شملہ معاہدہ ہو یا کوئی سمجھوتہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کو کالعدم نہیں کر سکتا

شملہ معاہدہ ہو یا کوئی سمجھوتہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کو کالعدم نہیں کر ...

مظفرآباد(نیوز ایجنسیاں)صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کی خصوصی دعوت پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی ارکان پارلیمنٹ مسٹر گراہم جونز، محترمہ یاسمین قریشی، فیصل رشید، محمد یاسین اور جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت یورپ کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کہا ہے برطانیہ کے عوام خصوصاً لیبر پارٹی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتی ہے۔ شملہ معاہدے سمیت کوئی بھی دو طرفہ معاہدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو کالعدم نہیں کر سکتا، گزشتہ روز ایوان صدر مظفرآباد میں صدر آزاد کشمیر کی جانب سے دئیے گئے ظہرانے کے شرکاء سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھا مسئلہ کشمیر مؤثر اندازمیں اجاگر کریں گے، قبل ازیں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے برطانوی ممبران پارلیمنٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اُن پر زور دیا کہ وہ اپنی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حل، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بلکہ انسانیت کیخلاف جرائم اور کشمیریوں کی نسل کشی رکوانے کیلئے کردار ادا کر نے پر آمادہ کریں۔ سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ بھارت دو طرفہ مذ ا کرات کے ذریعے مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ، اقوام متحدہ نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اقو ا م متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنے کردار کو فریقین کی آمادگی سے مشروط کرنا دراصل مسئلے کو دو طرفہ بنا نے کے مترادف ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر پر ایک درجن سے زیادہ قراردادیں منظور کر چکی ہے اور گزشتہ 70 سال سے یہ تنازعہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا یہ دو طرفہ نہیں بلکہ چار فریقی مسئلہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے علاوہ کشمیری عوام اور اقوام متحدہ بھی اس میں فریق ہیں۔ انہوں نے برطانوی پارلیمانی وفد پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا بھی دورہ کریں او روہاں ظلم وبربریت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، بھارت کسی غیر جانبدار وفد کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دیتا ، بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ آئندہ چند برسوں میں مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی بات کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، بھارتی آئین سے دفعہ 370 اور 35 اے نکالنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہے۔ اسی مقصد کیلئے وہ کشمیریوں کی نسل کشی کر کے انہیں اقلیت میں بدل رہے ہیں۔ عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ششم کے تحت جب فریقین باہمی مذاکرات کے ذریعے کسی مسئلے کے حل میں ناکام ہوں تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مداخلت کرتے ہوئے اپنے گڈ آفسز کا استعمال کرتے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔1947 میں اڑھائی لاکھ کشمیریوں کو جموں میں قتل کیا گیا۔ یہ کشمیریوں کی پہلی نسل کشی تھی۔ اقوام متحدہ ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کے معاملات پر فوری اور ہنگامی اقدامات کرتا ہے لیکن کشمیر پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار ہے، اگر بھارت معاشی و اقتصادی لحاظ سے بڑا اور مضبوط ملک ہے تو پاکستان کی اہمیت بھی کسی لحاظ سے کم نہیں، کشمیری کسی صورت بھارت کیساتھ نہیں رہنا چاہتے۔

اراکین برطانوی پارلیمنٹ

مزید : علاقائی