سیاسی جماعتوں کی عدم شرکت،ایم کیو ایم کی اے پی سی پریس کانفرنس میں تبدیل

سیاسی جماعتوں کی عدم شرکت،ایم کیو ایم کی اے پی سی پریس کانفرنس میں تبدیل

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم (پاکستان ) نے اہم سیاسی جماعتوں کی عدم شرکت کے باعث آل پارٹیز کانفرنس ملتوی کردی ہے ۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا ہے کہ ہماری کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے والی پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے لندن اور قومی پرچم جلانے والوں کے ایجنڈے کو تقویت بخشی ہے ۔آصف زرداری ،نوا ز شریف ،اسفندیار ولی ،عمران خان اور دیگر جماعتوں کی قیادت نے قومی پرچم نذر آتش کرنے والوں کے خلاف بیان کیوں نہیں دیا ۔ہمیں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی کسی سے ضرورت نہیں اور نہ ہی مہاجر قوم کو مدد کے لیے نریندر مودی کی ضرورت ہے ۔فاروق ستار کو مصطفی کمال اور آفاق احمد سے بات چیت کے لیے کسی کانفرنس کی ضرورت نہیں ۔آج کی کانفرنس کسی مہاجر اتحاد نہیں بلکہ پاکستان مخالف سازشیں کرنے والوں کے خلاف تھی ۔ایم کیو ایم (پاکستان) پی ایس پی اور مہاجر قومی موومنٹ کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے گی اور پرویز مشرف سمیت تمام جماعتوں کے ساتھ مفاہمتی عمل جاری رکھیں گے۔ کوئی خوش فہمی میں نہ رہے کراچی کا ووٹ بینک تقسیم نہیں ہوا ۔آج کی قومی کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کا کراچی سمیت سندھ کے عوام بائیکاٹ کردیں گے ۔الطاف حسین امریکی سینیٹر اور دیگر کے ساتھ مل کر پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازش کررہے ہیں ۔آج کے بعد اگر کسی نے ہماری حب الوطنی پر سوال اٹھایاتو اسے پاکستان دشمن سمجھوں گا ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ اب انصاف ہونا چاہیے ۔مقتول ہماری صفوں میں ملیں گے لیکن انشاء اللہ قاتل نہیں ملیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو مقامی ہوٹل میں ایم کیو ایم پاکستان کے تحت کثیر الجہتی کانفرنس ملتوی ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قبل ازیں فاروق ستار کی زیر صدارت پارٹی کے اجلاس میں کثیر الجماعتی کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں خواجہ اظہار، عامر خان اور فیصل سبزواری بھی موجود تھے۔ایم کیو ایم کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کثیر الجماعتی کانفرنس کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ایم کیو ایم (پاکستان ) نے گزشتہ روزکراچی میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ق، پاکستان پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، سنی تحریک اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کی تھی۔کثیر الجماعتی کانفرنس ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کہڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہاکہ ہم نے آج بہت اخلاص ، سنجیدگی کے ساتھ اور ایک بہت بڑے مقصد کیلئے کثیر الجماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا ، ہم نے اس سلسلے میں بہت محنت کی ، تمام پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا ، ہم نے وفود بھیجے ، ہم ان سیاسی جماعتوں دفاتر گئے لیکن بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ کل رات تک تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے شرکت کی مکمل یقین دہانی کے بعد آج اچانک صبح ہم نے مختلف چینلز پر یہ ٹکر چلتے ہوئے دیکھے کہ ایک ایک کرکے بڑی اور اہم سیاسی جماعتوں نے اچانک ہماری کثیر الجماعتی کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور ہمیں اس کا قطعی علم نہیں تھا اس بات کا علم میڈیاکے ذریعے ہوا کہ وہ جماعتیں اب ہماری کانفرنس میں نہیں آرہی ہے یہ ہمارے لئے صدمے اور اچھنبے کی بات تھی کہ یہ اچانک فیصلے کیسے ہوئے ، میں بڑے وثوق سے کہ رہا ہوں پیپلزپارٹی کے بڑوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ، پی آئی ٹی کے چوٹی کے رہنماؤں کی طرف سے بھی یقین دہانی کرائی گئی انہوں نے بھی آنے سے انکار کردیا ، اے این پی اور دیگر جماعتوں نے کہاکہ ہم کانفرنس میں شریک ہوں گے اور جائیں گے اور ان کی عدم شرکت کا فیصلہ ہماری سمجھ سے بالا تر اور ناقابل فہم ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جس اہم مقاصد کیلئے ہم نے کثیر الجماعتی کانفرنس کا انعقا دکیا تھا مختلف جماعتوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ اس بڑے مقصد سے انحراف اور بائیکاٹ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے پی ایس پی ، مہاجر قومی موومنٹ حقیقی ، مہاجر اتحاد تحریک ، پی ایم ایل ، آل پاکستان مسلم لیگ ، پی ڈی پی ، جے یو آئی سمیع الحق ، مجلس وحدت المسلمین ، پرویز علی شاہ، مہاجر رابطہ کونسل ، خاکسار تحریک کے رہنماؤں کا کانفرنس میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جن جماعتوں نے میڈیا کے ذریعے ہمیں بتائے بغیر بائیکاٹ کیا ہم اہم اوربڑے مقصد کیلئے سب کو اونر شپ دینا چاہتے تھے یہ معمولی واقعہ نہیں ہے یہ سندھ کے شہروں کی سب سے بڑی اور دوسری بڑی سیاسی جماعت کی طرف سے بلائی گئی کثیر الجماعتی کانفرنس تھی اور اچانک اس کانفرنس سے بھاگنے کے عمل سے ہم اسے ملتوی کرنے پر مجبورہوئے، انہوں نے کہا کہ ہماراسفر 22، اگست 16ء سے 22اگست 17ء تک ہے تو اس ایک سال میں ہم نے کیا جدوجہد کی اور پاکستان کی سلامتی کو جو خطرات درپیش ہیں ، پاکستان کی سلامتی کو ہی پیش نظر رکھتے ہوئے گزشتہ سال کراچی پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر تھے اور ہم نے ایک ایسا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وفد پاک سر زمین کے ہیڈ آفس گیا بلکہ دو دہائیوں کے بعد یا پچیس سالوں کے بعد آفاق احمد سربراہ مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے گھر بھی گیا تو کیا باقی سیاسی جماعتوں نے ہمارے اس عمل کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا ؟ کیاایک وسیع البنیاد اشتراک عمل کی مثبت تعمیری کوششوں کو یہاں آکر ہمارے ساتھ کھڑے ہوکر ہمارے اس عمل کو سپورٹ کرکے آج کی اس کانفرنس کو کامیاب نہیں کرنا چاہیے تھا؟انہوں نے تو 22اگست کے ہمارے گزشتہ سال کے اقدام کو مسترد کیا آج ہماری اس کانفرنس میں شریک نہ ہوکر پی پی پی ، اے این پی ، جماعت اسلامی ، پی ایم ایل کیو نے 23اگست کے اقدام کو مسترد کیا اور کل جو ہم پی ایس پی اور ایم کیوایم حقیقی کے دفتر پر گئے اور ہم نے ان سے مفاہمت کی بات کی ایک بڑے مقصد کیلئے ہم نے کہاکہ ہمارا ساتھ دیں تو گویا ہمارے اس عمل کو مسترد کیا ، گزشتہ سال پاکستان مخالفت کے جو نعرے لندن سے لگے ، الطاف حسین نے جو نعرے لگائے ہم نے ان نعروں کو اس وقت بھی مسترد کیا ، پاکستان مخالف عمل کی مذمت کی اور خود کو مکمل طو رپر اس سے علیحدہ کیا تو آج ہماری کانفرنس میں شرکت نہ کرکے الطاف حسین اور لندن کی طرف سے پاکستان مخالف نعروں کی تقریر کی پی پی پی ، پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی ، پی ایم ایل کیو نے اس کی توثیق کی ہے ، اس سال 14اگست کو جو ہوا ، قتل و غارتگر ی کا سلسلہ شروع ہے ، پی ایس پی کے کارکنان کو شہید کیا اور ایم کیوایم کے کارکن کو شہید کیا گیا ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شہید اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ اب انصاف ہوناچاہئے ، قاتل پکڑے گئے ہیں ان پر مقدمہ چلنا چاہئے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوناچا ہئے ، قاتل ثبوت و شواہد کے ساتھ پکڑے گئے ہیں تو جلد از جلد مقدمات چلنا چاہئے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے جو عہد کیا اس کو دہراؤں گا کہ ہم نے 23اگست کو جب 22اگست کو مسترد کیا اور جب ہم کھڑے ہوئے تو ہم نے سیاسی ، تنظیمی اورشعوری طور پر اس بات اور پالیسی پر سختی سے ساتھ کاربند ہیں کہ عدم تشدد اور عدم تصادم ہم یہ کلچر سندھ کے شہروں اور انشاء اللہ پاکستان میں اس کلچر کو قائم کریں گے بالعموم کسی بھی طرح کے تشدد اور قتل و غاتگری کو مسترد کردیں گے۔

مزید : کراچی صفحہ اول