مقبوضہ کشمیر میں بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہاہے،دریس عباسی

مقبوضہ کشمیر میں بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہاہے،دریس عباسی

  

مظفرآباد(بیورورپورٹ)برطانوی اراکین پارلیمنٹ یاسمین قریشی ، گراہم جونز ، فیصل رشید ، محمد یاسین اور چیئرمین جموں وکشمیر حق خودارادیت یورپ راجہ نجابت حسین پر مشتمل وفد کو سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل محمد ادریس عباسی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال، مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر ،اقوام متحدہ کے کردار اور برہان وانی کی شہادت کے بعد کی صورتحال کے بارہ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے ، آئے روز نہتے کشمیریوں کی پیلٹ گن کے ذریعے آنکھوں کی بینائی سے محروم کیا جارہا ہے جبکہ طاقت کا اندھا دھند استعمال بھی وادی میں جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے ، کشمیری اپنے بنیادی حق حق خودارادیت کے حصول کیلئے بھارت کے ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں ، عالمی برادری کو کشمیریوں کے اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ حق حق خودارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھانا چاہیے ۔ اس موقع پر وفد کے اراکین نے کہا کہ دنیا میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں ،جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اسی طرح ہم امید کرتے ہیں مسئلہ کشمیر بھی جلد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70سال سے کشمیریوں کے ساتھ ناانصافیاں ہورہی ہیں یہ مسئلہ اب حل ہو جانا چاہیے تاکہ کشمیری آئندہ زندگی سکون سے گزار سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیریوں کو ملنا چاہیے ، دنیا اب گلوبل ویلج بن چکی ہے ،کشمیریوں کا مسئلہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچایا جائے۔ انٹرنیشنل کمیونٹی اور برطانیہ کشمیریوں سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتی ہے اور ان پر عمل درآمد کی خواہاں ہے ۔ کشمیری تارکین وطن مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو مسئلہ کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے موثر کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر آپریشن راجہ محمد اسلم خان ، ڈائریکٹر جنرل کشمیر کلچرل اکیڈمی چوہدری شفقت، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوآرڈینیشن سرفراز عباسی اور انچارج آڈیو ویژل یونٹ بابر بشیرو دیگر بھی موجود تھے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -