جن کے سروں کی قیمت1، 1 کروڑ روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منصور احمد05ء میں کالعدم القاعدہ سے بھی وابستہ رہ چکا ہے اور اس کیخلاف دہشت گردی کے چار مقدمات درج ہیں۔ خط میں رواں سال اردو بازار میں رینجرز سے مقابلے میں ہلاک ہونیوالے دہشت گرد زاہد آفریدی کے بھائی رفیق عرف حبیب اللہ کا نام بھی شامل ہے، اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ اردو بازار مقابلے کے دوران فرار ہونیوالے مطلوب دہشت گرد اور 09ء میں کراچی میں تخریب کاری کیلئے جنداللہ میں شامل ہونیوالے کالعدم تحریک طالبان سوات کے سابق کمانڈر فضل غنی کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ کراچی میں ملٹری پو لیس کے اہلکاروں کے قتل اور خالد خراسانی اور مولوی فضل اللہ کے قریبی ساتھی نیز کالعدم لشکر جھنگوی العالمی کے موجودہ امیر سید صفدر عرف یو سف کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔1999 میں کالعدم لشکر جھنگوی میں شامل ہونیوالے دیدار حسین سے متعلق خط بتایا گیا ہے کہ یہ کراچی کے ضلع شرقی میں کالعدم تنظیم کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا سربراہ ہے اور اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی جائے۔ کالعدم لشکر جھنگوی کے محمد جعفر کو پولیس، بحریہ اور کسٹم کے اہلکاروں اور افسران کے قتل میں مطلوب قرار دیتے ہوئے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اس کیخلاف 24 مقدمات درج ہیں۔ کالعدم لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ کے ٹارگٹ کلر سمیع اللہ اور کالعدم القاعدہ بر صغیر کے محمد اکبر عرف اکاشہ کے سروں کی قیمت 50،50 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ملزم اکبر عرف اکاشہ بینظیر بھٹو کے کار ساز میں قافلے پر بم دھماکے میں بھی ملوث بتایا گیا ہے۔ خط میں القاعدہ برصغیر کے عبداللہ بلوچ کے سر کی قیمت بھی 50 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ملزم12ء میں لیاری میں فٹ بال میچ کے دوران بم دھماکا کرنے اور بحریہ کے لیفٹیننٹ کمانڈر عظیم حسین، کیپٹن ندیم احمد، پروفیسر شکیل اوج اور پروفیسر وحید الرحمن کے قتل میں بھی ملوث بتایا گیا ہے۔جنداللہ کے خان بادشاہ کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مذکورہ دہشت گرد سی ٹی ڈی کی ریڈ بک میں بھی نامزد ہے ۔ رینجرز نے خط میں سندھ پولیس سے استفسار کیا ہے کہ ان دہشت گردوں کے سروں کی کتنی قیمت مقرر کی گئی ہے اور اگر اب تک ایسا نہیں کیا گیا تو کیوں نہیں کیا گیا۔ رینجرز نے محکمہ داخلہ سے کہا ہے پولیس سے پوچھا جائے انہوں نے ان دہشت گردوں کی گرفتاری اور کرمنل ریکارڈ یکجا کرنے کیلئے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

سر قیمت فیصلہ

مزید : علاقائی