جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیاں ‘ روجھان کا کچہ دہشت کی علامت بن گیا

جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیاں ‘ روجھان کا کچہ دہشت کی علامت بن گیا

  

مٹھن کوٹ (نامہ نگار) روجہان کے کچہ کے چند علاقوں میں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والے ان مٹھی بھر جرائم پیشہ عناسر کی مجرمانہ سرگرمیوں سے ایک لاکھ سے زائد آبادی کا علاقہ دہشت کی علامت بن چکا ہے اور پورے ڈیرہ غازیخان رینج کی پولیس کے لئے بھی درد سر بنا ہوا ہے پولیس ذرائع ان ڈاکوؤں کی تعداد ایک درجن کے قریب بتاتے ہیں اب یہ بات ہرگز ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ان جرائم پیشہ اشتہاریوں(بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

کی سرپرستی کون کر رہا ہے اور ان کے سہولت کا ر کون ہیں ؟جس کی نشاندہی چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو کی گرفتاری کے وقت اس کی تحقیقات کے لئے ڈیرہ غازیخان کے سابق ڈی پی او کیپٹن (ر) عطامحمد کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی نے بھی کی تھی اور دوران تفتیش بھی چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو نے حساس اداروں کے سامنے سب کچھ اُگل دیا تھا‘جس میں علاقہ کے چند بااثر وڈیروں اور سرداروں کے ساتھ پولیس کے افسران اور اہلکاروں کے نام بھی آئے تھے روجہان کے کچہ کے علاقوں کے لوگ وہاں پرکچھ عرصہ تک امن و سکون بحال رہنے کے بعد پٹ گینگ، سکھانی گینگ، لُنڈ گینگ اور دیگر جرائم پیشہ گینگز کی کچہ کے علاقہ میں بڑھتی ہوئی اغوا برائے تاوان، قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین وارداتوں کی وجہ کو ان ڈاکوں کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونا قرار دے رہے ہیں اب دو روز قبل روجہان کے کچہ کے علاقہ میں ہونے والے واقعہ میں جس میں ڈاکوؤں نے 8 پولیس اہلکاروں کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے جسکا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن(ر) عارف نواز خان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازیخان رحمت اللہ خان نیازی کو مغو ی پولیس اہلکاروں کی فوری باحفاظت بازیابی کی ہدایت کرتے ہوئے اسکی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا جس پر آر پی او ڈیرہ غازیخان رحمت اللہ خان نے فوری طور پر راجن پور پہنچ کر مغوی اہلکاران کی بازیابی کی نگرانی کی اور پولیس کے مطابق ڈی پی اوراجن پور عتیق طاہر اور ڈی پی او رحیم یار خان ذیشان اصغر کی قیادت میں رات گئے تک کئے گئے اپریشن میں مغوی پولیس اہلکاروں کو با حفاظت بازیاب کرایا جبکہ ڈاکو رات کی تاریکی اور دریا کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہونے مین کامیاب ہوگئے جبکہ دوسری یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچہ کے علاقہ میں ایک سردار کے ڈیرہ پر پولیس اور ڈاکوؤں کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجہ میں مغوی پولیس اہلکاروں کو رہا کیا گیا جس میں پٹ گینگ کے عطااللہ پٹ کے دو بیٹوں اور ان کے چند ساتھیوں کی رہائی بھی بتائی جا رہی ہے ۔ اس واقعہ سے ڈاکوؤں کے حوصلے مزید بلند ہوتے نظر آرہے ہیں جسکا اظہار انہوں نے پولیس اہلکاروں کی بازیابی کی دوسری رات کچہ کے علاقہ بیلے شاہ میں ایک سردار کے ڈیرہ پرایک جشن منا کر کیا جو کہ پٹ گینگ کے سربراہ عطا للہ پٹ کے دو بیٹوں کی مبینہ رہائی کی خوشی کے سلسلہ میں بتایا گیا ہے وہاں پر ان ڈاکوؤں کی تعداد پولیس کے مطابق درجن بھر رہ گئی ہے موج مستی کرنے کے علاوہڈاکوؤں نے بکروں کے صدقے بھی دئے علاقہ کی عوام اب ڈاکوؤں کی اس کاروائیوں سے سخت پریشان ہے ان کا مطالبہ ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اور غلام رسول عرف چھوٹو کے انکشافات کے بعد ان ڈاکوؤں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کوکیفرکردار تک نہیں پہنچایا جاتا ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -