پاکستان کے کسی بھی حصے میں کوئی شیعہ سنی اختلافات نہیں ‘ علامہ ناصر عباس

پاکستان کے کسی بھی حصے میں کوئی شیعہ سنی اختلافات نہیں ‘ علامہ ناصر عباس

  

اسلام آباد (پ ر )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، جمعیت علمائے پاکستان( نیازی)کے رہنما پیر معصوم نقوی اور دیگر شیعہ سنی علما نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ عاشورہ راولپنڈی 2103 کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی میڈیا بریفنگ ہمارے موقف کی تائید ہے کہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں شیعہ سنی اختلافات قطعی طور پر نہیں ہیں۔راجہ بازار مسجد کو آگ لگانے کی سازش مسجد کے اندر تیار کی گئی جس کا مقصد راولپندی کی پرامن فضا کو آلودہ کر کے فرقہ واریت(بقیہ نمبر49صفحہ7پر )

کی آگ کو پورے ملک میں پھیلانا تھا۔شیعہ سنی اکابرین نے شر پسند عناصر کے مذموم عزائم کو وحدت و اخوت کے ہتھیار سے شکست دی۔۔انہوں نے کہا کہ سانحہ عاشور کے اصل زمہ دار حکومتی صفوں میں موجود وہ وزرا ہیں جو مختلف ٹاک شوز میں شر پسندوں کی مظلومیت کا رونا روتے رہیاور ملت تشیع کو مورد الزام ٹھراتے رہے۔جو جلوس کے روٹ مسلسل تنازع کی وجہ قراردے کر اسے بدلنے پر زور ردیتے رہے۔سانحہ کے پس پردہ تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔اس واقعہ کے بعد ہمارے سینکڑوں نوجوانوں کو گھروں سے اٹھایا گیا، چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔سو سے زائد افراد پر سرکار کی مدعیت میں مقدمات درج کیے گئے۔جن کی وہ آج تک پیشیاں بھگت رہے ہیں۔پولیس کیس کے نتیجے میں ہمارے نوجوانوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔سوشل میڈیا اور مخصوص مکتب فکر کی مساجد سے ملت تشیع کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ ہوا جس پر لوگ مشتعل ہوئے اور ہمارے امام بارگاہوں کو جلا دیا گیا۔ہمارے بزرگ علما کو شیڈول فورتھ میں ڈالا گیا ۔مجلس کے اشتہارات لگانے پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت مقدمات بھی ہمیں سہنے پڑے۔اس کے برعکس امام بارگاہوں کو نذر آتش کرنے والوں کو آج تک سزائیں نہیں سنائی جا سکیں۔مسجد کو آگ لگانے والوں کے لیے سرکاری سطح پرکروڑوں روپے کی ادائیگی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے واقعہ کی حقیقت سامنے آنے کے بعد ہمارے نوجوانوں پر مقدمات کا کوئی جواز نہیں رہتا ہمارامطالبہ ہے کہ اس ایف آئی آر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے خارج کیا جائے۔جن بے گناہ افراد کو بلاوجہ اسیری کی اذیت برداشت کرنا پڑی ہے اور ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے ان کے لیے حکومت ملازمتوں کا اعلان کرے۔جن لوگوں سے سرکاری ملازمتیں چھن گئیں انہیں بحال۔کیا جائے اور ان کے بقایاجات ادا کیے جائیں، اس سازش میں ملوث تمام عناصر کو منظر عام پر لایا جائے چاہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -