امریکا کو مزید گھبراہٹ میں مبتلا کریں گے، وہ وقت دور نہیں جب افغانستان امریکی سلطنت کیلئے قبرستان بن جائے گا: ذبیح اللہ مجاہد

امریکا کو مزید گھبراہٹ میں مبتلا کریں گے، وہ وقت دور نہیں جب افغانستان ...
امریکا کو مزید گھبراہٹ میں مبتلا کریں گے، وہ وقت دور نہیں جب افغانستان امریکی سلطنت کیلئے قبرستان بن جائے گا: ذبیح اللہ مجاہد

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی پر تحریک طالبان افغانستان کا بھی باقاعدہ رد عمل آگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام اور طالبان امریکا کو مزید گھبراہٹ میں مبتلا کریں گے اور امریکی حکمرانوں کو حقائق تسلیم کرنے پر مجبور کریں گے، وہ وقت دور نہیں جب افغانستان اکیسویں صدی کی امریکی سلطنت کے لیے قبرستان بن جائے گا۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی پر اپنے رد عمل میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں اپنی جارح فوج کی موجودگی پر اصرار کرتے ہوئے افغانستان کو امریکا کے لیے خطرہ سمجھا ہے۔ایسے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اپنی طویل ترین جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتا ۔ وہ حقائق کا ادراک کرنے کے بجائے اپنی طاقت اور فوج پر مزید مغرور ہے، مگر افغانوں نے گزشتہ 16 برسوں کے دوران امریکی جارحیت کو اپنا امتحان دیا ہے۔ جب تک ایک امریکی فوجی بھی افغانستان میں موجود رہے گا اور امریکی حکمران جنگی پالیسی اپنائے رکھیں گے تو ہم بلند حوصلے اور بھرپور عزم کے ساتھ امریکا کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔ ’امریکی غاصبوں سے افغان سرزمین کی آزادی ہماری ملت کا مذہبی فریضہ اور ملکی ذمہ داری ہے۔ ہم اس ذمہ داری کو تب تک نبھاتے رہیں گے، جب تک ہمارے جسم میں دم ہے‘۔

پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود، اسلام آبادکو طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ کا نئی افغانپالیسی کا اعلان

انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا امریکا کے لیے لازم تھاکہ وہ افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کے بجائے اپنی فوج کے انخلا پر غور کرتا، جس طرح ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’افغان طویل جنگ نے امریکا کو گھبراہٹ میں مبتلا کیا ہے۔‘ ہم امریکا کو مزید گھبراہٹ میں مبتلا کریں گے اور امریکی حکمرانوں کو یہاں کے حقائق تسلیم کرنے پر مجبور کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دیں،عالمی برادری کوششوں کو تسلیم کرے: چینی وزیر خارجہ

ذبیح اللہ مجاہد نے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان مجاہد عوام اپنے استقلال اور خود داری و آزادی کے حصول اور یہاں اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں خستہ حال ہوئے ہیں اور نہ ہی تھک کر بیٹھ جائیں گے۔ اگر امریکا اپنی فوج کو ہماری سرزمین سے نہیں نکالتا تو وہ وقت دور نہیں جب افغانستان اکیسویں صدی کی امریکی سلطنت کے لیے قبرستان نہ بن جائے، اور یہ بات امریکی حکام تب ہی سمجھ سکیں گے۔ افغانستان کسی کے لیے خطرہ ہے اور نہ ہی ہماری سرزمین سے کسی کو نقصان پہنچا ہے۔ مَن گھڑت دعوے اور انٹیلی جنس پروپیگنڈوں کے زیرِاثر آ کر جنگ جاری رکھنا بذات خود جنگ اور مصیبت کا سبب بنا ہے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں