قومی سلامتی برائے فروخت

قومی سلامتی برائے فروخت
قومی سلامتی برائے فروخت

  

میں ایک نیم تاریک کمرے میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ ہر طرف مکمل خاموشی تھی۔ میرے سامنے قائداعظم کی تصویر نمودار ہوئی۔ ذرا غور کیا تو بابائے قوم کی آنکھیں نم تھیں ۔ قائد کے ہونٹوں میں حرکت محسوس ہوئی۔ وہ فرما رہے تھے۔ ’’کیا یہ ہے میرا پاکستان۔ ایک مکمل خود مختار آزاد ، اسلامی فلاحی ریاست؟‘‘ میرا جواب تھا نہیں۔

اگر میں تفصیل سے ذکر کروں تو وطن فروشوں کی طویل فہرست ہے۔ جنرل یحٰیی خان سے موجودہ وزیر اعظم تک سب نے پاکستان کی قومی سلامتی اور خود مختاری کو حسب توفیق نقصان پہنچایا۔ تاریخ کے اوراق پڑھے تو حیران تھا کہ کیسے ایک بد کردار عیاش شخص یحیٰی خان پاکستان کی مسلح افواج کا سربراہ بن گیا، اس شخص کو جنرل ایوب خان نے مسلط کیا۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ اس کے بعد نام آتا ہے قائد جمہوریت ذوالفقار علی بھٹوکا۔ جنہوں نے اقتدار کی خاطر اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگایا اور پاکستان کو دو لخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ ۱۹۸۸ میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں۔ اس وقت بھارتی پنجاب میں سکھوں کی علیحدگی کی تحریک عروج پر تھی۔بھارتی وزیر اعظم نے بے نظیر سے مدد مانگی۔ بینظیر کے حکم پر اس وقت کے وزیر داخلہ اعتزاز احسن نے سکھ حریت پسندوں کی لسٹیں بھارت کے حوالے کردیں اور یوں بھارت مشرقی پنجاب پر اپنا تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا۔

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سب سے زیادہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نواز نکلے۔ بھارت سے دوستی ین کا دیرینہ خواب ہے۔ جسے انہوں نے اپنے ہر دور حکومت میں شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشیش کی ہے۔ نوے کی دہائی میں پاکستان کے شہری ایمل کانسی کو گرفتار کروانے میں نواز شریف کے موجودہ دبنگ وزیرداخلہ چوہدری نثار جو اس وقت وزیر پٹرولیم تھے ،انہوں نے نواز شریف کے حکم پر امریکیوں او۔جی۔ڈی۔سی۔ایل کی گاڑیاں فراہم کی اور فضائی سہولت بھی فراہم کی۔ پہلے اندر کمار گجرال جو بھارتی وزیر اعظم تھے ان کو کشمیری مجاہدین کی لسٹیں فراہم کیں۔ بھر اٹل بہاری واجپائی کو مینار پاکستان پر لے جا کر دو قومی نظریے کی توہیں کی۔ اس واقعے کے بعد جماعت اسلامی پاکستان نے مینار پاکستان کو غسل دیاتھا۔

۱۹۹۹ میں گارگل میں پاکستان کی افواج نے بھارت کو ایسا دبوچا کہ قریب تھا بھارت کشمیر سے اپنی افواج نکال لیتا اور پاکستان کی شہہ رگ پاکستان میں شامل ہو جاتی مگر ایک بار پھر نواز شریف نے بھارت نوازی کا ثبوت دیا اور پاکستان کی افواج کو کارگل سے واپس بلا کر کشمیر کی آزادی کا سہانا موقع گنوا دیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ نواز شریف نے پاک فوج کے خلاف منظم مہم چلائی، مبینہ طور پرروگ آرمی پمفلٹ تقسیم کروائے ۔

۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا۔ امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرنام نہاد حملوں کے بعد جنرل مشرف نے امریکہ کو افغانستان پر حملے کے لیے خطرناک حد تک ائیربیس اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ امریکن سی۔آئی۔اے اور بلیک واٹر نے یہاں اپنا نیٹ ورک مضبوط بنا لیا۔ پاکستان غیر الاعلانیہ جنگ میں پھنس گیا۔ اس وقت کے حکمران جنرل مشرف نے کئی پاکستانی شہریوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا۔ جن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی شامل تھیں۔ بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کا قتل مزید انارکی کا باعث بنا۔ پاکستان کا امن تباہ ہوا۔ لیکن پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والا سابق صدر کمر درد کا بہانہ بنا کر دبئی میں عیاشی کر رہا ہے۔

۲۰۱۲ میں لاہور میں امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس نے سرعام دو پاکستانی نوجوانوں کو قتل کر دیا۔ لیکن ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بدلے امریکی وزیر خارجہ سے اپنے اقتدار کی یقین دہانی حاصل کر کے ن قیادت نے پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا۔ یاد رہے اس وقت پنجاب میں نواز شریف کے بھائی شہباز شریف برسر اقتدار تھے۔ حال ہی میں ریمنڈڈیوس نے اپنی کتاب میں اس با ت کا اعتراف بھی کیا ہے کہ کس طرح نواز شریف اور شہباز شریف نے اس کی رہائی کے لیے ملکی مفاد کو نقصاب پہنچایا۔

۲۰۱۳ میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے بعد سے اب تک کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نوازشریف نے آج تک ایک بھی لفظ بھارت کی مذمت میں نہیں بولا۔ بلکہ قومی سلامتی کے اداروں نے بے شمار ثبوت فراہم کیے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہے مگر نواز شریف نے اس معاملے کو کبھی بھی عالمی سطح پر نہیں اٹھایا۔ یہاں تک کہ ایوان وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد پاکستان کی مسلح افواج اور حساس اداروں کے خلاف ایک انگلش اخبار میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے خبر چھپوائی۔ لیکن معلوم نہیں کون سی مفاہمت کے تحت اصل ذمہ داروں کو بچا لیا گیا۔ پاکستان کی سلامتی کے اداروں نے بلوچستان سے بھارتی نیوی کے حاضر سروس آفیسر ،را کے ایجنٹ کلبہوشن یادیو کو گرفتار کیا۔ اس کی گرفتاری اس وقت ظاہر کی جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر تھے، مگر وزیر اعظم نہ جانے کس مصلحت کے تحت خاموش رہے۔ بلکہ آج تک وزیر اعظم نے کلبہوشن یادیو کا نام نہیں لیا۔ پھر بھارتی جاسوس کے خلاف ملٹری کورٹ میں کیس چلا اور اعتراف جرم کے بعد کلبہوشن یادیو کو سزائے موت کی سزا سنا دی گئی۔ نواز شریف نے یہاں بھی بھارت کی خوشنودی کے لیے اپنے بھارتی بزنس مین دوست جندال کو پاکستان بلوایا۔ بغیر ویزے کے اسے مری لے گئے۔ اور اس کو بتایا کے میں نے عالمی عدالت انصاف کی لازمی ثالثی کے معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں ۔ بھارت کلبہوشن کے معاملے کو علمی عدالت میں لے جائے۔ شریف خاندان کی رمضان شوگر مل میں موجود بھارتی انجینرز کے روپ میں را کے ایجنٹوں کی موجودگی بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ گزشتہ چار سالوں میں ریکارڈ بھارتیوں کو پاکستانی شہریت دی گئی۔

جندال کے دورے کے کچھ دن بعد بھارت اس معاملے کو عالمی عدالت میں لے گیا۔ نواز شریف نے عالمی عدالت میں پاکستانی جج کی تقرری سے اجتناب کرتے ہوئے ایک ایسے وکیل کو کیس سونپ دیا جس کو کوئی تجربہ نہ تھا۔ عالمی عدالت نے کلبہوشن تادیو کی پھانسی پر حکم امتناعی جاری کر دیا۔

اب جب شریف خاندان کی کرپشن پر جے۔آئی۔ٹی اپنی رپورٹ جمع کروا چکی ہے اور کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آ چکے ہیں، سپریم کورٹ سے نواز شریف نااہل ہونے کے بعد ایک بار مسلح افواج اور عدلیہ پر حکومتی وزاء سازش کا الزام لگا رہے ہیں۔

میں بحثیت پاکستانی ،چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کی ذمہ داری ہے پاکستان کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے تمام غداروں کے کیسوں کو ری اوپن کریں، ان کو سزا دیں۔ جو اس دنیا میں نہیں ان کے ناموں سے ملک کے باوقار عہدے بعد از وفات واپس لیں۔ تاکہ آئندہ کوئی بھی پا کستان کی قومی سلامتی کو نقصان نہ پہنچائے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ