پاکستان کو بھی امریکی پالیسی کے حوالے سے کھل کر مؤقف اپنانا چاہیے جس کے نتائج سامنے آئیں ٗمشاہد حسین سید

پاکستان کو بھی امریکی پالیسی کے حوالے سے کھل کر مؤقف اپنانا چاہیے جس کے ...

  

اسلام آباد (این این آئی)سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھی امریکی پالیسی کے حوالے سے کھل کر مؤقف اپنانا چاہیے جس کے نتائج سامنے آئیں ۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیاسے بات چیت کے دوران انہوں نے کہاکہ امریکہ سپر پاور اور خود امریکی صدر بزنس مین ہیں اتنی سوچ کے بعد پاکستان بارے پالیسی پرانی بوتل میں پرانی شراب ہے۔ امریکہ نے 16 سالوں میں افغانستان کے اندر قائم کرنے سمیت تعمیر و ترقی میں ناکام رہا بلکہ امریکہ کی فوج افغانستان میں 40 فیصد علاقے پر بھی مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکی اور افغانستان وہیں کھڑا ہے جہاں سے آغاز ہوا تھا۔ امریکہ افغانستان میں 16سال قبل آیا تھا اور افغانستان پر اب تک ایک کھرب ڈالر ضائع کرچکا ہے پھر بھی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو مارا گیا، اب امریکہ افغانستان کے اندر بھارت کو لانا چاہتا ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان ، روس، ایران اور چین سمیت دیگر ممالک مل کر امریکہ کے سامنے افغانستان کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف اپنائیں اور پاکستان کو بھی امریکی پالیسی کے حوالے سے کھل کر مؤقف اپنانا چاہیے جس کے نتائج سامنے آئیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس گیا ہے ، خود امریکی صدر اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بن گئے ہیں جبکہ امریکہ میں تھنک ٹینکس نے سوچ سمجھ کر حکمت عملی بناتے ہیں ، یہ ایک ناکام حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے 16 سال سے ناکامی ان کے حصے میںآرہی ہے۔

مشاہد حسین سید

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -