نوشہرہ کرک ، ڈینگی سے مزید درجنوں متاثروزیراعلی کا جا ں بحق ہونیوالوں کیلئے5لاکھ امداد کا اعلان

نوشہرہ کرک ، ڈینگی سے مزید درجنوں متاثروزیراعلی کا جا ں بحق ہونیوالوں ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہاہے کہ صوبائی حکومت ڈینگی وائرس سے نمٹنے کے لئے کمر بستہ ہے اور اس سلسلے میں متاثرہ افراد کے علاج معالجے کیلئے فنڈز، ڈاکٹرز اور ہسپتالوں میں(بقیہ نمبر60صفحہ7پر )

ادویات کی کمی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہم باتوں کی بجائے ایکشن پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارے عملی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ پنجاب حکومت نے یہاں عملہ اور سامان بھیجوایا مگر صوبائی حکومت سے رابطہ نہیں کیا مسائل کا حل ٹھوس اقدامات سے کیا جا تا ہے سیاست چمکانے سے نہیں۔پنجاب میں ڈینگی کی وباء پر قابو پانے کیلئے تین سال کا طویل عرصہ لگا جب کہ اب بھی کیسز سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے صوبہ بھر میں ڈینگی وائرس، ممکنہ کانگو وائرس اور دیگر وبائی امراض سے کل وقتی طور پر نمٹنے کیلئے لانگ ٹرم پلان کے تحت اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت ، بلدیات اور ماحولیات متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ رابطے میں رہیں اور مشترکہ جدوجہد کریں۔ تمام ہسپتالوں میں سہولیاتی مراکز چوبیس گھنٹے فعال ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ڈینگی وائرس سے جان بحق ہونے والے افراد کیلئے فی کس پانچ لاکھ روپے کا اعلان بھی کیا ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج ایم پی اے یاسین خلیل کی رہائش گاہ تہکال میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ، وزیر صحت شہرام ترکئی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعظم خان ، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحب زاداہ سعید ، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام ، پشاور کے تدریسی ہسپتالوں کے ڈائریکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ تہکال میں عوامی اجتماع سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ حیرت ہے کہ بعض سیاستدان ڈینگی پر بھی سیاست کرتے نظر آتے ہیں عوام کی تکالیف اور مصائب کو سمجھنے اور خلوص دل سے ان تکالیف کو دور کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ تہکال کا علاقہ ڈینگی سے متاثر ہوا ہے وہ یہاں لوگوں کی اس مشکل گھڑی میں سیاست کرنے نہیں آئے بلکہ انہیں اس بات کا یقین دلانے آئے ہیں کہ صوبائی حکومت ڈینگی سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے ، ڈینگی کے خاتمے اور اس کی افزائش کو روکنے سے غافل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے یاسین خلیل شروع دن سے اس حوالے سے ان سے رابطے میں ہیں وہ ڈینگی کی صورت حال سے نمٹنے کے حوالے سے ہر قسم کی معلومات سے باخبرہیں اور ساری صورت حال کو خود مانیٹرکر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں اور ماحول کو صاف رکھیں جہاں کہیں بھی کھڑا پانی دیکھیں اس کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں یہاں تک کہ اپنے گھروں میں فریج میں ایک پیالی پانی پر بھی نظر رکھیں کیونکہ ڈینگی اس میں بھی بسیرا کر سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈینگی سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے کیلئے ہمارے ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جو بھی ڈاکٹر یا عملہ اس حوالے سے غفلت کرے گا وہ سزا کا مستحق ہوگا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں محکمہ صحت اور ڈپٹی کمشنر کا عملہ موجود ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو تسلی بخش سہولت اور اس حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سوات میں ڈینگی کے خاتمے کیلئے ایک سال کا عرصہ لگا تھا جس میں عوامی تعاون ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اسی جذبے کی یہاں بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اس موقع پر صبر سے کام لیں صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک موسم نہیں بدلے گاڈینگی کا قدرتی طور پر خاتمہ نہیں ہوگا۔ ڈینگی سے بچاؤ اور اس کی افزائش کو روکنے کیلئے ہمیں خود حفاظتی اقدامات کرنے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ ہماری ضرور مدد کرے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ پنجاب حکومت نے یہاں ڈاکٹرز اور سازوسامان بھیجوایا مگر ان سے رابطہ نہیں کیا۔ اگرایک صوبہ مشکل کی گھڑی میں دوسرے صوبے کی مدد کرتا ہے تو اس میں باہمی رابطہ اور تعاون ناگزیر ہوتاہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے شہباز شریف سے فون پر بات کی ہے کہ آپ لوگوں نے ہم سے رابطہ نہیں کیا ہے جب لاہور میں ڈینگی کی وباء پھیلی تھی توآپ نے کس جادو سے ختم کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کو ختم کرنے میں تین سال کا عرصہ لگا تھا بلکہ اب بھی کہیں نہ کہیں کیسز سامنے آرہے ہیں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ افواہوں پر کان دھرنے کی بجائے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس وباء سے جلد از جلد چھٹکارا پایا جائے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ڈینگی سے جان بحق ہونے والے افرادکی مغفرت اور متاثرہ افراد کی جلد صحت یابی کے لئے اجتماعی دعا کی۔ اس موقع پر شہرام ترکئی ایم پی اے یاسین خلیل نے بھی خطاب کیا اور ڈپٹی کمشنر پشاور نے اب تک کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ گذشتہ روز تہکال میں ڈینگی سے جان بحق ہونے والی ایک جوان سال لڑکی کے گھر گئے اور ان کے والد سے تعزیت کی ۔

کرک، نوشہرہ(بیورورپورٹ) خطرناک مچھر سینڈ فلائی کے بعد ڈینگی نے بھی کرک کا رخ کرلیا مولانا عبدالوہاب ملنگ پہلا شکار عوام میں شدید حوف ،ہراس محکمہ صحت نے ضلعی حکومت سے ہنگامی بنیادوں پر فوگ (بقیہ نمبر52صفحہ12پر )

سپرے کیلئے فوری فنڈفراہمی کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ضلع کرک جو ضلعی ،صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور بروقت فوگ سپرے ،مچھروں کی افزائش نسل روکنے کیلئے اقدامات نہ اٹھانے کے سبب اس وقت خطرناک مچھر سینڈ فلائی کے مکمل نرغے میں ہیں اور محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق گذشتہ دو ماہ جولائی اور اگست کے دوران629 افراد کو لشمینیا کی مرض میں مبتلا کرچکا ہے وہی ڈینگی جیسے خطرناک مچھر نے بھی قدم جماتے ہی گذشتہ روزجید عالم دین اور شیخ القرآن مولانا عبدالوہاب ملنگ کو اپنا شکار بنایا جسے حالت غیر ہونے پر پشاور منتقل کیا گیا جہاں ڈینگی کے تشخیص اور حالت انتہائی غیر ہونے پر رشتہ داروں نے الجناح انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا جس سے عوام علاقہ میں شدید حوف ،ہراس پھیل گیا جبکہ محکمہ صحت کرک کے قائمقام ڈی ایچ او ڈاکٹر ماجد خان نے اطلاع ملتے ہی محکمہ صحت کی ٹیم کوعلاقے میں بھجواکر وہاں سے پانی کے نمونے حاصل کئے اور ڈپٹی کمشنر اور ضلعی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگرفوری طور پرفیول کیلئے درکار فنڈ فراہم کرکے ہنگامی بنیادوں پر ضلع بھر میں فوگ سپرے کا اہتما م نہ کیا گیا تو حالت انتہائی نازک اور قابو سے باہر ہوگی۔ نوشہرہ میں ڈینگی وائرس کا حملہ نوجوان متاثر محکمہ صحت نوشہرہ کا ڈینگی وائرس کے خلاف اقدامات دھرے کے دھرے اقدامات اور انتظامات پر متاثرہ شخص نے پول کھول دیا تفصیلات کے مطابق نوشہرہ کے علاقہ بدرشی کے رہائشی محمدعاصم ولد گل محمد جس کی عمر 18 سال بتائی جارہی ہے نے ڈینگی وائرس کا انکشاف ہوا ہے نوشہرہ میں ڈینگی وائرس کیس کا یہ پہلے کیس ہے جس نے محکمہ صحت نوشہرہ کے ذمہ داروں کا ڈینگی وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اور سپرے سمیت تمام انتظامات اور اقدامات کے پول کھل گئے واضح رہے کہ متاثرہ نوجوان کو پشاور کے ایل آر ایچ ہسپتال منتقل کرکے وہاں داخل کردیاگیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر