الیکشن کمیشن کوتوہین عدالت نوٹس جاری کرنے کااختیارنہیں،جس دن قانون بنے گا، اسی دن سے لاگو ہو گا، بابر اعوان

الیکشن کمیشن کوتوہین عدالت نوٹس جاری کرنے کااختیارنہیں،جس دن قانون بنے گا، ...
الیکشن کمیشن کوتوہین عدالت نوٹس جاری کرنے کااختیارنہیں،جس دن قانون بنے گا، اسی دن سے لاگو ہو گا، بابر اعوان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کوتوہین عدالت کانوٹس جاری کرنے کااختیارنہیں، اگرالیکشن کمیشن کاادارہ کمیشن ہے تووہ عدالت نہیں ہوسکتا، آئین کےمطابق الیکشن کمیشن خودمختارادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ قانون نہ ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن شوکاز نوٹس جاری کر رہا ہے ،کل پاس ہونے والے بل میں الیکشن کمیشن کو اختیار دینے کا کہا گیا ہے اورجو قانون ابھی بنا نہیں اس کا عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس دیناغلط ہے ،بابر اعوان نے کہا کہ ایک دوروز میں اپیلٹ ٹریبونل میں جارہے ہیںاور قانون جس دن سے بنے گا اسی دن سے لاگوہوگا۔انہوں نے کہا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، یہ ترمیم20کروڑلوگوں کےلئے نہیں گاڈفادرکوبچانے کیلئے لائی جارہی ہے، آئین کوکوئی بل ختم نہیں کرسکتا، آئین کوآئین ہی ختم کرسکتاہے، انہوں نے کہا کہ دونوں قوانین کا مطلب کرپشن بچاؤ مہم نہیں کرپشن بڑھاؤ مہم ہے، حکومت ووٹوں کےلئے احتساب کمیشن کے نام کا بل لا رہی ہے، پی ٹی آئی،وکلانوازشریف کوبچانے کیلئے ترمیم کی مخالفت کریں گے، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا تھا کہ 1976کے قانون میں موجودہونے کامطلب ہے کہ یہ بھٹو کے دورمیں بنا، عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 میں آرٹیکل62 اور 63 موجودہیں اور1973کے آئین میں 62 اور 63 دونوں موجود ہیں، اور اب نواز شریف کےلئے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا،حکومت ترمیم لائی تویہ ٹیلرمیڈقوانین ہوں گے، بابر اعوان نے کہا کہ افغان پالیسی پر پہلے چین نے ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کیا ،پاکستان کے وزیر خارجہ کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے،ہماری وزارت خارجہ نے اب تک کوئی بیان نہیں دیا،انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کاامریکاکے بیان پر موقف مردہ حکومت کے برابر ہے ، ایل این جی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ سعودی عرب جا رہے ہیں۔

مزید :

اسلام آباد -