یمنی بحران کا حل ایران کی مداخلت بند ہونے میں مضمر ہے،اماراتی وزیر

یمنی بحران کا حل ایران کی مداخلت بند ہونے میں مضمر ہے،اماراتی وزیر

  

ابو ظبی(این این آئی)متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ یمن میں جاری بحران کا حل یمنی عوام کی منشا پر منحصر ہے اور اس ملک کے مستقبل کے بارے میں کسی فیصلے سے کسی فریق کو بھی بے دخل نہیں کیا جانا چاہیے لیکن یہ فیصلہ 2014ء میں برپا ہونے والی بغاوت پر مبنی نہیں(بقیہ نمبر53صفحہ7پر )

ہونا چاہیے اور ایران کو بھی مداخلت سے روکا جانا چاہیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انھوں نے پوسٹ کی گئی ٹویٹس میں کہا کہ یمن میں جاری بحران کا سیاسی حل ہی ترجیح ہونا چاہیے اور ایک سیاسی راستہ ہی کسی حل کی بنیاد ہونا چاہیے۔اس کے لیے سمجھوتے کے تحت یمنیوں کو ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے ۔ایران کو مداخلت سے روکا جانا چاہیے اور دہشت گردی ایسے مسئلوں کا حل تلاش کیا جائے۔انھوں نے مزید لکھا کہ علی صالح کی حالیہ تقریر سے ان کی حوثیوں کے ساتھ اقتدار میں شراکت داری پر اختلافات ظاہر ہوتے ہیں اور حوثیوں کے غیر لچک دار رویے سے پیدا ہونے والے سیاسی تعطل کو ختم کرنے کا بھی ایک موقع ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ معزول صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ دنوں میں اختلافات میں شدت آ گئی ہے اور علی صالح نے گذشتہ ہفتے کے روز حوثی ملیشیا پر بد عنوانیوں ،غلط کاریوں اور قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کے سنگین الزامات عاید کیے تھے۔اس کے ردعمل میں حوثیوں نے علی صالح کی دارالحکومت میں آویزاں تصاویر کو اتار پھینکا تھا اور ان کی جماعت کے جھنڈوں والے بل بورڈز توڑ دیے تھے اور اس کے آیندہ جمعرات کو صنعاء میں ہونے والے اجتماع کے بارے میں بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور اس کے مقابلے میں ایک اجتماع منعقد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -