کرک،عوام کا پانی ،صحت،تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کیخلاف احتجاج

کرک،عوام کا پانی ،صحت،تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کیخلاف ...

کرک (بیورورپورٹ) لواغرچنی خیل کے عوام کا پانی ، سڑک صحت تعلیم اوردیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کیخلاف احتجاج،4 گھنٹے تک کرک صابرآباد روڈ ٹریفگ کیلئے بند منتخب نمائندے ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرے ہمیں زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں مقررین کا خطاب ڈپٹی کمشنر نے7 دن کے اندر مطالبات پرکام شروع کرنے کی یقین دہانی کرادی تفصیلات کے مطابق لواغر چنی خیل کے سینکروں افراد نے ڈسٹرکٹ کونسلر ملک حیات اللہ تحصیل کونسلر عبدالصبور جنرل کونسلر عبداللہ، ملک میرا خان، مولانا غنی بادشاہ، مولانا عبدالشکور ، مولانا عبدالغنی کے قیادت میں کامران شہید چوک میں تاریخی احتجاج کیا اور4 گھنٹے تک سڑک کو ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند رکھا اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی احتجاجی دھرنے میں قومی اسمبلی کے امیدوار سعداللہ خٹک نے خصوصی طور پر شرکت کی احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ لواغر چنی خیل کی مائیں بہنیں6 کلومیٹر دور سے پانی گدھوں اور سروں پرلارہی ہے حالانکہ لواغرچنی خیل کے نام پر2 ٹیوب ویل موجود ہے اور اُن پر مفت میں تنخواہیں لی جاتی ہے اسی طرح سکولوں کی صورت حال بھی ابتر ہے اور سٹاف کی شدید کمی کا سامنا ہے سڑک نہ ہونے کے باعث لواغر چنی خیل کا دوسرے علاقوں سے مواصلاتی رابطہ منتقطع ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ4 سال قبل علاقے کی منتخب ایم پی اے نے محرومیوں کے ازالے کے اعلانات کئے تھے مگر وہ ہوائی قلعے ثابت ہوئی بعدازاں ڈی ایس پی ہیڈ کواٹہ عابد خان آفریدی کی مداخلت پر ملک حیات اللہ کی سربراہی میں وفد نے ڈپٹی کمشنر کرک عابد وزیر سے ملاقات کی اور اُنہیں اپنے مطالبات پیش کیئے ڈپٹی کمشنر کرک نے وفد کو یقین دلایا کہ1 ہفتے کے اندر سکولوں میں سٹاف کی کمی کو پورا کیا جائیگاں اور دیگر مطالبات پربھی1ہفتے کے اندر کام شروع کیا جائیگاں حکومت عوام علاقہ کی ہرممکن مدد کریگی اور اُن کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرینگی بعدازاں احتجاجی مظاہرین نے منشران کی کامیاب مذاکرات پر اپنا احتجاج ختم کیا اور کہا کہ1 ہفتے کے اندر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تودوبارہ سخت ترین اختجاج کیا جائیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر