سعودی شہری کی جانب سے بنائی گئی ایک موبائل ایپ جس نے پاکستانیوں کو دیوانہ کر دیا، پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گئی، اس ایپلی کیشن میں آخر ایسا کیا ہے؟ جان کر آپ بھی فوراً اپنے موبائل فون میں انسٹال کر لیں گے

سعودی شہری کی جانب سے بنائی گئی ایک موبائل ایپ جس نے پاکستانیوں کو دیوانہ کر ...
سعودی شہری کی جانب سے بنائی گئی ایک موبائل ایپ جس نے پاکستانیوں کو دیوانہ کر دیا، پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گئی، اس ایپلی کیشن میں آخر ایسا کیا ہے؟ جان کر آپ بھی فوراً اپنے موبائل فون میں انسٹال کر لیں گے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سمارٹ فون کی دنیا میں کچھ ایسی ایپلی کیشنز بھی آئیں جنہوں نے یا تو کوئی نیا تنازع شروع کر دیا یا پھر لوگوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم میسر کیا جو اس سے پہلے انہیں کے پاس نہیں تھا۔ساراہاہ بھی ایک ایسی ہی ایپلی کیش ہے جس نے آتے ہی پاکستانیوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے اور لوگ اسے اس قدر پسند کر رہے ہیں کہ ٹوئٹر پر اس کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”میں چاہتا ہوں کہ۔۔۔“ کلثوم نواز کی بیماری کا پتہ چلتے ہی شہباز شریف نے ایسا پیغام جاری کر دیا جو سیدھا نواز شریف کے دل میں اتر جائے گا، کیا کہا؟ جان کر مریم نواز کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں گی

لیکن یہ ایپلی کیشن کیا کرتی ہے اور اسے استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟ تفصیلات جان کر ناصرف آپ اسے فوراً انسٹال کر لیں گے بلکہ اپنے دوستوں اور قریبی عزیزوں کو بھی اسے انسٹال کرنے کی دعوت دے ڈالیں گے۔

یہ ایپلی کیشن ایک میسجنگ سروس ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر اپنے دوستوں، رشتہ داروں، قریبی عزیزوں حتیٰ کہ اپنے ”باس“ کے بارے میں وہ کچھ کہہ سکتا ہے جس کا اظہار وہ کبھی نہیں کر پایا اور پیغام موصول کرنے والے شخص کو کسی بھی طرح سے یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ اسے کون شخص پیغام بھیج رہا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ سروس ایک ویب سائٹ کی صورت میں سامنے آئے جسے سعودی شہری این العابدین توفیق نے بنایا اور اس کا مقصد بھی بہت سادہ تھا۔ اس کے ذریعے دفاتر میں کام کرنے والے افراد کو اپنی شناخت ظاہر کئے بغیر اپنے ساتھیوں کے بارے میں رائے دینا ہی اس کا مقصد تھا۔

اس ویب سائٹ نے ان لوگوں کو بھی بولنے کی ’طاقت‘ فراہم کر دی جو بہت کچھ کہنا چاہتے تھے مگر اس ڈر سے نہیں کہہ پاتے تھے کہ کہیں انہیں نوکری سے ہی نہ نکال دیا جائے۔ بعد ازاں اس ویب سائٹ کے بنانے والے زین العابدین توفیق نے سوچا کہ اس سروس کو مزید جدید کرنا چاہئے تاکہ کوئی انفرادی شخص بھی اپنی ذات کے بارے میں اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے رائے لے سکے جبکہ رائے دینے والوں کی شناخت بھی ظاہر نہ ہو۔

اور اس وجہ سے ہی یہ ایپلی کیشن اتنی شہرت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئی ہے۔ رواں سال 13 جون کو توفیق نے یہ ایپلی کیشن متعارف کروائی جو آئی فون اور اینڈرائڈ دونوں کیلئے ہی دستیاب ہے، یہ ایپلی کیشن جیسے ہی منظرعام پر آئی تو جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور تھوڑے سے وقت میں ہی مفت دستیاب ایپلی کیشنز کی فہرست میں ٹاپ تھری میں آ گئی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”این اے 120 الیکشن، میں نے (ن) لیگ کے اس شخص کی تعریف کی تو مجھے دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں کہ۔۔۔“ سینئر صحافی نے انتہائی حیران کن انکشاف کر دیا، کس نے اور کیا دھمکی کی؟ کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ (ن) لیگ کے۔۔۔

ساراہاہ کی مقبولیت کی واحد وجہ صرف اور صرف پیغام بھیجنے والوں کی شناخت ظاہر نہ ہونا ہے کیونکہ جب بھی لوگوں کو ایسی کوئی سروس ملتی ہے جس میں ان کی شناخت ظاہر نہ ہو سکے اور وہ اپنے دل کی بات کہہ سکیں ، تو لوگوں نے ہمیشہ ہی اسے بے حد پسند کیا ہے۔ دوسری جانب بہت سے والدین اور بچوں نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ لوگوں کو ہراساں کرنے والوں کیلئے اس ایپلی کیشن کی صورت میں ایک اور پلیٹ فارم مہیا ہو گیا ہے اور بہت سے لوگوں کو غلیظ اور غیر اخلاقی پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں جس کے باعث بہت سے لوگ اس سے نالاں بھی نظر آتے ہیں۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی